غذائی سلامتی اور خلیجی منڈیوں کی ضرورت

غذائی سلامتی اور خلیجی منڈیوں کی ضرورت
وزیراعظم شہباز شریف کے زیر صدارت ہونے والے حالیہ اجلاس میں ملک کی غذائی صورت حال اور اشیائے خورونوش کی برآمدات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ پاکستان میں اشیائے خورونوش کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور کسی بھی قسم کی قلت کا سامنا نہیں۔ اس وقت مشرق وسطیٰ جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ اس تناظر میں وزیراعظم نے خلیجی ممالک کو خوراک کی فراہمی کے حوالے سے ایک جامع حکمت عملی تیار کرنے اور اس عمل کی مکمل نگرانی کرنے کی ہدایت بھی کی۔ یہ فیصلہ بظاہر پاکستان کے لیے ایک اہم معاشی موقع ثابت ہوسکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ ذمے داری بھی عائد کرتا ہے کہ ملکی غذائی ضروریات کو ہر حال میں اولین ترجیح دی جائے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور یہاں گندم، چاول، سبزیاں، پھل، گوشت، پولٹری، ڈیری مصنوعات اور سی فوڈ کی پیداوار بڑی مقدار میں ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی منڈیوں میں پاکستانی زرعی مصنوعات کی مانگ ہمیشہ سے موجود رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں عالمی سپلائی چینز میں آنے والی رکاوٹوں نے اس مانگ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ وزیراعظم کا یہ کہنا کہ خطے میں پاکستانی مصنوعات کی برآمد میں اضافہ ہوا ہے، دراصل اسی بدلتی ہوئی عالمی صورت حال کی عکاسی کرتا ہے۔ ایسے میں اگر پاکستان اس موقع سے فائدہ اٹھاکر اپنی برآمدات میں اضافہ کرتا ہے تو یہ نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری لانے میں مددگار ہوگا بلکہ معیشت کو بھی سہارا دے سکتا ہے۔ خلیجی ممالک خصوصاً سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت خوراک کے لیے بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔ پاکستان کے ان ممالک کے ساتھ قریبی سیاسی، معاشی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔ لاکھوں پاکستانی ان ممالک میں کام کررہے ہیں اور وہ پاکستان کی معیشت میں ترسیلات زر کے ذریعے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسے میں اگر پاکستان خلیجی ممالک کو معیاری خوراک فراہم کرنے کے لیے ایک منظم اور موثر نظام قائم کرتا ہے تو یہ باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ تاہم اس پالیسی کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ملکی غذائی تحفظ کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے۔ پاکستان پہلے ہی کئی مواقع پر غذائی بحران کا سامنا کر چکا ہے۔ گندم، چینی اور آٹے کی قیمتوں میں اچانک اضافہ اور قلت جیسے مسائل ماضی میں عوام کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن چکے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ برآمدات کی پالیسی بناتے وقت اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ملک کے اندر کسی بھی اشیائے خورونوش کی قلت پیدا نہ ہو۔ مشرق وسطیٰ کی صورت حال کے تناظر میں وزیراعظم کی جانب سے اس بات پر زور دینا کہ صرف وافر مقدار میں موجود اشیا ہی برآمد کی جائیں، ایک مثبت اور حقیقت پسندانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے ساتھ برآمدی معیار کو بہتر بنانے کی ضرورت بھی انتہائی اہم ہے۔ عالمی منڈیوں میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے صرف مقدار ہی نہیں بلکہ معیار بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر پاکستانی زرعی اور غذائی مصنوعات بین الاقوامی معیار پر پورا اتریں تو وہ نہ صرف خلیجی بلکہ یورپی اور دیگر عالمی منڈیوں میں بھی اپنی جگہ بناسکتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے فوڈ سیفٹی کے قوانین کو مزید سخت اور موثر بنانے کی ضرورت ہے۔ زرعی پیداوار کے عمل سے لے کر پیکنگ اور ترسیل تک ہر مرحلے پر جدید ٹیکنالوجی اور معیار کو یقینی بنانا ہوگا۔ اجلاس میں پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن ( پی این ایس سی) کو بھی ہدایت کی گئی کہ وہ بحری راستوں کے ذریعے خلیجی ممالک کو اشیائے خورونوش کی برآمد کے لیے اقدامات کرے۔ یہ ایک قابلِ توجہ پہلو ہے کیونکہ پاکستان کی بندرگاہیں اور بحری تجارتی راستے ملکی برآمدات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر بحری نقل و حمل کو مزید موثر اور کم لاگت بنایا جائے تو اس سے پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں زیادہ مسابقتی بن سکتی ہیں۔ ایک اور اہم فیصلہ روزانہ کی بنیاد پر صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی کی تشکیل ہے۔ اگر یہ کمیٹی واقعی فعال انداز میں کام کرے اور مارکیٹ میں طلب و رسد کی صورتحال کی مسلسل نگرانی کرے تو اس سے نہ صرف قیمتوں کو مستحکم رکھنے میں مدد ملے گی بلکہ برآمدات کو بھی منظم انداز میں بڑھایا جاسکے گا۔ یہ بھی ضروری ہے کہ زرعی شعبے کی بنیادی اصلاحات پر توجہ دی جائے۔ پاکستان میں زرعی پیداوار کا بڑا حصہ ابھی بھی روایتی طریقوں سے حاصل کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے فی ایکڑ پیداوار عالمی معیار سے کم رہتی ہے۔ اگر جدید زرعی ٹیکنالوجی، بہتر بیج، جدید آب پاشی نظام اور کسانوں کو مالی و تکنیکی معاونت فراہم کی جائے تو پیداوار میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ اس سے نہ صرف ملکی ضروریات پوری ہوں گی بلکہ برآمدات کے لیے بھی زیادہ گنجائش پیدا ہوگی۔ اسی طرح زرعی ویلیو ایڈیشن پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ صرف خام زرعی اجناس برآمد کرنے کے بجائے اگر انہیں پراسیس کرکے برآمد کیا جائے تو ان کی قیمت اور منافع دونوں بڑھ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر گوشت، ڈیری مصنوعات، فروزن فوڈ اور سی فوڈ کی پراسیسنگ کے ذریعے پاکستان عالمی مارکیٹ میں زیادہ بہتر مقام حاصل کر سکتا ہے۔ آخر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے غذائی ضروریات اور برآمدات کے حوالے سے نگرانی اور جامع پالیسی بنانے کی ہدایت ایک بروقت اور مثبت قدم ہے۔ تاہم اس پالیسی کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ اسے کس حد تک سنجیدگی اور مستقل مزاجی کے ساتھ نافذ کیا جاتا ہے۔ اگر حکومت واقعی موثر نگرانی، زرعی اصلاحات، معیار کی بہتری اور شفاف نظام کے ذریعے اس حکمت عملی کو عملی جامہ پہناتی ہے تو پاکستان نہ صرف اپنے عوام کے لیے غذائی تحفظ کو یقینی بنا سکتا ہے بلکہ عالمی منڈی میں بھی ایک مضبوط زرعی برآمد کنندہ کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ یوں یہ اقدام پاکستان کے لیے معاشی استحکام، علاقائی تعاون اور غذائی سلامتی کے ایک نئے باب کا آغاز بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
اقوام متحدہ جنگ و کشیدگی کنٹرول نہیں کر سکتی
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا یہ اعتراف کہ سلامتی کونسل جنگوں کو روکنے اور عالمی کشیدگی کم کرنے میں موثر کردار ادا نہیں کرپا رہی، دراصل موجودہ عالمی نظام کی گہری کمزوریوں کی نشان دہی کرتا ہے۔ یو این سیکیورٹی کونسل دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم کی گئی تھی، تاکہ دنیا کو بڑی طاقتوں کی باہمی محاذ آرائی سے بچایا جاسکے، مگر وقت کے ساتھ یہ ادارہ سیاسی مفادات اور ویٹو طاقت کے شکنجے میں جکڑ گیا ہے، جس کے باعث اہم تنازعات کے حل کی راہ میں بار بار رکاوٹ پیدا ہوتی رہی ہے۔ حالیہ مشرق وسطیٰ کشیدگی نے اس حقیقت کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ ایران اسرائیل تنازع اور لبنان کی بگڑتی صورت حال نے خطے کو ایک نئی جنگ کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔ ایسے موقع پر اگر عالمی ادارے بروقت اور موثر کردار ادا نہ کریں تو حالات مزید خطرناک رخ اختیار کر سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے سلامتی کونسل میں مستقل اراکین کو حاصل ویٹو اختیار اکثر انصاف اور عالمی امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔ جب بھی کسی قرارداد کے ذریعے جنگ روکنے یا جارحیت کی مذمت کی کوشش کی جاتی ہے کوئی بڑی طاقت اپنے اتحادی کی مفاد میں ویٹو استعمال کر دیتی ہے۔ جس کے بعد اقوام متحدہ محض بیانات اور اپیلوں تک محدود ہوکر رہ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کئی خطے آج بھی مسلسل عدم استحکام کا شکار ہیں۔ لبنان کے عوام بھی اسی صورت حال کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ جنگ اور بمباری کے باعث ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوجاتے ہیں جب کہ معیشت اور بنیادی ڈھانچہ تباہی کا شکار ہوجاتا ہے۔ ایسے میں عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ طاقت کی سیاست سے بالاتر ہوکر پائیدار امن کے لیے سنجیدہ سفارت کاری کو فروغ دے۔ گوتریس کی یہ بات درست ہے کہ اس تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں۔ تاریخ بار بار ثابت کر چکی ہے کہ جنگیں صرف تباہی اور نفرت کو جنم دیتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ مذاکرات اور سفارتی کوششوں کو مضبوط بنایا جائے، تاکہ خطہ ایک اور تباہ کن جنگ سے بچ سکے اور عالمی نظام کو زیادہ منصفانہ اور موثر بنانے کے لیے سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر بن چکی ہیں۔ اگر دنیا واقعی امن چاہتی ہے تو ویٹو نظام پر سنجیدہ نظرثانی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔





