ColumnRoshan Lal

بے خطا ایرانی سزا وار کیوں ؟

بے خطا ایرانی سزا وار کیوں ؟

روشن لعل

ایران کے دارالحکومت تہران میں 15اور 16جنوری 2016ء کی درمیانی شب ایک عجیب منظر دیکھنے میں آیا تھا۔ قبل ازیں نہ کوئی اعلان ہوا اور نہ کسی نے کوئی اہتمام کیا مگر اس کے باوجود عام ایرانی کثیر تعداد میں سڑکوں پر نکل کر بے ساختہ خوشی کا اظہار کر رہے تھے۔ ایران کے روایتی تہواروں میں سے کوئی بھی 16جنوری سے منسوب نہیں ہے لیکن پھر بھی ایرانیوں کو ایک ایسی خوشی ملی تھی جو ان سے سنبھالی نہیں جارہی تھی اور جسے منانے کے لیے وہ صبح کا انتظار کیے بغیر آدھی رات کو سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ اصل میں 16جنوری 2016ء ایک ایسے معاہدے پر عمل درآمد کے آغاز کا دن تھا جس پر ایک دہائی سے زیادہ عرصہ تک جاری رہنے والی گفتگو کے بعد دستخط ہوئے تھے۔

ایران ، 1979ء کے انقلاب کے بعد بیرونی دنیا سے الگ تھلگ ہونا شروع ہو ا۔ اس کے بعد عراق کے ساتھ طویل جنگ کے دوران ایران مزید تنہائی کا شکار ہوگیا۔ بیرونی دنیا کو ایران کے ایٹمی پروگرام پر تشویش تھی۔ لہذا ایران کے ایٹمی پروگرام پر تحفظات دور ہونے کی صورت میں اس پر عائد اقتصادی پابندیاں ختم کرنے کی پیشکش کی گئی۔ ۔ اس سلسلے میں 2006ء میں امریکہ ، برطانیہ، روس، چین، فرانس اور جرمنی کے نمائندوں کے ایرانی سفارت کاروں کے ساتھ مذاکرات کا آغاز ہوا۔ ان مذاکرات میں اس وقت مثبت پیش رفت ہوئی جب 2013ء میں حسن روحانی ایران کے صدر منتخب ہوئے۔ اس تسلسل میں امریکہ کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے کے بعد جنوری 2016ء میں ایران پر عاید اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ ہوا۔ امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے پر عمل درآمد کا آغاز ہونے پر ایرانیوں نے جس طرح سے خوشیوں کا اظہار کیا اس سے دنیا پر یہ واضح ہوا کہ وہ کس قدر بالغ نظر ہیں کیونکہ ان کا خوشی کا اظہار اس بات کی علامت تھا کہ انہیں یہ غم نہیں کہ ان کا ملک اب ایٹمی قوت نہیں بن سکے گا بلکہ وہ اس بات پر خوش ہیں کہ بیرونی دنیا کے قریب ہونے سے ان پر معاشی ترقی کے بند دروازے پھر سے کھلتے چلے جائیں گے۔ یہ معاہدہ طے پانے سے پہلے امریکہ میں اس کی حمایت یا مخالفت کی پیمائش کے لیے جو سروے ہوئے ان میں 59فیصد امریکیوں نے اس کی حمایت اور 31فیصد نے مخالفت کی تھی۔

جس معاہدے پر ایرانیوں نے خوشی اور امریکیوں نے اطمینان کا اظہار کیا تھا اس کے طے ہونے کے بعد یہ حیرت انگیز بات بھی سامنے آئی کہ اپنے قیام کے بعد سے امریکہ کی سب سے زیادہ فوجی و اقتصادی امداد حاصل کرنے والے اسرائیل نے یہ معاہدہ ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ اس معاہدے کو ماننے سے اسرائیل کے انکار سے زیادہ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اس کی مخالفت کرنے والے اسرائیلی وزیراعظم کی ہاں میں سب سے پہلی ہاں سعودی عرب کے حکمرانوں نے ملائی تھی ۔ یوں ایران ، امریکہ ، نیوکلیئر معاہدے کی مخالفت میں سعودی عرب اور اسرائیل ایک ہی صفحے پر دکھائی دیئے ۔ سعودیہ اور اسرائیل کو ایک صفحے پر دیکھ کر کچھ مبصروں نے یہ کہا تھا کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد نئے سرے سے ملکوں کی ترجیحات طے ہونے اور اقتصادی مفادات کے تحت نئے دوست اور دشمن بننے کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا اس میں مزید تیزی آگئی ہے ۔

ایران نے ایٹم بنانے سے دستبرار ہونے کا جو معاہدہ کیا اسےJoint Comprehensive Plan of Action(JCPA) کا نام دیا گیا تھا ۔ اس معاہدے پر دستخط کرنے والے دیگر ممالک چین ، فرانس، جرمنی برطانیہ ، روس اور امریکہ تھے۔ اس معاہدے سے قبل ایک عرصہ تک ایران، امریکہ کو بزرگ شیطان اور امریکہ ، ایران کو برائی کا منبع کہتا رہا۔ امریکہ کے رویے میں ایران کے لیے تبدیلی آنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وینزویلا کے مرحوم سابق صدر ہوگو شاویز نے اس وقت کے ایرانی صدر احمدی نعاد کے ساتھ مل کر امریکہ کے خلاف اتحاد بنانے کی کوششیں شروع کر دی تھیں۔ اس صورتحال میں امریکہ اور اس کی حلیف بڑی اقتصادی طاقتوں کو یہ خطرہ محسوس ہونے لگا تھا کہ ایٹمی اسلحہ بنانے کی تیاریوں میں مصرف ایران کا وینزویلا سے ممکنہ اتحاد آنے والے وقتوں میں ان کے سرمایہ دارانہ مفادات کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ لہذ اس خدشہ کے تحت انہوں نے ایران کے لیے عرصہ سے جاری اپنی روش بدلتے ہوئے اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ اقتصاد ی مسائل میں الجھے ہوئے ایران نے بھی اس عمل کا مثبت جواب دیا۔ یوں عالمی طاقتوں کا ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ طے پایا۔

امریکہ کے دیگر ملکوں سے مل کر ایران کے ساتھ کیے گئے نیوکلیئر معاہدہ سے قبل انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے اپنے اہلکاروںکے مختلف ایرانی نیوکلیئر تنصیبات کے طویل عرصہ تک جاری رہنے والے معائنوں کے بعد یہ قرار دیا تھا کہ انہیں ایسے شواہد نہیں مل سکے جس سے یہ ظاہر ہو کہ ایران ایٹم بم بنانے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ نیوکلیئر معاہدہ طے پانے کے بعد بھی، اس معاہدے کے پروٹوکول کے مطابق انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے انسپکٹر، ایران کی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کرتے رہے۔ ان معائنہ کاروں نے کہیں بھی ایسی رپورٹ نہیں دی تھی کہ ایران پھر سے ایٹم بم بنانے کی طرف گامزن ہو چکا ہے۔ انٹر نیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی ایران کے لیے مثبت رپورٹوں کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے صدارتی الیکشن کی انتخابی مہم کے دوران یہ اعلان کیا کہ اگر معاہدے میں شامل دیگر ممالک امریکہ سے اتفاق نہ بھی کریں تو وہ پھر بھی صدر بننے کے بعد خود کو ایران کے ساتھ کیے گئے جوہری معاہدے سے علیحدہ کر لے گا کیونکہ اسی میں امریکہ کا مفاد ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی مرتبہ امریکہ کا صدر بننے کے بعد وہی کیا جس کا اظہار وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران کر چکا تھا۔ اپنی پہلی صدارتی مدت میں ٹرمپ نے ایران پر حملہ تو نہ کیا لیکن اس پر پھر سے اقتصادی پابندیاں عائد کر کے سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ ٹرمپ نے اپنی دوسری صدارتی مدت شروع ہونے کے بعد اسرائیل سے مل کر ایرانیوں کے خلاف جس بربریت کا مظاہرہ کیا وہ سب پر عیاں ہے۔ نیوکلیئر معاہدہ طے کرنے سے قبل تو انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی سے ایران میں ایٹم بم بنانے کی صلاحیت نہ ہونے کی تصدیق کرائی گئی تھی لیکن اس پر پہلے جون 2025ء اور پھر مارچ 2026ء میں حملہ کرنے سے پہلے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی رائے لینے یا اسے ملوث کرنے سے جان بوجھ کر احتراز کیا گیا۔ امریکی ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی نیتن یاہو ایران پر دو مرتبہ تباہ کن حملہ کرنے باوجود اپنے مطلوبہ قاصد حاصل نہیں کر سکے۔ افسوس کہ یورپ اور امریکہ کے نام نہاد مہذب معاشروں میں اتنی اخلاقی جرات نہیں کہ وہ ایران کے ان بے خطا شہریوں کو بے رحمی سے سزا دینے والے ٹرمپ اور نیتن یاہو کا احتساب کر سکیں جن شہریوں نے ایران سمیت پوری دنیا کو محفوظ اور پرامن بنانے کا خواب دیکھتے ہوئے ایران ، امریکہ جوہری معاہدہ طے پانے پر 16جنوری 2016ء کو خوشیوں کا اظہار کیا تھا۔ ٹرمپ ، نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں نے ایرانیوں کے دنیا کو مستقبل میں پرامن دیکھنے کے خواب چکنا چور کر دیئے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button