خوف ، مصلحت اور جرآت
خوف ، مصلحت اور جرآت
شہر خواب ۔۔۔
صفدر علی حیدری۔۔۔
انسانی تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کے عروج و زوال کا دارومدار ان کے مادی وسائل سے زیادہ ان کی اخلاقی جرات پر ہوتا ہے۔
مولا علیؓ کا فرمان کس قدر معنی خیز ہے’’ قبرستان ایسے لوگوں سے بھرے پڑے ہیں جو صرف اس خوف سے حق کے لیے کھڑے نہ ہوئے کہ کہیں مار نہ دئیے جائیں‘‘۔
یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ ایک آفاقی سچائی ہے جو آج کے عالمی منظرنامے، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ کے تناظر میں ایک تلخ نوحہ بن چکی ہے۔ آج کی امتِ مسلمہ ایک ایسے اخلاقی بحران میں گھری ہے جہاں ’’ خوف‘‘ نے ضمیر کی آواز کو دبایا ہوا ہے اور ’’ مصلحت‘‘ نے حق گوئی کو مصلوب کر دیا ہے۔ یہ مقالہ اس خاموشی کے اسباب، اسرائیل و ایران کے تزویراتی تضادات اور عالمِ اسلام کے معاشی و سیاسی جبر کا احاطہ کرتا ہے، اور یہ وضاحت کرتا ہے کہ خوف اور مصلحت نے امت کو کس طرح ایک اخلاقی بحران میں دھکیل دیا ہے۔
خوف وہ زنجیر ہے جو انسان کے قدموں کو حق کی راہ پر چلنے سے روک دیتی ہے۔ جب فرد یا قوم اپنی جسمانی بقا کو اپنے نظریاتی وجود پر مقدم کر لیتی ہے، تو وہیں سے اخلاقی موت کا آغاز ہوتا ہے۔ آج مسلم معاشروں میں پھیلا ہوا جمود اسی خوف کا نتیجہ ہے کہ ’’ اگر ہم بولے تو کیا ہوگا؟‘‘۔
مذہبی و اخلاقی جرات کا فقدان اس قدر بڑھ چکا ہے کہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ایک دیوانے کا خواب معلوم ہوتا ہے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں حق کے لیے کھڑا ہونا لازمی سمجھا جاتا تھا۔ آج بھی قرآن و سنت ہمیں ہدایت دیتی ہیں کہ ظلم کے خلاف بولنا ایمان کا حصہ ہے، مگر خوف نے مسلمانوں کو خاموشی میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ خاموشی صرف عدم فعالیت نہیں، بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت ہے۔
اسرائیل کی توسیع پسندی مغرب کی غیر مشروط حمایت سے مستحکم ہے۔ بین الاقوامی قوانین اکثر اس جارحیت کے سامنے بے بس ہیں، اور انسانی حقوق کے اصول پسِ پشت رہ جاتے ہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جس نے پورے خطے کو ایک بارود کے ڈھیر پر لا کھڑا کیا ہے۔
اس کے برعکس، ایران نے خود کو خطے میں ایک مزاحمتی اور جارحانہ دفاعی طاقت کے طور پر پیش کیا ہے۔ ایران کے موقف کے مطابق، جزوی امن یا عارضی جنگ بندی مسئلے کا حل نہیں بلکہ جڑ کا خاتمہ ہی واحد راستہ ہے۔ اس دو دھاری کشمکش میں عالمِ اسلام اکثر خاموش تماشائی کے طور پر دکھائی دیتا ہے۔ یہ تضاد اس لیے بھی گہرا ہے کیونکہ مسلم دنیا کے مختلف ممالک اپنے اپنے مفادات کی خاطر ان دونوں میں سے کسی ایک کا ساتھ دینے کے بجائے ’’ غیر جانبداری‘‘ کا نقاب اوڑھ کر بیٹھ گئے ہیں۔
خلیجی ریاستیں: مصلحت اور معاشی جبر
خلیجی ریاستیں اکثر اپنے اقتدار کے تحفظ کے خوف سے موقف اختیار کرتی ہیں۔ ان کے لیے بقا کا مطلب مغرب کے ساتھ توازن برقرار رکھنا ہے۔ اگر امریکہ یا مغرب کی ناراضگی سامنے آئے تو ان شاہی خاندانوں کا اقتدار خطرے میں آ سکتا ہے۔’’ ڈالر ڈپلومیسی‘‘ نے ان ریاستوں کو اس حد تک جکڑ دیا ہے کہ وہ اپنی توانائی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی جرات کھو بیٹھی ہیں۔ فلسطینیوں کی امداد بھیجنا یا جنگ میں کردار ادا کرنا اکثر اقتصادی دبا کے تحت محدود رہتا ہے۔ یہ ریاستیں جانتی ہیں کہ ان کی معیشت کا پہیہ مغربی منڈیوں کے بغیر نہیں چل سکتا، اسی لیے وہ اخلاقیات اور مفادات کے درمیان کسی ایک کا انتخاب کرنے سے کتراتی ہیں۔
جنگیں صرف بارود سے نہیں بلکہ معیشت سے بھی لڑی جاتی ہیں۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے قرضوں تلے دبے ہوئے مسلم ممالک کی خارجہ پالیسی آزاد نہیں رہ سکتی۔ یہ اجتماعی خاموشی خوف یا ضرورت کے سبب پیدا ہوتی ہے، اور اکثر تاریخی طور پر مجرمانہ ثابت ہوتی ہے۔
جب کسی قوم کا پیٹ دوسروں کے رحم و کرم پر ہو، تو اس کی زبان سے حق کی صدا نکلنا محال ہو جاتا ہے۔ یہ معاشی انحصار ہی وہ اصل زنجیر ہے جس نے امتِ مسلمہ کو سیاسی طور پر بانجھ کر دیا ہے۔ خارجہ پالیسی کے فیصلے آزادانہ طور پر نہیں، بلکہ قرض دہندگان کی مرضی کے مطابق کیے جاتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی قومیں بحران میں آئیں، انہیں ایسی قیادت ملی جس نے موت کے خوف کو جرات میں بدل دیا۔ آج عالمِ اسلام میں ایسے قائدین کم ہیں جو امت کو متحد کر سکیں۔ صلاح الدین ایوبی، عمر مختار یا ٹیپو سلطان جیسی اخلاقی اور تاریخی بلند قامت شخصیات کا فقدان آج شدت سے محسوس ہوتا ہے۔
موجودہ مصلحت پسند سیاستدان صرف اپنی کرسی بچانے کے فن سے واقف ہیں۔ وہ مصلحت کے دائرے میں رہتے ہوئے تاریخ میں جگہ بنانے کے خواب تو دیکھتے ہیں، مگر عملی میدان میں وہ خاموش مردوں کی مانند ہیں۔
تاریخ صرف ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے موجوں کے خلاف تیرنا سیکھا۔ وقت کی مصلحتوں میں دب جانے والے افراد تاریخ کے ملبے میں گم ہو جاتے ہیں۔ موجودہ خاموشی صرف غزہ یا لبنان کے لیے نقصان دہ نہیں بلکہ یہ مسلم ریاستوں کے مستقبل کے لیے بھی خطرناک ہے۔ جب آپ ظلم کے خلاف نہیں بولتے، تو ظالم آپ کے دروازے پر دستک دینے کے لیے تیار بیٹھا ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا نے روایتی سنسرشپ کو توڑ دیا ہے۔ آج کا نوجوان حقیقت کو جان رہا ہے اور مصلحتوں کو مسترد کر رہا ہے۔ عوامی شعور کی یہ نئی لہر حکمرانوں کی خاموشی کے باوجود ایک امید کی کرن ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ ضمیر ابھی مکمل طور پر مردہ نہیں ہوا، بلکہ اسے صرف ایک پلیٹ فارم اور جراتِ اظہار کی ضرورت ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی اکثر مصلحت، معاشی اور علاقائی دبا کے تحت محدود رہتی ہے۔ ترکی اور سعودی عرب جیسے ممالک کے اقدامات بھی اسی خوف اور مفاد کی سیاست کے دائرے میں آتے ہیں۔ یہ ریاستیں ایک طرف عوامی جذبات کو ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کرتی ہیں تو دوسری طرف عالمی طاقتوں کو ناراض کرنے سے بچتی ہیں۔ یہ تضاد امت کو تقسیم اور کمزور کر رہا ہے۔
خوف کا علاج ایمان اور اخلاقی جرات میں ہے۔ امتِ مسلمہ اگر مسلکی اور لسانی اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک مشترکہ دفاعی و معاشی بلاک بنا لے، تو عالمی استعمار کے لیے مقابلہ کرنا ممکن ہو جائے گا۔ لیکن اس کے لیے پہلی شرط ’’ خوف سے آزادی‘‘ ہے۔
حق کے لیے کھڑا ہونا مہنگا ضرور پڑتا ہے، لیکن خاموشی کی قیمت کہیں زیادہ مہنگی ہے، نسلوں کی تباہی اور تاریخی ذلت۔ آج امتِ مسلمہ کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ زندہ لوگوں کی فہرست میں رہنا چاہتے ہیں، یا ان خاموش مردوں کے قبرستان کا حصہ بننا چاہتے ہیں جنہوں نے جینے کی تمنّا میں اپنا ضمیر بیچ دیا۔ تاریخ آپ کے سامنے ہے، اب قلم اور ضمیر آپ کے ہاتھ میں ہیں۔
اقبالؒ نے کہا تھا
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر







