ColumnImtiaz Ahmad Shad

ماہِ صیام کا آخری عشرہ کیسے منائیں؟

ذرا سوچئے

ماہِ صیام کا آخری عشرہ کیسے منائیں؟

امتیاز احمد شاد

رمضان المبارک اسلامی سال کا سب سے بابرکت اور مقدس مہینہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی خصوصی رحمتوں، برکتوں اور مغفرتوں کے ساتھ مخصوص فرمایا ہے۔ اس مہینے میں مسلمان روزہ رکھ کر، نمازیں ادا کر کے، قرآن مجید کی تلاوت کر کے اور صدقات و خیرات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ رمضان المبارک کے تینوں عشروں کی اپنی الگ الگ فضیلت اور اہمیت ہے، لیکن آخری عشرہ خصوصی طور پر زیادہ اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس میں بے شمار روحانی برکتیں اور سعادتیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔ یہی وہ عشرہ ہے جس میں شبِ قدر جیسی عظیم رات عطا کی گئی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر قرار دی گئی ہے۔ اسی لیے مسلمان اس عشرے میں عبادت، دعا اور توبہ میں پہلے سے زیادہ محنت کرتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکیں۔

رمضان المبارک کا آخری عشرہ دراصل نجات کا عشرہ کہلاتا ہے۔ حدیث مبارکہ کے مطابق اس عشرے میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جہنم کی آگ سے نجات عطا فرماتا ہے۔ اس لیے مسلمان اس عشرے میں زیادہ سے زیادہ عبادت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نمازِ تہجد کا اہتمام کیا جاتا ہے، قرآن پاک کی تلاوت بڑھا دی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی جاتی ہے۔ اس عشرے کا اصل مقصد یہی ہے کہ انسان اپنے گزشتہ گناہوں پر نادم ہو کر اللہ کے حضور سچی توبہ کرے اور آئندہ نیک زندگی گزارنے کا عہد کرے۔ جو شخص اخلاص کے ساتھ اللہ سے معافی مانگتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے اور اسے نئی زندگی عطا کرتا ہے۔

رمضان کے آخری عشرے کی سب سے بڑی فضیلت شبِ قدر ہے۔ قرآن مجید میں اس رات کی عظمت کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ یہ رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس رات میں اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتیں نازل ہوتی ہیں اور فرشتے زمین پر اترتے ہیں۔ جو شخص اس رات کو ایمان اور اخلاص کے ساتھ عبادت میں گزارے اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ اس رات کو تلاش کرنے کے لیے حضور اکرم ٔ نے رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں عبادت کا خصوصی اہتمام کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔ اسی لیے مسلمان ستائیسویں رات سمیت آخری دس راتوں میں خصوصی عبادات کا اہتمام کرتے ہیں، نوافل پڑھتے ہیں، قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے اور پوری امت کے لیے دعائیں مانگتے ہیں۔

آخری عشرے کی ایک اہم سنت اعتکاف بھی ہے۔ اعتکاف کا مطلب ہے کہ انسان دنیاوی مصروفیات سے کنارہ کش ہو کر مسجد میں اللہ کی عبادت میں مشغول ہو جائے۔ حضور اکرم ؐ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے اور اپنے صحابہؓ کو بھی اس کی ترغیب دیتے تھے۔ اعتکاف کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنے دل اور ذہن کو دنیاوی پریشانیوں اور مصروفیات سے ہٹا کر مکمل طور پر اللہ کی عبادت میں لگا دے۔ اس دوران انسان زیادہ سے زیادہ قرآن کی تلاوت کرتا ہے، ذکر و اذکار کرتا ہے اور دعا میں مشغول رہتا ہے۔ اعتکاف انسان کے دل کو پاکیزگی عطا کرتا ہے اور اسے روحانی سکون فراہم کرتا ہے۔

رمضان المبارک کے آخری عشرے میں صدقہ و خیرات کی بھی بڑی اہمیت ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم ضرورت مندوں اور غریبوں کی مدد کریں تاکہ معاشرے میں محبت، ہمدردی اور بھائی چارہ فروغ پائے۔ اس عشرے میں مسلمان زکوٰۃ اور صدقہ الفطر ادا کرتے ہیں تاکہ غریب اور نادار لوگ بھی عید کی خوشیوں میں شامل ہو سکیں۔ صدقہ دینے سے نہ صرف معاشرے میں مساوات پیدا ہوتی ہے بلکہ اللہ تعالیٰ بھی اپنے بندے سے راضی ہوتا ہے اور اس کے رزق میں برکت عطا فرماتا ہے۔

آخری عشرہ ہمیں اپنے اعمال کا جائزہ لینے کا بھی موقع فراہم کرتا ہے۔ انسان سوچتا ہے کہ رمضان کے شروع سی لے کر اب تک اس نے اپنی زندگی میں کیا تبدیلی پیدا کی ہے۔ کیا اس کی عبادت میں اضافہ ہوا؟ کیا اس نے اپنے اخلاق کو بہتر بنایا؟ کیا اس نے دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک کیا؟ یہ سوالات انسان کو اپنی اصلاح کا موقع دیتے ہیں۔ اگر انسان کو محسوس ہو کہ اس سے کوتاہیاں ہوئی ہیں تو آخری عشرہ اس کے لیے بہترین موقع ہے کہ وہ اپنی غلطیوں کی تلافی کرے اور باقی دنوں کو زیادہ سے زیادہ عبادت میں گزارے۔

رمضان المبارک کا آخری عشرہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اور اصل کامیابی آخرت کی کامیابی ہے۔ جب انسان اللہ کی عبادت میں مصروف ہوتا ہے تو اس کے دل میں تقویٰ پیدا ہوتا ہے اور وہ گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی تقویٰ رمضان کا اصل مقصد ہے۔ اگر رمضان کے بعد بھی انسان اپنی زندگی میں نیکی، سچائی اور تقویٰ کو قائم رکھے تو یہی رمضان کی اصل کامیابی ہے۔

رمضان المبارک کا آخری عشرہ مسلمانوں کے لیے بے حد قیمتی اور بابرکت وقت ہے۔ یہ عشرہ انسان کو اللہ کے قریب ہونے، گناہوں سے توبہ کرنے اور اپنی زندگی کو بہتر بنانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس عشرے کی قدر کریں، زیادہ سے زیادہ عبادت کریں، دوسروں کی مدد کریں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں اپنی رحمتوں اور برکتوں سے نوازے۔ اگر ہم اخلاص اور سچے دل کے ساتھ اس عشرے کو گزاریں تو یقیناً اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی عطا فرمائے گا۔

جواب دیں

Back to top button