Column

ایران کا کہنا مخول نہ تھا

ایران کا کہنا مخول نہ تھا
صورتحال
سیدہ عنبرین
دو روز میں ایران فتح کرنے کا خواب دیکھنے والے دو شیطان سترہ روز گزر جانے کے بعد بھی اپنے اہداف حاصل نہ کر سکے ۔ ایران نے ان دونوں شیطانوں کا بہت کچھ بند کر دیا ہے، جن میں ایک تیل بھی ہے، ایران کے آبنائے ہرمز بند کرنے کے بعد دنیا کو آٹے، دال کا بھائو معلوم ہونے لگا ہے، مزید آنکھیں اس وقت کھل جائیں گی جب باب المندک بھی بند ہو جائے گا، جو تیل کی ترسیل میں اہم مقام ہے۔ یمنی فوج اس کی تیاری مکمل کر چکی ہے۔ ریڈ سی میں اب وہ منظر نظر آئے گا جس کا امریکہ اور اسرائیل نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ تیل کی یہ گزر گاہ بند بھی ہو گی اور یہاں قریب آنے والے نا پسندیدہ بحری تجارتی جہازوں کو صرف زخمی کر کے نہیں چھوڑا جائے گا بلکہ انہیں گہرے سمندر میں ڈبونے کا منظر پوری دنیا کو دکھایا جائے گا۔ یہ گزر گاہ بند ہو جانے کے بعد اور پہلے بحری جہاز کے ڈوبنے کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافے کی رفتار کو پر لگ جائیں گے۔ دوسری طرف تیل کو ترستے ہوئے ملک چین کی وہ شرط ماننے کیلئے تیار ہو جائیںگے جس کے مطابق دنیا کے ہر ملک سے تعلق رکھنے والے ملک کو یہ سہولت دی گئی ہے کہ وہ ڈالر کی بجائے یوآن میں تیل خریدیں گے تو وہ آبنائے ہرمز سے گزر سکیں گے۔ بعد ازاں اسی شرط کا نفاذ باب المندک سے گزرنے والوں پر بھی ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے پہلے یورپی ممالک کو یہ کہہ کر اس جنگ میں پھنسانے کی کوشش کی یہ اجتماعی معاملہ ہے آبنائے ہرمز بند ہونے کا نقصان اور اس کے کھلنے کا فائدہ دراصل اجتماعی ہے، لیکن یہ ممالک امریکی جھانسے میں نہیں آئے۔ بیشتر ممالک نیٹو کے ممبر ہیں، لہٰذا اب اسے نیٹو ممالک مسئلہ بنانے کی کوشش جاری ہے۔ نیٹو ممالک یوکرین کے معاملے پر امریکی طرز عمل دیکھ چکے ہیں۔ پس اب کسی دشت تماشے میں نہیں آئیں گے۔ ٹرمپ ڈھٹائی کا یہ عالم ہے کہ اس نے دیگر ممالک کے ساتھ چین کو بھی دعوت دی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کھلوانے میں اپنا حصہ ڈالے، دیگر ممالک میں جاپان، کوریا، برطانیہ اور فرانس شامل ہیں، جو اس حوالے سے انکار کر چکے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کا نشانہ ایران قریباً دو ہفتے کی اعصاب شکن جنگ کے باوجود فولادی چٹان کی مانند ان کے سامنے ڈٹا ہوا ہے۔ اس کے پاس آٹھ، دس لاکھ کی باقاعدہ فوج نہیں، دنیا کی بہترین ایئر فورس بھی نہیں، نہ وہ دنیا کے جدید ترین لڑاکا طیارے رکھتا ہے، اس کے پاس طیارے بنانے کے انتظامات بھی نہیں، اسے دنیا کی بہترین خفیہ ایجنسی رکھنے کا اعزاز بھی حاصل نہیں، وہ ٹینک اوور ہال بھی نہیں کر سکتا، اس کے پاس آرٹلری گنز کا ذخیرہ نہیں، نہ وہ ان کے شیل تیار کر کے ایکسپورٹ کر سکتا ہے، وہ ایٹم بم بھی نہیں رکھتا، وہ پچاس برس سے دنیا سے کٹا ہوا ہے، مگر نان جویں پر زندہ ہے، چھ ماہ کے عرصہ میں اس پر دنیا کی دو نیو کلیئر طاقتوں نے دو مرتبہ بلاجواز حملہ کیا ہے، مگر اس نے دو طاقتور اور خونخوار ریچھوں کو نکیل ڈال دی ہے، اب وہ جدھر نکیل کھینچتا ہے ریچھ ادھر دیکھنے پر مجبور ہیں۔ وہ اپنے میزائلوں کی ڈگڈی بجا رہا ہے، مظلوموں کے کانوں میں رس گھول رہا ہے، اگر آپ کبھی اس منظر سے لطف اندوز ہونا چاہئیں تو پاکستان کے دیہی علاقوں میں ریچھ کا تماشا ضرور دیکھیں۔ اس تماشے میں کچھ تھا یا نہیں، لیکن ایک سبق ضرور تھا کہ خوفناک ترین درندے کو بھی قابو کیا جا سکتا ہے، اسے اپنی مرضی کے مطابق نچایا جا سکتا ہے۔ جانوروں کے حقوق کیلئے بنائی گئی مغربی تنظیموں نے ایک خاص مقصد کیلئے انسانی حقوق کی طرف آنکھیں بند کر لیں اور جانوروں کے حقوق کے تحفظ کیلئے کمر بستہ ہو گئیں۔ ان تنظیموں نے ریچھ پکڑنے اور اسے تماشے کیلئے استعمال کرنے پر پابندی لگا دی، اسی طرح سرکس میں استعمال کیلئے ہاتھیوں کو سدھانا ممنوع قرار دے دیا گیا۔ پس پردہ مقصد یہ تھا کہ طاقتور ترین کہیں مغلوب نظر نہ آئیں، ان کی یہ سوچ نہ ہوتی وہ دنیا میں وسائل پر قبضوں کی جنگوں میں بے گناہ نہتے انسانوں پر ظلم کرنے والوں کے ہاتھ روکتے، ہسپتالوں پر بمباری کرنے والوں کے خلاف آواز بلند کرتے اور سکولوں میں بچیوں پر فاسفورس بم برسانے والے ملک امریکہ کے صدر کی طرف سے اس حوالے سے بولے جانے والے جھوٹ پر اب تک اس کے مواخذے کی تحریک پیش کر چکے ہیں۔ ٹرمپ کو اقتدار سے جانا ہی پڑے گا وہ مواخذے کے ذریعے جائے یا مڈٹرم انتخاب میں شکست کھا کر مزید بے عزت ہو کر جائے، اس کے اقتدار کا سورج غروب ہو رہا ہے۔
برطانیہ کے وزیراعظم نے ٹرمپ کو بتایا کہ ان کا ملک آبنائے ہرمز کھلوانے میں کوئی کردار ادا کرنے کیلئے تیار نہیں۔ جاپان نے کہا خطے میں کوئی بہت بڑی تبدیلی آئی تو صرف اسی صورت جاپانی بحریہ سمندروں میں متحرک ہوتی ہے۔ چین نے ٹرمپ کی اس پیشکش پر اظہار خیال کرنا مناسب نہیں سمجھا اور خاموشی اختیار کی، جس پر ڈونلڈ ٹرمپ کے غم و غصے میں اضافہ ہو گیا اور انہوں نے اپنے آئندہ چند ہفتوں میں ہونے والے دورہ چین کے ملتوی ہونے کی دھمکی بھی دی، لیکن چین نے اسے بھی کوئی اہمیت نہ دی۔ چین چاہے گا کہ امریکی صدر جب چین کے دورے پر آئیں تو ایک مکمل شکست خوردہ صدر کی حیثیت سے آئیں۔ اس بات کا قویٰ امکان ہے لیکن بڑھکیں مارنے کی عادت سے مجبور ٹرمپ جب بھی چین جائیں گے وہ تاثر یہی دیں گے جیسی وہ بڑی فتح سمیٹ آئے ہیں، لیکن چین میں قیام کے دوران بھی ان کا دن کا چین اور راتوں کی نیندیں حرام رہیں گی۔
امریکہ کی طرف سے خارگ نامی ایرانی جزیرے پر بمباری سے بھی ایرانیوں کے عزم اور حوصلے میں کوئی کمی نظر نہیں آئی، وہ اب بھی مکمل انتقام کے نعرے لگاتے نظر آتے ہیں، جو مشورہ تمام دنیا اور ڈونلڈ ٹرمپ کے تمام اتحادی انہیں دے رہے تھے، وہی مشورہ اب امریکی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے انہیں دیا گیا ہے، انہیں کہا گیا ہے کہ وہ اوول آفس میں ایک میڈیا خطاب کے دوران اپنی کامیابیاں گنواتے ہوئے اپنی فتح کا اعلان کرتے ہوئے جنگ ختم کرنے کا اعلان کر دیں۔ امریکی صدر یہ مشورہ قبول کرنے کے بہت قریب ہیں، کبھی وہ وقت تھا امریکہ اپنی شرائط جنگ بندی پیش کیا کرتا ، آج وہ صرف یہ یقین دہانی چاہتا ہے کہ اگر وہ جنگ بندی کا اعلان انہیں دیئے گئے مشوروں کے مطابق کر دیں تو کیا ایران بھی جنگ بندی کا اعلان کر دے گا۔ ایرانی قیادت نے جنگ شروع ہونے سے بہت پہلے امریکہ و اسرائیل سے کہا تھا کہ وہ جنگ تو شروع کر سکتے ہیں لیکن جنگ کب اور کیسے ختم ہو گی اس کا فیصلہ ایران کرے گا۔ دو شیطانوں نے ایران کا کہا مخول سمجھا، یہ مخول نہیں تلخ حقیقت بن کر سامنے آیا ہے۔

جواب دیں

Back to top button