پاکستان دوراہے پر!!!

پاکستان دوراہے پر!!!
محمد مبشر انوار
نیتن یاہو کی حماقتوں سے اس وقت دنیا بھر کا امن دائو پر لگ چکا ہے اور ٹرمپ جو اس نعرے پر منتخب ہوئے تھے کہ وہ دنیا سے جنگیں ختم کروا کر، دنیا کو امن کا گہوارہ بنا دیں گے، نیتن یاہو کے ہاتھوں ایسے کھیل رہے ہیں جیسے بچوں کے ہاتھ کوئی کھلونا ہو۔ جو بائیڈن کو طعنے دینے والے کی اپنی عقل نجانے کہاں جا سوئی ہے ،ویسے پہلے بھی پوری پوری ہی دکھائی دیتی تھی کہ عقل سے زیادہ ٹرمپ فقرے چست کرنے میں اپنی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہیں،سونے پہ سہاگہ جیفری ایپسٹین فائلز نے نہ صرف ٹرمپ بلکہ امریکی انتظامیہ کو بھی ،نیتن یاہو کے سامنے ڈھیر کررکھا ہے۔ ابتدائی طور پر ،چھوٹے چھوٹے ملکوں کے درمیان جنگیں ختم کروا کر ،ٹرمپ اس کا کریڈٹ بھر پور طریقے سے لیتے رہے لیکن نہ غزہ میں مکمل طور پر جنگ بندی آج تک کروا پائے اور نہ ہی یوکرین میں روس کو روکنے میں کامیاب ہو سکے البتہ قابل ذکر جنگ پاکستان بھارت کے درمیان ختم کروانے میں ہی کامیاب ہوئے۔ اس کی وجہ بھی ساری دنیا کو معلوم ہے کہ دونوں ملک ایٹمی طاقت ہونے کے ساتھ ساتھ جذباتی بھی ہیں اور کسی بھی وقت معاملات ان کے ہاتھ سے نکل سکتے ہیں لیکن پاکستان کی مشکل یہ ہے کہ پاکستان اپنے معاشی حالات کی وجہ سے انتہائی تکلیف دہ صورتحال سے دوچار ہے اور کئی ایک فیصلے آزادانہ لینے سے قاصر ہے ،یہی کچھ اس جنگ میں بھی نظر آیا کہ شروع میں بھارت نے اپنا دباؤ بنائے رکھا، مسلسل حملے کرتا رہا اور امریکہ اس صورتحال سے محظوظ ہوتا دکھائی دیتا رہا، اس کو دو ملکوں کا علاقائی معاملہ گردانتا رہا اور جب پاکستان کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا اور جوابی کارروائی کی تب بھارت کے ہوش ٹھکانے آئے اور بھاگا امریکہ کے پاس کہ جنگ رکوائی جائے۔ اس دوران ساری دنیا نے بخوبی دیکھ لیاکہ پاکستان کی عسکری صلاحیت ،ماضی کی نسبت بہت بہتر ہو چکی ہے اور پاکستان کوئی تر نوالہ قطعا نہیں رہا،گو کہ ماضی میں بھی پاکستان اتنا تر نوالہ کبھی بھی نہیں رہا تھا لیکن حالات و واقعات نے پاکستان کو کمزور بنا رکھا تھا۔ افسوس اس امر کا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر آج بھی وہ حیثیت نہیں رکھتا کہ بطور ایک اسلامی ملک، دنیا بھر میں کہیں بھی مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کو بزور بازو روک سکے یا کم از کم پاکستان کا اتنا دبدبہ نظر آئے کہ دنیا کے کسی بھی کونے میں کسی مسلمان پر ظلم کرنے والوں کو بخوبی یہ علم ہو کہ اگر کسی مسلمان پر ظلم کیا گیا تو ایک ملک ایسا ہے، جو اسلامی اخوت کی بنیاد پر کسی بھی ظالم کا ہاتھ نہ صرف روک سکتا ہے بلکہ توڑ بھی سکتا ہے کہ پاکستان کا قیام اسی چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے بنایا گیا تھا۔ بدقسمتی سے پاکستان چند ایک انتہائی اہم معاملات میں،خود کفالت کی حد تک پہنچ چکا ہے تو کئی دیگر معاملات میں پاکستان آج بھی دوسروں پر انحصار کررہا ہے،ایسا نہیں کہ پاکستان میں استعداد کار نہیں یا پاکستانی ذہانت و فطانت و اہلیت میں کسی سے کم ہیں ،البتہ اب تک کی صورتحال میں یہی نظر آتا ہے کہ پاکستانی اشرافیہ بدنیتی میں سب سے آگے دکھائی دیتی ہے،جو پاکستان کے مفادات کو چاٹنے سے بھی گریز نہیں کرتی۔
دفاعی اعتبار سے پاکستان ،اس وقت تقریبا تمام اسلامی ممالک میں سرفہرست ہے اور اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو واضح طور پر دھول چٹا چکا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اگر خارجہ پالیسی پر نظر دوڑائیں تو یہ حقیقت بھی سامنے نظر آتی ہے کہ کئی ایک محاذ ہم اپنی ناکام خارجہ پالیسی کے ہاتھوں گنوا چکے ہیں،ان میں سے ایک کی مثال افغانستان ہے کہ کل تک پاکستان نے افغانیوں کو نہ صرف اپنے ہاں پناہ دئیے رکھی بلکہ ان کی جنگ بھی لڑتے رہے لیکن آج وہی افغانستان اور طالبان ،پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کے ایماء پر ،پاکستان کی سالمیت کے درپے نظر آتے ہیں اور اس پر انہیں کوئی پشیمانی بھی دکھائی نہیں دیتی۔ اس اہم معاملے پر ،پاکستان کی خارجہ پالیسی کیسے اور کیونکر خراب ہوئی،یہ سوال تو پاکستان کی خارجہ پالیسی ’’ چلانے والوں‘‘ سے پوچھنا بنتا ہے کہ کل تک بھارت ان طالبان کے خلاف رہا ہے لیکن آج کیسے یہ طالبان،ایک ایسے نازک وقت میں جب پاکستان اور بھارت آمنے سامنے برسرپیکار تھے،بھارت کے ساتھ دوستی کی پینگیں کیوں بڑھار ہے تھے؟بہرحال آج افغانستان پرآپریشن غضب للحق جاری ہے اور طالبان کے ان اثاثوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے،جہاں سے پاکستان پر دہشت گردی کا ارتکاب کیا جاتا رہا ہے،اور ان کی کمر توڑی جارہی ہے لیکن حیرت اس امر پر ہوتی ہے کہ پاکستان چھوٹی مچھلیوں کاشکار کیوں کررہا ہے؟جب یہ علم ہے کہ ان چھوٹی مچھلیوں کی پشت پناہی میں ،بھارت اور اسرائیل ملوث ہیں تو پھر پاکستان ان ممالک کے خلاف براہ راست بروئے کار کیوں نہیں آتا ؟بالخصوص اس وقت جب ساری دنیا میں پاکستان ان ممالک کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد بھی سامنے رکھتا ہے لیکن بھارت کو ’’ گرم تعاقب‘‘ کا حق تو دنیا تسلیم کرتی ہے مگر پاکستان کے لئے یہ حق نجانے کیوں سلب ہو جاتا ہے؟۔
پاکستان اپنے جغرافیائی محل وقوع کے اعتبار سے انتہائی اہم جگہ واقع ہے اور بدقسمتی سے اس وقت پاکستان کے طرفین کی سرحدوں گرم ہو چکی ہیں کہ ایک طرف پاکستان افغانستان میں آپریشن کر رہا ہے تو دوسری طرف پاکستان کی مشرقی سرحد،ہمیشہ غیر یقینی کیفیت کا شکار رہی ہے اور بھارت ہمیشہ موقع کی تلاش میں رہا ہے کہ کب پاکستان کسی مشکل کا شکار ہو اور وہ اپنی بھڑاس نکالے ۔ بھارت بہرحال اپنے ایک منصوبے میں تو کامیاب ہو چکا ہے اور پاکستان کو شمال مغربی سرحد میں الجھا چکا ہے جب کہ مودی کا حالیہ دورہ اسرائیل،کسی نئی مصیبت کا شاخسانہ دکھائی دے رہا ہے کہ مشرق وسطی میں جس طرح معاملات الجھ رہے ہیں اور جو توقعات و خواہشات امریکی و اسرائیلیوں کی اس وقت ہیں،انہیں پورا کرنے کے لئے،وہ کسی بھی حد سے گزرنے کے لئے آمادہ دکھائی دیتے ہیں،آگ میں جھلسنے اور جھلسانے کو تیار دکھائی دے رہے ہیں۔ ابتدائی طور پر تو ایران ،کے ساتھ پنجہ آزمائی کی جا چکی ہے لیکن درپردہ ان کی نظریں،مشرق وسطیٰ کی امیر ترین مسلم ریاستوںپر گڑی ہیں کہ کسی طرح ان ریاستوں کو دوبارہ پتھر کے دور میں بھیجا جائے اور ان کو ایک بارپھر اپنے زیر دست رکھا جائے۔ اب یہ واضح ہے کہ امریکہ بہرطور اسرائیل کے ہاتھوں یرغمال بن چکا ہے اور ٹرمپ کے فیصلے اس کے اپنے دکھائی نہیں دیتے کہ یہ ٹرمپ کی شخصیت سے میل نہیں کھاتے،وگرنہ جس طرح ایران مذاکرات کی میزپر ،لچک دکھا رہا تھا،امید تھی کہ معاملات سلجھ جائیں گے لیکن اسرائیل کو یہ کسی طور منظور نہیں تھااور جلد بازی میں امریکہ کو اس حد تک مجبور کردیا کہ امریکہ کو اسرائیلی جارحیت میں پہل کرنے پر اس کی پشت پناہی کرنا پڑی۔ جنگ کو تقریبا بارہ روز گزر چکے ہیں اور ایران اس دوران امریکہ و اسرائیل کو ٹھیک ٹھاک سبق سکھا چکا ہے گو کہ ایران کا اپنا جانی و مالی نقصان اچھا خاصہ ہو چکا ہے لیکن جنگوں میں ایسے نقصانات ہوتے ہی ہیں اور قومیں اس کے لئے تیار بھی رہتی ہیں۔ایران کو تو اس کا اچھا خاصہ تجربہ ہے لیکن فریق مخالف اس تجربے سے بے بہرہ رہا ہے کہ وہ ہمیشہ طے شدہ منصوبے کے مطابق میدان میں اترتا ہے اوراسے علم ہوتا ہے کہ اس کا نقصان کس حد تک اور کتنا ہو گا،اس سے آگے جانے کے لئے وہ تیار نہیں ہوتا لیکن اس مرتبہ معاملہ الٹ ہو چکا ہے۔ ایران نے حقیقی معنوں میں،اب تک نہ صرف اسرائیل بلکہ امریکہ کو بھی دھول چٹائی ہے،ایرانی کم قیمت مگر انتہائی موثر میزائل او رڈرونزکے حملوں کو روکنے کے لئے امریکی ان حملوں کو روکنے کے لئے بیش قیمت میزائل استعمال کرتے ہیں ،جو حملہ آوروں کی زیادہ تعداد کے باعث ،زیادہ موثر ثابت نہیں ہورہے اور اب تو ایران نے خطے میں امریکہ کے کئی ایک اڈے بری طرح برباد کرکے رکھ دئیے ہیںاور تقریبا بلا روک ٹوک اسرائیل میں تباہی و بربادی مچا رہے ہیں،جس کا مظاہرہ اسرائیل نے پہلے کسی جنگ؍ جھڑپ میں نہیں کیا۔البتہ ایران کی جانب سے خطے میں امریکی اثاثوں کو تباہ کرتے کرتے،کئی ایک ریاستوں کو یوں محسوس ہورہا ہے کہ جیسے ان کی خودمختاری پر ایران حملہ آور ہو رہا ہے،تو دوسری طرف یہ سوچ بھی پروان چڑھ رہی ہے کہ اگر امریکی اپنے اڈوں کی حفاظت نہیں کر سکتے تو ان ریاستوں کی حفاظت کیا خاک کریںگے؟امریکیوں کی بڑی تعداد خطے سے نکل رہی ہے اور امریکی حکومت بھی اپنے شہریوں کو ان ریاستوں سے نکلنے کی ہدایت جاری کر چکی ہے،جس سے امکان ہے کہ امریکہ کوئی بڑی کارروائی کرنے جارہا ہے تو دوسرا امکان یہ بھی ہے کہ مقامی ریاستوں کے دباؤ کے باعث یا امریکہ واقعتا دفاعی اسلحہ میں معتدبہ کمی کے بعد، پسپائی اختیار کر رہا ہو،کچھ بھی ممکن ہے البتہ حتمی طور پر کوئی رائے نہیں دی جاسکتی۔ اس پس منظر میں ،سعودی عرب کی جانب سے پاکستانی فیلڈمارشل سے ملاقات،پاکستان کی آٹھ مالیاتی مدد و تعاون کی درخواستیں،بہرطور پاکستان کو ایک دوراہے کی جانب دھکیل رہی ہیں ،ایک ایسے دوراہے کی جانب ،جس میں ممکنہ طور پر پاکستان اپنی تمام سرحدوں کو گرم نہ کر لے اور خود کو ایک دلدل میں نہ دھنسا لے۔ اس اہم ترین دوراہے پر اللہ سے دعا ہے کہ پاکستان کو اس مشکل وقت سے محفوظ طریقے سے نکال لے،آمین۔





