عالمی امن کو لاحق خطرات

عالمی امن کو لاحق خطرات
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید جنگی کشیدگی کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔ امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر حملوں کے دعوے، ایران کی جوابی کارروائیاں اور خطے کے مختلف ممالک میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیاں اس بات کی نشان دہی ہیں کہ صورت حال تیزی سے ایک وسیع علاقائی تنازع کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ ایسے حالات میں نہ صرف خطے کے ممالک بلکہ پوری دنیا کے لیے تشویش پیدا ہوگئی ہے، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ عالمی توانائی، تجارت اور جغرافیائی سیاست کا نہایت حساس خطہ ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے فوجی اہداف پر تاریخ کے طاقتور ترین حملے کیے اور متعدد عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی حکام کے مطابق ان حملوں میں خارگ جزیرے سمیت کئی فوجی مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جہاں میزائل ذخیرہ کرنے کے بنکرز، بارودی سرنگوں کی سہولتیں اور دیگر عسکری تنصیبات شامل تھیں۔ تاہم امریکا نے دعویٰ کیا کہ جزیرے کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا گیا۔ تاکہ عالمی توانائی کی ترسیل متاثر نہ ہو۔ دوسری جانب ایران نے امریکی دعوئوں کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ خارگ جزیرے پر تیل کی تنصیبات محفوظ ہیں اور جزیرے پر ایرانی افواج کا مکمل کنٹرول برقرار ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق حملوں کے بعد دفاعی نظام کو دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے اور ایرانی تیل و توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا۔ ایران نے واضح کیا کہ اگر اس کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو وہ خطے میں امریکی کمپنیوں اور ان کے مفادات کو نشانہ بنانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ خارگ جزیرہ ایران کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ایران کی قریباً 90فیصد تیل برآمدات اسی جزیرے کے ذریعے عالمی منڈی تک پہنچتی ہیں۔ اس لیے اس جزیرے پر کسی بھی حملے کے اثرات نہ صرف ایران بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر اس کشیدگی کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھا جارہا ہے۔ امریکا نے اس کشیدہ صورت حال کے پیش نظر مشرقِ وسطیٰ میں مزید فوجی قوت تعینات کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ہزاروں میرینز اور نیوی اہلکاروں کے ساتھ کئی جنگی بحری جہاز خطے میں بھیجے جارہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد بظاہر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانا بتایا جارہا ہے، کیونکہ دنیا کی ایک بڑی مقدار میں تیل اسی اہم آبی گزرگاہ کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ اگر یہاں کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو عالمی معیشت پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ ایران کی جانب سے بھی جوابی اقدامات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے عراق اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔ اسی طرح سعودی عرب میں قائم ایک اہم فوجی اڈے پر ایرانی میزائل حملے کے نتیجے میں امریکی فضائیہ کے کئی ایندھن بردار طیاروں کو نقصان پہنچنے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جنگ کا دائرہ پہلے ہی کئی ممالک تک پھیل چکا ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی اس کشیدگی کا ایک اور خطرناک پہلو یہ ہے کہ مختلف مزاحمتی گروپ بھی اس تنازع میں سرگرم ہورہے ہیں۔ عراق میں امریکی سفارت خانے اور فوجی اڈوں پر حملوں کی اطلاعات، لبنان میں اسرائیلی حملوں اور حزب اللہ کی جوابی کارروائیوں نے صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس طرح ایک محدود جنگ تیزی سے ایک بڑے علاقائی تصادم کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ اس صورت حال میں سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو انسانی جانوں کا ضیاع ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق حالیہ حملوں اور جوابی کارروائیوں میں ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔ عام شہری، بچے اور طبی عملہ بھی اس جنگ کا نشانہ بن رہے ہیں۔ لبنان میں طبی مرکز پر حملے میں ڈاکٹروں اور نرسوں سمیت متعدد افراد کا جاں بحق ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگی کارروائیوں کا سب سے زیادہ نقصان عام انسانوں کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔ عالمی برادری کے لیے یہ صورت حال ایک بڑا امتحان ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سمیت کئی عالمی رہنماں نے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اگر اس کشیدگی کو بروقت کم نہ کیا گیا تو یہ تنازع نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ مشرقِ وسطیٰ گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی سیاسی اور فوجی مداخلت کا مرکز رہا ہے۔ اس خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے نام پر اکثر ایسی پالیسیاں اپنائی جاتی رہی ہیں جنہوں نے کشیدگی کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھایا ہے۔ آج کی صورتحال بھی اسی طویل سلسلے کی ایک کڑی نظر آتی ہے۔ اس وقت سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام فریق تحمل اور دانش مندی کا مظاہرہ کریں۔ طاقت کے استعمال سے مسائل کا حل نہیں نکلتا بلکہ نئے بحران پیدا ہوتے ہیں۔ اگر جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہوا تو اس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی مرتب ہوں گے۔ بین الاقوامی سفارت کاری کو فعال کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ بڑے ممالک اور عالمی اداروں کو چاہیے کہ وہ جنگ کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کے لیے فریقین پر دبا ڈالیں۔ اسی طرح خطے کے ممالک کو بھی اپنے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ آخرکار یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتی۔ جنگ صرف تباہی، انسانی المیہ اور معاشی بحران کو جنم دیتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کئی جنگوں اور تنازعات کا شکار رہا ہے، اس لیے ایک اور بڑے تصادم سے بچنے کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہیں۔ اگر عالمی برادری نے بروقت کردار ادا نہ کیا تو موجودہ کشیدگی ایک ایسی آگ بھڑکا سکتی ہے جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ امن، مذاکرات اور باہمی احترام ہی وہ راستہ ہے جو اس بحران سے نکلنے کی واحد امید بن سکتا ہے۔
دہشت گردی کیخلاف پاکستان کا عزم
پاکستان کو ایک بار پھر دہشت گردی اور سرحد پار اشتعال انگیزی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق افغان سرزمین سے پاکستان کے مختلف علاقوں پر ڈرون حملوں کی کوشش کی، جنہیں بروقت کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا گیا۔ یہ واقعہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مسلسل خطرات موجود ہیں اور پاکستان کی سلامتی کے خلاف سرگرم عناصر کسی بھی موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ان ڈرونز کو اپنے اہداف تک پہنچنے سے پہلے ہی مار گرایا گیا، تاہم ملبہ گرنے کے باعث کچھ شہری زخمی ہوئے۔ اس واقعے نے یہ واضح کر دیا کہ پاکستان کے دفاعی ادارے ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے پوری طرح چوکس ہیں۔ سرحد پار سے ہونے والی ایسی کارروائیاں نہ صرف پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں بلکہ خطی میں امن کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہیں۔ پاکستان بارہا اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ کسی بھی ملک کی سرزمین دوسرے ممالک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ یہ بین الاقوامی اصول بھی ہے اور علاقائی امن کے لیے ایک بنیادی شرط بھی۔ اگر اس اصول کو نظر انداز کیا جائے تو اس کے نتائج پورے خطے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔دوسری جانب ملک کے اندر دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں بھی بھرپور انداز میں جاری ہیں۔ لکی مروت میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کیے گئے آپریشن میں 7دہشت گردوں کی ہلاکت اس بات کا ثبوت ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک کے امن کو سبوتاژ کرنے والے عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی کر رہے ہیں۔ اس طرح کی کارروائیاں نہ صرف دہشت گرد نیٹ ورکس کو کمزور کرتی ہیں بلکہ عوام میں اعتماد بھی پیدا کرتی ہیں کہ ریاست اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ حالیہ دھماکے میں شہید ہونے والے اہلکاروں کی نماز جنازہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ امن کی قیمت ہمیشہ قربانیوں کی صورت میں ادا کی جاتی ہے۔ ان اہلکاروں کی قربانیاں قوم کے لیے فخر اور عزم کا پیغام ہیں۔ حکومت اور سیکیورٹی اداروں کا یہ موقف بھی واضح ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے تک آپریشن غضب للحق جاری رہے گا۔ کسی بھی ریاست کے لیے داخلی امن اور سرحدی سلامتی بنیادی ترجیح ہوتی ہے اور پاکستان بھی اسی اصول کے تحت اپنی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ اس وقت سب سے زیادہ ضرورت قومی اتحاد اور یکجہتی کی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سیکیورٹی فورسز کی ذمے داری نہیں بلکہ پوری قوم کا مشترکہ فرض ہے۔ عوام، ریاستی اداروں اور حکومت کے درمیان تعاون ہی وہ طاقت ہے جو اس چیلنج کا موثر جواب بن سکتی ہے۔ یہی اجتماعی عزم پاکستان کو ایک پرامن اور مستحکم مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔







