
ایران کی جانب سے امریکی فوجی اڈوں کے خلاف کارروائی کے باعث مسلسل حملوں نے مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں بڑے پیمانے پر افراتفری مچا دی ہے۔
عراق کے جنوبی شہر بصرہ کی بندرگاہ کے قریب دو تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے بعد ملک کے آئل ٹرمینلز پر آپریشن روک دیا گیا۔ عملے کے زیادہ تر افراد کو بچا لیا گیا تاہم ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔
بحرین میں ایران کے حملے کے بعد بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب تیل اور ایندھن کے ٹینکوں میں آگ لگ گئی۔ دھواں اتنا شدید ہے کہ حکام نے شہریوں کو کھڑکیاں بند رکھنے کی ہدایت دی ہے۔
عمان کے شہر صلالہ کی بندرگاہ پر ایندھن کے ذخائر پر کل کے حملے کے بعد آگ بجھانے کی کوششیں جاری ہیں۔ حکام نے احتیاطاً آئل ایکسپورٹ ٹرمینل پر موجود جہازوں کو خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔
ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ خطے کو معاشی جھٹکے سے دوچار کرنا چاہتا ہے۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے مغربی مالیاتی اداروں کو بھی ’جائز ہدف‘ قرار دیا ہے، جس کے بعد بین الاقوامی بینکوں نے خلیجی ممالک میں اپنے دفاتر بند کرنا شروع کر دیے ہیں۔







