ColumnImtiaz Aasi

سعودی حکومت اور حج انتظامات

سعودی حکومت اور حج انتظامات
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
ایک وقت تھا جب سعودی معلمین عازمین حج کی بکنگ کے لئے پاکستان آیا کرتے تھے، اس مقصد کے لئے وہ عازمین حج کو زیادہ سے زیادہ سہولتوں کی ترغیب دے کر اپنی طرف راغب کرتے تھے۔ یہ سلسلہ عشروں تک چلتا رہا۔ پاکستان سے جانے والے عازمین حج کو اس دور میں بحری جہازوں پر حج کے لئے بھی بھیجا جاتا تھا ۔1992ء میں اس وقت کے سیکرٹری جنا ب مظہر رفیع کا بھلا ہو جو انہوں نے بحری جہازوں پر عازمین حج کو بھیجنے کا سلسلہ بند کیا۔ ان کا موقف تھا جب ہوائی جہاز اور بحری جہاز کے کرایوں کی شرح یکساں ہے تو پھر عازمین حج کو کئی کئی روز سمندر میں سفر کرانے کا کیا جواز ہے۔ پھر وقت آیا معلمین نے پاکستان آنا بند کر دیا، جس کے بعد جدہ کے ایئرپورٹ پر عازمین حج کو اپنا معلم منتخب کرنے کو کہا جاتا تھا۔ کئی سال تک یہ سلسلہ چلتا رہا، جس کے بعد سعودی حکومت نے مختلف براعظموں سے آنے والے عازمین حج کے لئے مختلف موسسات قائم کر دئیے۔ پاکستان اور ہندوستان سے جانے والے عازمین حج کے لئے موسسہ جنوب ایشیا قائم کیا گیا، جو کئی برس تک معلمین کے کام کی نگرانی کرتا رہا۔ اب گزشتہ چند سال سے سعودی حکومت نے حج و عمرہ کا کام مختلف کمپنیوں کو دیتے ہوئے لاکھوں ریال ان سے سکیورٹی کے نام پر وصول کرنے کے بعد حج و عمرہ کی ذمہ داری انہیں دے دی۔ مجھے یاد ہے منیٰ میں خیموں کا کرایہ دو، تین سو ریال ہوتا تھا۔ جب سے خیموں کی جگہ آکشن ہوتی ہے جس کی ذمہ داری کدانہ نامی کمپنی کو دی گئی ہے منی میں خیموں کے کرایوں میں حد درجہ اضافہ ہو گیا ہے۔ سعودی وزارت حج نے زیادہ سے زیادہ کرایہ حاصل کرنے کی خاطر خیموں کی کیٹگریز بنا دی ہیں، جس میں کیٹگری اے لینے والوں سے صرف ایک میٹر جگہ کا کرایہ پندرہ سو پچاس ریال وصول کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ اس کیٹگری کے خیمے جمرات ( شیطانوں ) کے بالکل قریب ہوتے ہیں، جس سے حجاج کو جمرات کی رمی کرنے کے لئے زیادہ مسافت طے نہیں کرنا پڑتی ہے۔ خیموں کی اسی طرح کیٹگری بی، سی اور ڈی بنائی جاتی ہے۔ چنانچہ اسی ترتیب سے خیموں کی جگہ جمرات ( شیطانوں ) سے دور ہوتی جاتی ہے۔ کدانہ نامی کمپنی کا کام صرف جگہ فراہم کرنا ہے جس کے بعد خیموں کے اندر سہولتوں کی فراہمی کے لئے کئی ایک کمپنیاں ہوتی ہیں جو خیموں میں قالین، صوفہ کم بیڈ اور دیگر سہولتیں مہیا کرتی ہیں جس کے واجبات ساڑھے پانچ ہزار ریال ہوتے ہیں۔ منی میں حجاج کرام نے پانچ روز قیام کرنا ہوتا ہے، جس میں نو ذولجہ کو انہیں وقوف عرفات کے لئے میدان عرفات میں پہنچنا ہوتا ہے، جہاں انہیں ظہر سے قبل پہنچنے کے بعد غروب آفتاب کے وقت عرفات سے مزدلفہ کی طرف روانہ ہوتا ہے، جہاں انہوں نے مغرب اور عشاء کی نمازیں قصر ادا کرنی ہوتی ہیں۔ سعودی عرب سے آمدہ اطلاعات کے مطابق پاکستان سے نجی گروپس میں جانے والے عازمین حج کے لئے تمام انتظامات مکمل ہو چکے ہیں۔ جہاں تک سرکاری سکیم میں جانے والے عازمین حج کے لئے انتظامات کی بات ہے وہ حجاج کے سعودی عرب پہنچنے تک جاری رہتے ہیں۔ عجیب تماشا ہے مسجد الحرام کے قرب و جوار میں عمارات بہت کم رہ گئی ہیں، تاہم اس کے باوجود بہت سی عمارات مسجد الحرام کے کچھ مسافت پر اب بھی موجود ہیں، جو حج و عمرہ پر جانے والوں کے لئے قابل استعمال ہیں، لیکن اس کے باوجود پاکستان حج مشن سرکاری سکیم میں جانے والے سارے حجاج کے لئے رہائش کے انتظامات عزیزیہ میں کرتا ہے۔ گو عزیزیہ منی کے قریب واقع ہے جہاں سے عازمین حج کو جمرات تک پہنچنے کے لئے زیادہ مسافت طے نہیں کرنا پڑتی ہے، لیکن جب حجاج کو بسوں کے ذریعے عزیزیہ سے مسجد الحرام تک لایا جاتا ہے، وہ عشاء تک واپس اپنی رہائش جانے سے قاصر رہتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا چند ہزار حجاج کے لئے مسجد الحرام کے قریب رہائش کا بندوبست ہو جاتا۔ مجھے وہ وقت یاد ہے جب عزیزیہ میں صرف ایران اور ترکیہ ( سابق ترکی) سے آنے والے حجاج قیام کیا کرتے تھے، جبکہ پاکستان سے جانے والے عازمین حج کو مسجد الحرام کے قرب میں رہائش فراہم کی جاتی تھی۔ ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں جن کرایوں پر سرکاری اسکیم کے حجاج کے لئے عزیزیہ میں رہائش لی جاتی ہے اس سے کم کرایوں پر مسجد الحرام سے ایک کلومیٹر دور رہائش اب بھی مل سکتی ہے۔ رمضان المبارک کے مقدس ماہ میں ہم کسی پر الزام تراشی کرنے سے گریز کریں گے ورنہ اندرون خانہ رہائش کرایوں پر لینے کے معاملات سے ہم اچھی طرح واقف ہیں۔ تعجب ہے جب کمپنی کو حج مشن نے بلیک لسٹ کیا تھا اسی کمپنی کو کیٹرنگ کا کنٹریکٹ دے دیا گیا ہے اس بات پر سینیٹ کی سنٹنڈنگ کمیٹی برائے مذہبی امور میں بھی غور کیا گیا، تاہم اس کے باوجود حج مشن کے ذمہ داران کسی کی پروا کئے بغیر معاملات چلا رہے ہیں۔ وزارت مذہبی امور کا یہ عالم ہے مدینہ منورہ کے دونوں پاکستان ہائوس منہدم ہو چکے ہیں جس کے عوض بہت بڑی رقم اگرچہ وہ سعودی شرعی حکام کے پاس ہے مگر وزارت مذہبی امور پاکستان ہائوس کے عمارت کی خریداری کے لئے سعودی حکومت کی اجازت ہونے کے باوجود خریداری سے قاصر ہے۔ جہاں تک حج مشن کی بات ہے وہاں آئے روز اعلی افسران کی پوسٹنگ سفارشی پروگرام کے تحت عمل میں لائی جاتی ہے۔ جس کسی کے پاس تگڑی سیاسی سفارش ہوتی ہے وہ سعودی عرب پہنچ جاتا ہے خواہ اس کا حج انتظامات بارے تجربہ ہو یا نہ ہو۔ حیرت ہے ایک طرف ہمارا ملک معاشی کمزوری کا رونا روتا ہے دوسری طرف سعودی عرب کے حج مشن میں اعلی افسران کی تقرریاں جاری ہیں۔ پاکستان واحد ملک ہے جس کا حج مشن ہے ورنہ کتنے بڑے بڑے اسلامی ملک ہیں جہاں سے لاکھوں حجاج آتے ہیں، لیکن سعودی عرب میں ان کا کوئی حج مشن نہیں ہے ۔ یہ تو جنرل ضیا ء الحق نے اپنے ایک قریبی چودھری شوکت کو نوازنے کے لئے حج مشن قائم کرکے اسے ڈائریکٹر جنرل لگایا تھا، جو برسوں سعودی عرب میں متین رہا تھا۔

جواب دیں

Back to top button