Column

وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کی ملاقات

وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کی ملاقات
مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک نازک اور بے یقینی صورت حال سے گزر رہا ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی اور بدلتے ہوئے عالمی حالات نے نہ صرف علاقائی سیاست بلکہ عالمی سفارت کاری کو بھی متاثر کیا ہے۔ ایسے وقت میں پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف کا دورۂ سعودی عرب اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے جدہ میں ہونے والی ملاقات خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اس ملاقات میں پاکستان نے آزمائشی حالات میں سعودی عرب کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا، جو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ اور مضبوط تعلقات کی ایک اور مثال ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات صرف سفارتی یا سیاسی نوعیت کے نہیں بلکہ مذہبی، ثقافتی اور عوامی سطح پر بھی انتہائی گہرے ہیں۔ پاکستان کے عوام سعودی عرب کو ایک برادر اسلامی ملک کے طور پر دیکھتے ہیں جہاں مقدس مقامات واقع ہیں جب کہ سعودی عرب نے بھی مختلف مواقع پر پاکستان کی معاشی اور سفارتی حمایت کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی خطے میں کوئی بحران پیدا ہوتا ہے تو دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے سعودی قیادت کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کو صرف ایک رسمی بیان نہیں سمجھا جانا چاہیے بلکہ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے ایک بنیادی اصول کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان ہمیشہ سے اسلامی دنیا کے اتحاد اور استحکام کا داعی رہا ہے۔ موجودہ حالات میں جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، تو پاکستان کی جانب سے امن اور استحکام کے لیی مشترکہ کوششوں کی حمایت ایک مثبت پیغام ہے۔ اس ملاقات میں نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار اور سی ڈی ایف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی موجودگی بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ملاقات صرف رسمی نوعیت کی نہیں تھی بلکہ اس میں خطے کی سیکیورٹی اور مستقبل کی حکمت عملی پر سنجیدہ گفتگو کی گئی۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون پہلے ہی مضبوط ہے اور دونوں ممالک کئی دہائیوں سے مختلف شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کررہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے عالمی سیاست میں ایک نئی صف بندی پیدا کردی ہے۔ ایسے میں پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ توازن اور دانش مندی کے ساتھ اپنی سفارتی حکمت عملی کو آگے بڑھائیں۔ پاکستان کو ایک طرف اپنے برادر اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط رکھنے ہیں تو دوسری جانب خطے میں امن کے قیام کے لیے تعمیری کردار بھی ادا کرنا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا یہ بیان کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا، اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات صرف سیاسی یا دفاعی تعاون تک محدود نہیں بلکہ معاشی میدان میں بھی دونوں ممالک کے درمیان گہری شراکت داری موجود ہے۔ سعودی عرب پاکستان میں سرمایہ کاری کے کئی منصوبوں پر غور کررہا ہے، جن میں توانائی، انفرا اسٹرکچر اور معدنی وسائل کے شعبے شامل ہیں۔ اگر یہ منصوبے عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو نہ صرف پاکستان کی معیشت کو سہارا ملے گا بلکہ دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ علاوہ ازیں لاکھوں پاکستانی شہری سعودی عرب میں روزگار کے مواقع سے فائدہ اٹھارہے ہیں اور وہاں سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اس انسانی اور معاشی رشتے نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط اور دیرپا بنا دیا ہے۔ تاہم موجودہ علاقائی صورت حال میں سب سے اہم پہلو امن کا قیام ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نہ صرف خطے کے ممالک بلکہ پوری دنیا کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔ ایسے میں پاکستان اور سعودی عرب جیسے بااثر ممالک کا یہ عزم کہ وہ خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ طور پر کام کریں گے، انتہائی حوصلہ افزا ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنی متوازن خارجہ پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے مسلم دنیا میں اتحاد کے فروغ کے لیے کردار ادا کرے۔ پاکستان ماضی میں بھی کئی مواقع پر اسلامی ممالک کے درمیان ثالثی اور مصالحتی کردار ادا کر چکا ہے اور مستقبل میں بھی یہ کردار مزید مثر انداز میں ادا کیا جاسکتا ہے۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی ملاقات صرف ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب آزمائش کی گھڑی میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ مضبوط شراکت داری نہ صرف ان کے باہمی مفادات کے لیے اہم ہے بلکہ پورے خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے بھی ایک مثبت کردار ادا کر سکتی ہے۔ اگر پاکستان اور سعودی عرب اسی جذبے کے ساتھ تعاون کو آگے بڑھاتے رہی تو یہ شراکت داری مستقبل میں نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے استحکام اور ترقی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو خطے کو کشیدگی سے نکال کر امن اور خوش حالی کی طرف لے جاسکتا ہے۔
مہنگائی میں اضافہ
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے ایک بار پھر مہنگائی کی نئی لہر کو جنم دے دیا ہے۔ ادارہ شماریات کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق صرف ایک ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں 1.89فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ مجموعی سالانہ مہنگائی بڑھ کر 6.44فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ یہ صورتحال عام شہری خصوصاً کم اور متوسط آمدن والے طبقے کے لیے شدید تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 20.60فیصد اور ڈیزل کی قیمت میں 19.54فیصد اضافہ ہوا ہے جب کہ ایل پی جی کی قیمت میں بھی 12فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ دراصل معیشت کے قریباً ہر شعبے کو متاثر کرتا ہے، کیونکہ نقل و حمل، زرعی سرگرمیوں اور صنعتوں کا بڑا دارومدار انہی ایندھن پر ہوتا ہے۔ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو اس کے اثرات براہ راست اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کی صورت سامنے آتے ہیں۔ ادارہ شماریات کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک ہفتے کے دوران 14اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ 9اشیاء سستی اور 28اشیاء کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ تاہم جن اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا وہ عام آدمی کی روزمرہ زندگی سے براہ راست جڑی ہوئی ہیں۔ مثال کے طور پر پیاز، کیلا، آٹا، چکن، دالیں، بیف اور دودھ جیسی بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ عام گھرانوں کے بجٹ پر اضافی بوجھ ڈال رہا ہے۔ اسی طرح جلانے والی لکڑی کی قیمت میں اضافہ بھی دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ اگرچہ بعض اشیاء جیسے ٹماٹر، آلو اور لہسن کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی ہے، تاہم یہ کمی مہنگائی کے مجموعی دبا کو کم کرنے کے لیے کافی نہیں۔ چینی، دال مونگ، چاول اور سرسوں کے تیل کی قیمتوں میں کمی بھی وقتی ریلیف ضرور فراہم کرتی ہے لیکن مجموعی صورت حال اب بھی تشویش ناک دکھائی دیتی ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کی بنیادی وجوہ میں سے ایک ہے۔ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری سامان کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ اس کا سب سے زیادہ اثر عام شہری پر پڑتا ہے جو پہلے ہی بڑھتی ہوئی مہنگائی اور محدود آمدن کے باعث مشکلات کا شکار ہے۔ ایسی صورت حال میں حکومت کی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے موثر اقدامات کرے۔ قیمتوں کی نگرانی کا نظام مضبوط بنایا جائے، ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ٹھوس پالیسی اختیار کی جائے۔

جواب دیں

Back to top button