بھارت افغان گٹھ جوڑ اور نئی صف بندیاں

بھارت افغان گٹھ جوڑ اور نئی صف بندیاں
قادر خان یوسف زئی
جغرافیائی سیاست میں کوئی مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتا، صرف مستقل مفادات ہوتے ہیں۔ یہ اصول جنوبی ایشیا کے موجودہ سیاسی منظر نامے پر پوری طرح صادق آتا ہے جہاں افغانستان کے تناظر میں ایک ایسی حیران کن اور غیر متوقع صف بندی ابھر کر سامنے آئی ہے جس نے اسلام آباد کے پالیسی سازوں کو اپنے ماضی کے رویئے میں اختیار کی جانے والی حکمت عملی کو تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا۔ کئی دہائیوں تک پاکستان نے اس مفروضے پر کام کیا کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کا مطلب خطے میں بھارتی اثر و رسوخ کا مکمل خاتمہ ہے۔2021ء میں جب امریکی افواج کا انخلا ہوا اور بھارت نے عجلت میں کابل سے اپنا سفارتی عملہ واپس بلایا تو بظاہر یہی لگ رہا تھا کہ بھارت نے افغانستان کی بساط پر اپنی بازی ہار دی ہے۔ تاہم، مودی حکومت نے چانکیہ سیاست کے کمال درجے کی سفارتی اور تزویراتی لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف اپنے مفادات جاری رکھنے کی سازش میں کامیابی حاصل کی بلکہ افغان طالبان رجیم کے ساتھ ایک ایسا عملی اور معاشی تعلق استوار کر لیا ہے جس کی توقع خود اسلام آباد کو بھی نہیں تھی۔2024 ء اور 2025ء کا عرصہ اس نئی قربت کے عروج کا گواہ ہے، جس کا نقطہ عروج اکتوبر 2025ء میں افغان قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی کا نئی دہلی کا چھ روزہ سرکاری دورہ تھا۔ اس دورے نے دہائیوں پر محیط اس پاکستانی بیانیے کو زمین بوس کر دیا کہ افغان طالبان ، پاکستان کی قربانیوں کی قدر کرتے ہوئے ، پاکستان کیخلاف سازشی منصوبوں کا حصہ نہیں بنیں گے اور بھارت ان کے لیے ایک ناقابل قبول فریق ہے۔
بھارت کی یہ سفارتی پیش قدمی محض بیانات تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے پاکستان مخالف رجیم کے جھکے سروں پر ہاتھ رکھ کر آشیر باد دیا اور اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مکاری کے ساتھ مودی حکومت نے سفارتی تعلقات بحال کرتے ہوئے کابل میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولا اور بڑے پیمانے پر ادویات اور غلہ افغانستان روانہ کیا۔ ممبئی اور حیدرآباد کے قونصل خانوں میں افغان طالبان کے نمائندوں کی میزبانی اور افغان تاجروں کے لیے ای ویزا کی سہولت جیسے اقدامات کرکے، افغان طالبان نے ماضی کے ان تمام بھارتی مکاریوں اور سازشوں کو فراموش کر دیا جب کرزئی و غنی دوہری حکومت کے ساتھ انہیں نشانہ بناتا رہا تھا اور افغانستان میں موجود کابل کا سفارت خانے و افغانستان میں قونصل خانے ’’ را ‘‘ کے ہیڈ کوارٹرز بن گئے تھے ، اور افغان طالبان او پاکستان کے خلاف منظم و مذموم سازشیں کیں جاتی رہی اور نئی دہلی کے ساتھ دوبارہ روابط میں پاکستان مخالف رویہ و پالیسی اختیار کرنا ، اس امر کا بین ثبوت ہے کہ افغان طالبان رجیم پاکستان مخالفت میں ہر قسم کا کردار ادا کر سکتا ہی۔
بھارت کے اس عیار مگر موثر کھیل کے پیچھے گہرے تزویراتی مقاصد کارفرما ہیں۔ ایک طرف وہ ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کے ذریعے وسطی ایشیا تک رسائی حاصل کر کے پاکستان کی گوادر بندرگاہ کی اہمیت کو کم کرنا چاہتا تھا، اور دوسری طرف افغانستان کے وسیع معدنی وسائل تک رسائی کا خواہاں ہے۔ لیکن سب سے اہم سکیورٹی کا وہ پہلو ہے جس نے پاکستان کو ایک مستقل دفاعی کشمکش میں مبتلا کر دیا ہے۔ بھارت نے افغان طالبان رجیم کے ساتھ تعلقات استوار کر کے بظاہر اس امر کی ضمانت حاصل کر لی ہے کہ افغان سرزمین بھارت مخالف گروہوں کے استعمال میں نہیں آئے گی، اور اس کے بدلے میں اس نے پاکستان کی مغربی سرحد پر ایک ایسا اتحادی پیدا کر لیا ہے جو اسلام آباد کی اصولی موقف کے تابع نہیں۔ یہ صورتحال پاکستان کے لیے ایک بھیانک دو طرفہ جنگ کے منظر نامے کی طرح ہے، جہاں اسے بیک وقت اپنی مشرقی اور مغربی، دونوں سرحدوں پر شدید دفاعی چیلنجز کا سامنا ہے۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ افغان رجیم بھارت سے تو معاہدہ کر رہی ہے لیکن پاکستان ، جس نے ناقابل فراموش احسانات کئے ، اس سے اس امر پر مذاکرات کرنے پر تیار بھی نہیں کہ وہ کالعدم تنظیموں اور پاکستان مخالف فتنہ الخوارج و نام نہاد شدت پسند تنظیموں کو افغان سر زمین استعمال سے روکے گا ۔
اس نئی صف بندی پر پاکستان کا ردعمل شدید سفارتی تشویش اور پراکسی وار کے الزامات کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ اسلام آباد کا باضابطہ موقف یہ ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’ را‘‘ افغان سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے کالعدم تحریک طالبان پاکستان ( فتنہ الخوارج ) اور بلوچ علیحدگی پسندوں کو مالی معاونت اور جدید ٹیکنالوجی فراہم کر رہی ہے۔ پاکستانی حکام کا ماننا ہے کہ حال ہی میں پاکستان کے شہری علاقوں پر ہونے والے کامیکازے ڈرون حملے دراصل اس جدید ٹیکنالوجی کا حصہ ہیں جو بھارت ایک سوچے سمجھے ’’ کچھ دو اور کچھ لو‘‘ کے معاہدے کے تحت کالعدم ٹی ٹی پی تک پہنچا رہا ہے۔ افغان طالبان کو بھارت کی جانب سے فنڈنگ سے معاشی سہارا مل رہا ہے اور اس کے بدلے میں طالبان رجیم نے بھارت کو پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی ہے۔ دوسری جانب، افغان طالبان پاکستان کے تحفظات دور کرنے کے بجائے یکسر مسترد کرتے ہوئے ایک جارحانہ حملے اور پاکستان کے خلاف منظم مسلح کارروائیاں شروع کر دیں۔ خاص طور پر مارچ2026ء میں افغان سرزمین پر پاکستان کے ’’ آپریشن غضب للحق ‘‘ کی شدید مخالفت میں بھارت نے خود کو افغان خودمختاری کے محافظ کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس سفارتی مکارانہ شطرنج میں بھارت نے کامیابی سے وہ خلیج اور بھی گہری کر دی ہے جو کابل اور اسلام آباد کے درمیان پیدا ہو چکی تھی۔ پاکستان کے لیے اب چیلنج محض عسکری نہیں، بلکہ یہ ثابت کرنے کا ہے کہ کیا وہ سفارتی محاذ پر اس نئے بھارت افغان گٹھ جوڑ کو توڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا پھر تزویراتی گہرائی کے بعد اب خطے میں اپنا باقی ماندہ اثر و رسوخ بھی کھو بیٹھے گا۔
تاہم پاکستان نے اپنی ملکی سلامتی و بقا کا حق استعمال کرتے ہوئے ملک دشمن عناصر کو ایسا سبق یاد کرایا ہے جو اسے مدتوں یاد رہے گا ۔ ریاست افغان رجیم و مودی سرکار کی تمام سازشوں و جارحیت کا ایسا منہ توڑ جواب دے رہے ہیں کہ عالمی برادری پاکستانی موقف کی مکمل حمایت کر رہے ہیں او ر پاکستان کی جانب سے حفاظتی حکمت و عملی و اقدامات کو جائز قرار دے رہے ہیں جو یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان نے خطے میں امن کے لئے ہمیشہ مذاکرات کا ساتھ دیا اور مثبت اقدامات کو ترجیح دی تاہم جب بھی ملک دشمن کی جانب سے جارحیت کی گئی تو ایسا منہ توڑ جواب دیا کہ اسے اپنے زخم چاٹنے پر مجبور کیا ۔ پاکستان کی جانب سے ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کیا گیا لیکن ریاست کی امن پسند پالیسی کا غلط مطلب لیا گیا ، ریاست نے جارحیت کا جواب انہی کی زبان میں دیا جو وہ جانتے ہیں۔





