قیدیوں کی پیرول، تبادلے اور کرپشن

قیدیوں کی پیرول، تبادلے اور کرپشن
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
میاں شہباز شریف جن دنوں پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے قریبا ہر دو ماہ بعد پیرول پر قیدیوں کی رہائی کے لئے قائم کمیٹی کا اجلاس باقاعدگی سے ہوتا تھا جس میں ایسے قیدی جو اپنی قیدی کا ایک تہائی حصہ گزار چکے ہوتے اور اندرون جیل ان کا کنڈکٹ تسلی بخش ہوتا تھا انہیں پیرول پر رہائی دے دی جاتی تھی۔ پی ٹی آئی کی حکومت آئی تو اس وقت کے ہونہار وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے پیرول پر رہائی کے لئے کابینہ کی کمیٹی قائم کر دی۔ قیدیوں کو کینڈا کی طرز پر پیرول پر رہائی دینے کے لئے محکمہ پیرول کی تنظیم نو پر کروڑوں روپے خرچ کرکے محکمہ میں نئے افسر لائے گئے اور پنجاب انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی سے ایک سافٹ ویئر تیار کرایا گیا جس کا مقصد پیرول پر رہا ہونے والے قیدیوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا تھا جو دھرے کا دھرا رہ گیا۔ مرتا کیا نہ کرتا والی بات محکمہ کی اپ گریڈیشن کرتے کرتے قیدیوں کی پیرول پر رہائی میں ایسا تعطل آیا جو ابھی تک جاری ہے۔ چنانچہ موجودہ حکومت نے بھی اپنی پیش رو حکومت کی تقلید کرتے ہوئے جو کام پنجاب کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ نے کرنا تھا کابینہ کی کمیٹی کے سپرد کر دیا عجیب تماشا ہے کئی سو قیدی پیرول پر رہائی کے منتظر ہیں کابینہ کمیٹی دو چار ماہ کے بعد اجلاس کا انعقاد کرکے دو تین قیدیوں کو رہائی دے دیتی ہے۔ سوال ہے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ زیادہ ذمہ دار ہوتا ہے یا وہ لوگ جو منتخب ہو کر آتے ہیں ان کی ذمہ داری زیادہ ہوتی ہے ؟ وزیراعلیٰ نے وزراء او ر ارکان اسمبلی کو ممنون کرنا ہی تھا تو اس کے لئے اور بہت سے راستے تھے نہ کہ قیدیوں کی رہائی کا معاملہ سیاسی لوگوں کے حوالے کرکے پہلے سے جو کام احسن طریقہ سے جاری تھا اسے روک دیا گیا ہے؟ ہم وزیراعلیٰ پنجاب سے کہیں گے پیرول پر قیدیوں کی رہائی کے لئے اعلیٰ افسران پر مشتمل کمیٹی جو پہلے کام کر رہی تھی اسے دوبارہ یہ ذمہ داری سونپی جائے تاکہ پیرول پر رہائی کے حقدار قیدیوں کی حق تلفی نہ ہو سکے۔ تعجب ہے جیل افسران کی تعیناتی اور ماتحت عملہ کی پوسٹنگ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ سے ہوتی ہے۔ آئی جیل جیل خانہ جات اور ریجنوں میں لگائے گے ڈی آئی جییز ایک وارڈر کا تبادلہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتے جب تک وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ سے این او سی کا اجرا نہ ہو جائے۔ جیل افسران کے تبادلوں کا یہ عالم ہے کسی ایک سپرنٹنڈنٹ کو تبدیل کیا جاتا ہے تو اگلے روز اس کا تبادلہ منسوخ ہوجاتا ہے۔ ڈسٹرکٹ جیل منڈی بہائوالدین کے سپرنٹنڈنٹ کو اٹک تبدیل کیا گیا تو دو روز بعد اس کا تبادلہ منسوخ ہوگیا۔ ایک سپرنٹنڈنٹ کو ڈسٹرکٹ جیل قصور لگایا گیا اگلے روز اس نے اپنا تبادلہ ڈسٹرکٹ جیل گجرات کرا لیا۔ اگر ارکان اسمبلی کی سفارش کر افسران کے تبادلے کرنے مقصود ہیں تو سیکرٹریٹ میں کام کرنے والے اعلیٰ افسران کی پھر کیا ضرورت ہے ؟ ہم پہلے بھی اپنے کالموں اور وی لاگ میں یہ با ت کہہ چکے ہیں جیلوں کے ہسپتالوں میں مال پانی دینے والے قیدیوں اور حوالایتوں کو رکھنے کی بجائے جو قیدی اور حوالاتی علیل ہوں انہیں ہی رکھا جائے مگر مال پانی کی چمک کے سامنے تمام قانون اور ضابطے بے معنی ہیں۔ سینٹرل جیل اڈیالہ میں ایک سزائے موت کا قیدی جو ہر لحاظ سے صحت مند ہے بار بار ہسپتال میں رکھا جاتا ہے۔ یہ بات درست ہے سنٹرل جیل راول پنڈی میں نئے تعینات ہونے والے سپرنٹنڈنٹ نے ایک قیدی کو ہسپتال سے فارغ کیا لیکن چند دن بعد اسے واپس جیل کے ہسپتال میں داخل کر لیا گیا ہے۔ سینٹرل جیل راولپنڈی میں کئی ملازمین برسوں سے یہاں کام کر رہے ہیں جن کے تبادلے محض اس بنا پر نہیں کئے جاتے ہیں وہ قیدیوں اور حوالاتیوں سے مال پانی جمع کرنے کا ذریعہ ہیں۔ ایک ذرائع نے ہمیں بتایا جیلوں کے افسران میں باہمی اعتماد کا فقدان بھی ایک وجہ ہے جس سے بعض ملازمین ایک عرصہ سے سینٹرل راولپنڈی میں تعنیات ہیں۔ پتہ چلا ہے نئے سپرنٹنڈنٹ نے مال پانی کے عوض خصوصی ملاقاتوں کا سلسلہ بند کر دیا ہے۔ دیکھتے ہیں یہ سلسلہ کب تک جاری رہتا ہے یا پھر کچھ وقفے کے بعد اردلی کے ذریعے خصوصی ملاقاتوں کا بند سلسلہ از سر نو شروع ہوجائے گا۔ پنجاب کی جیلوں میں مبینہ کرپشن کے خاتمے میں ایک سب سے بڑی رکاوٹ ملازمین کو ایک ہی جیل میں کئی کئی سال ہو جاتے ہیں۔ جب کبھی انہیں تبدیل کیا جاتا ہے دو چار ماہ کے بعد اسی جیل میں واپس آجاتے ہیں تو سوال ہے کیا محکمہ جیل خانہ جات کے پاس ان کے تبادلوں کا کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا؟ چند قبل پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے ملاقاتی نے ایک اردلی کو پندرہ ہزار روپے مبینہ طور پر رشوت دینے کا الزام لگایا ہے۔ اگرچہ اسے ملازمت سے معطل کر دیا گیا ہے مگر وہ چند روز بعد دوبارہ ملازمت پر بحال ہو جائے گا۔ حالانکہ اسے ملازمت پر بحال کرنے کے بعد کسی دوسری جیل میں بھیجنا چاہیے۔ بعض جیلوں میں ڈی آئی جی کسی اہل کار کو اس کے خلاف شکایت موصول ہونے پر بدل دے تو سپرنٹنڈنٹ جیل ایسے ملازمین کو فارغ نہیں کرتے ۔ دراصل پنجاب کی جیلوں میں آپریشن کلین آپ کی اشد ضرورت ہے تاکہ مبینہ طور پر کرپٹ ملازمین کا محاسبہ ہو سکے۔ ہم وزیراعلیٰ معائنہ کمیشن کے چیئرمین راجا محمد حنیف سے بھی درخواست کریں گے وہ سنٹرل جیل راولپنڈی کے معاملات پر نظر رکھیں۔ صوبائی محکمہ جات میں اگر کسی قسم کی کرپشن کی شکایات پائی جائے تو وہ بھی انکوائری کے احکامات جاری کر سکتے ہیں۔ جیلوں میں مبینہ کرپشن کے بہت سے طریقے ہیں جن کا کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا لہذا اس طرح کی کرپشن کا کھوج لگانے کے لئے جیلوں میں اچانک چھاپے مارے جائیں تاکہ جیلوں میں پائی جانے والی کرپشن اور دیگر بے قاعدگیوں کی نشاندہی ہو سکے۔ گو جیلوں کے ہسپتالوں میں تعیناتی محکمہ صحت کی ذمہ داری ہے تاہم انتظامی کنٹرول تو محکمہ جیل خانہ جات کا ہی ہے اس لئے جیلوں کے ہسپتالوں پر خصوصی نظر رکھی جائے اور پیشگی اطلاع دیئے بغیر جیل ہسپتالوں کا معائنہ کیا جائے ۔





