Column

آبنائے ہرمز کیا ہے ؟ شور دنیا بھر میں کیوں؟

آبنائے ہرمز کیا ہے ؟ شور دنیا بھر میں کیوں؟
تحریر: امتیاز یٰسین
آبنائے ہرمز بحیرہ عرب میں بحری تجارتی جہازوں، بیڑوں کی ایسی گزر گاہ ہے، جہاں سے خلیج فارس، خلیج عمان کے ممالک کا ساڑھے چھ سو ارب ڈالر سے زائد کی پٹرولیم مصنوعات اور دیگر اشیاء اسی بحری راہداری سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ یہ تقریباً 33کلومیٹر چوڑی بحری پٹی ہے، جس کی لمبائی ایک سو پچاس سے ایک سو ساٹھ کلو میٹر ہے۔ یہ خطہ ایران کے جنوب سے گزرتی ہے۔ ایران کی اپنی پٹرولیم مصنوعات اور دیگر ساز و سامان کی برآمدات و درآمدات اسی راستے سے دنیا بھر کی منڈیوں تک رسائی ہوتی ہے۔ محتاط اندازے کے مطابق سعودی عرب، کویت، بحرین، متحدہ عرب امارات، ایران، عراق، عمان، ایران، پاکستان کے درجنوں بحری جہاز روزانہ خام تیل اور دیگر تجارتی مال کی ٹرانزیکشن لیکر اسی تنگ بحری پٹی سے گزرتے ہیں۔ اس سمندری گزر گاہ سے دنیا بھر کی کم از کم تیس فیصد پٹرولیم مصنوعات کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ اگر یہ آبی راہ چند گھنٹے کے لئے بندش یا جہازوں کے نقل و حمل میں رکاوٹ بن جائے تو دنیا بھر کی آئل کی منڈیوں اور دیگر اشیا کا شدید بحران پیدا ہو جاتا ہے۔ آئل میں حائل ایسی کوئی بندش نہ صرف قدرتی مائع تیل کی کمی کا باعث بنتی ہے، بلکہ پٹرولیم مصنوعات سمیت دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں عدم استحکام کا شکار ہو جاتی ہیں۔ یہی وہ واحد گزر گا ہے جہاں سعودی عرب، قطر اور متحدہ ارب امارات سے آئل یورپ اور شمالی امریکہ لے جایا جاتا ہے۔28فروری کو اسرائیل نے اپنے اتحادی امریکہ کے ساتھ مل کر ایران پر فوج کشی کی تو اس کے اثرات بالخصوص مشرقِ وسطیٰ پر فوری پڑنے شروع ہو گئے۔ مشرقِ وسطیٰ مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ کا ایک ایسا جغرافیائی خطہ جس کی حدیں اسرائیل، یمن، اردن، عمان، اور فلسطین وغیرہ تک جا ملتی ہیں ایران اسرائیل محاذ آرائی سے یہ ممالک سمیت پاکستان پر شدید منفی معاشی اثرات مرتب کئے۔ جس سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نہ صرف چڑھائو آیا بلکہ شدید قلت کے سامنے سے معیشت نقصان سے دوچار ہو رہی ہے۔ اس جنگ کو اب سولہ روز سے زائد گزر چکے ہیں، ایران نے اپنے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت سمیت اہم ملکی لیڈروں و شخصیات، عوام، بچوں کو اس جنگ میں کھو دیا لیکن وہ اپنی خود اختیاری،خود مختاری اور خود داری پر آنچ لانے کو تیار نہیں اور جنگ جاری رکھنے میں پر عزم دکھائی دیتا ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے یہ گزر گاہ جزوی طور پر بند کر دی ہے۔ ایران نے متنبہ کیا ہے کہ اسرائیل، امریکہ کے بحری بیڑوں کو کسی صورت یہاں سے گزرنے نہ دیا جائے گا۔ ایران کے ایسے اقدام سے امریکہ اسرائیل میں بھی شدید تیل کی قلت پیدا ہو چکی ہے گزشتہ روز عالمی تیل کی منڈی میں برینٹ ( خام آئل) کی قیمت 103.14ڈالر فی بیرل ریکارڈ ہوئی جو تاریخی طور پر ایک بلند ترین قیمت ہے۔ جبکہ WITویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ تیل کی قیمتیں بھی اپنی بلند ترین سطح99.31ڈالر فی بیرل کو چھو رہی ہیں۔ امریکہ میں آئل کی قیمتیں بیس سے پچیس فیصد سے بڑھ کر مزید آگے کو جا رہی ہیں۔ امریکہ نے آبنائے ہرمز کے بندشی اقدام پر ایران کے آئل کے سب سے بڑی ذخیرے کے جزیرے خارگ میں حملے کئے ہیں لیکن ایران ایسی کسی بھی جارحیت کو خاطر میں لائے بغیر اپنے مزاحمتی و مدافعتی پالیسیوں کے ساتھ جنگ کو فیصلہ کن مراحل میں پہنچانے کا عزم کئے ہوئے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے خود ایرانی معیشت کو بھی تباہی کا سامنا ہے، کیونکہ ایران اپنے آئل کی پیداوار کا تراسی فیصد انہی راستوں سے ایشیائی ممالک کو فروخت کرتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے تعطل سے پوری دنیا آئل بحران کا شکار ہو چکی ہے۔ امریکہ، اسرائیل اس اقدام سے بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ حالات متقاضی ہیں کہ امریکہ کو دنیا فوری جنگ بندی پر زور دے اور ایران پر متنوع بہانوں کی آڑ میں بار بار لشکر کشی سے منع کیا جائے۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری دنیا کی معیشت اور امن کو سہارا دینے کے لئے فوری اقدامات اٹھائیں، جس کا واحد حل ایران، اسرائیل جنگ بندی ہے۔

جواب دیں

Back to top button