ColumnQadir Khan

افغانستان کی یرغمالی سفارتکاری ( 1)

افغانستان کی یرغمالی سفارتکاری ( 1)
قادر خان یوسف زئی
عالمی سیاست کی بساط پر بظاہر خاموش نظر آنے والے مہرے جب اچانک اپنی چال بدلتے ہیں تو خطے کی تزویراتی اور سفارتی فضائوں میں ارتعاش پیدا ہونا ایک قدرتی امر ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک سخت ترین اور غیر معمولی پالیسی بیان میں افغانستان کو باقاعدہ طور پر ’’ غلط حراست کی سرپرستی کرنے والی ریاست‘‘ قرار دے دیا۔ یہ کوئی معمولی سفارتی بیان بازی نہیں ہے بلکہ ایک ایسا سٹریٹیجک اور تزویراتی فیصلہ ہے جو واشنگٹن کی جانب سے کابل کے موجودہ حکمرانوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی روایتی سفارت کاری یا لچک کے خاتمے کا بگل بجا رہا ہے۔ اس فیصلے نے افغانستان کو عالمی تنہائی کی اس خطرناک فہرست میں لا کھڑا کیا ہے جہاں اس سے قبل صرف ایران موجود تھا، جسے27فروری2026ء کو عین اس وقت اسی فہرست میں شامل کیا گیا تھا جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر تھی۔ مارکو روبیو کے الفاظ انتہائی کاٹ دار اور دو ٹوک تھے، جن میں انہوں نے واضح کیا کہ افغان طالبان سیاسی مراعات حاصل کرنے اور تاوان وصول کرنے کے لیے اغوا جیسے دہشت گرد ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں اور یہ قابلِ مذمت سلسلہ اب ہر صورت بند ہونا چاہیے۔
یہ بیانیہ دراصل اس گہری خلیج کی نشاندہی کرتا ہے جو امریکی انخلا کے بعد سے اب تک دونوں فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کی صورت میں مسلسل وسیع ہو رہی تھی۔ واشنگٹن کا سنگین الزام یہ ہے کہ افغان طالبان امریکی شہریوں کو یرغمال بنا کر ایک منظم ’’ ہوسٹیج ڈپلومیسی‘‘ یا یرغمالی سفارت کاری پر عمل پیرا ہیں اور انسانی جانوں کو اپنے سیاسی و معاشی مقاصد کے لیے ایک شے یا کموڈٹی کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ اس سفاکانہ تناظر میں دو امریکی شہریوں، ڈینس کوئل اور محمود شاہ حبیبی کے نام خاص طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں جن کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ڈینس کوئل، جو کہ ایک 64سالہ امریکی ماہر لسانیات اور محقق ہیں، جنوری 2025ء سے افغان طالبان کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس کی قید میں ہیں اور ان کے اہل خانہ کے مطابق انہیں کسی جرم کے ثبوت کے بغیر قریباً تنہائی کی قیدمیں رکھا گیا ہے۔ دوسری جانب38سالہ افغان نعاد امریکی شہری اور سول ایوی ایشن کے سابق ڈائریکٹر محمود شاہ حبیبی کو اگست2022 ء میں کابل میں ان کی گاڑی سے اس وقت اٹھایا گیا جب القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کو ایک امریکی ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ اگر افغان طالبان مسلسل محمود حبیبی کی حراست سے انکاری ہیں، لیکن امریکی محکمہ خارجہ نے ان کی بازیابی کے لیے پچاس لاکھ ڈالر کے انعام کا اعلان کر رکھا ہے جو اس امر کا قطعی ثبوت ہے کہ امریکی انٹیلی جنس انہیں طالبان کی قید میں ہی تصور کرتی ہے۔
اس سنگین امریکی پیش رفت پر افغان طالبان رجیم کا جو ردعمل سامنے آیا ہے وہ ان کی صفوں میں موجود دوہرے بیانیے اور داخلی سوچ کے شدید تضاد کو بخوبی بے نقاب کرتا ہے۔ ایک طرف افغان طالبان کی وزارت خارجہ ہے جو عالمی برادری کے سامنے معمول کے سفارتی تعلقات استوار کرنے کا تاثر دینا چاہتی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے ایک محتاط انداز میں امریکی فیصلے کو ‘افسوسناک’ قرار دیتے ہوئے اس بات کو یکسر مسترد کیا ہے کہ غیر ملکی شہریوں کو کسی بھی قسم کی سودے بازی یا دبا کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔ کابل کا سرکاری موقف یہ تراشا گیا ہے کہ گرفتاریاں صرف مروجہ قوانین کی خلاف ورزی پر کی گئی ہیں، قانونی کارروائی مکمل ہونے پر قیدیوں کو رہا کر دیا جاتا ہے، اور قطر کی سہولت کاری سے مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے۔ مگر دوسری جانب افغان طالبان کی وہ تلخ عسکری حقیقت ہے جس کے ہاتھ میں اصل طاقت کی کنجیاں ہیں۔
صوبہ بلخ کے افغان طالبان گورنر کے ترجمان عطاء اللہ زید نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مارکو روبیو کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے جس درشت لب و لہجے میں دھمکی دی ہے، وہ کابل کے سفارتی بیانیے کی مکمل نفی کرتا ہے۔ زید نے انتہائی جارحانہ انداز میں خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے دوبارہ انہیں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی تو انہیں تباہ کن جواب دیا جائے گا، اور سب سے تشویشناک بات یہ کہی کہ ’’ ہم تمہیں تمہارے ہی ان ہتھیاروں سے ماریں گے جو ہم نے تم سے حاصل کیے ہیں‘‘۔ یہ دھمکی براہ راست اس امر کا اشارہ ہے کہ اگست2021ء کے انخلا کے دوران افغان طالبان کے ہاتھ لگنے والا اربوں ڈالر کا جدید امریکی فوجی ساز و سامان اب خود امریکی مفادات اور یرغمالیوں کی جانوں کے لیے ایک انتہائی سنگین خطرہ بن چکا ہے، اور طالبان کا ایک مضبوط شدت پسند دھڑا کسی بھی قسم کے تصادم سے خائف نہیں ہے۔
سفارتی اور عسکری محاذ پر جاری یہ خطرناک رسہ کشی اس بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا بین الاقوامی قوانین کی ان خلاف ورزیوں کے بعد امریکہ کے پاس اب بھی افغانستان کے خلاف کوئی ٹھوس اور موثر کارروائی کرنے کی گنجائش موجود ہے؟ اس کا جواب امریکی ریاست کے ان تازہ ترین قانونی، معاشی اور تزویراتی اقدامات میں پوشیدہ ہے جو بتدریج افغان طالبان کے گرد ایک آہنی گھیرا تنگ کر رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ستمبر2025ء میں جاری کیا گیا ایگزیکٹو آرڈر 14348دراصل وہ بنیادی قانونی ہتھیار ہے جس نے اس نئی سزا کے زمرے کو متعارف کروایا۔
اس صدارتی حکم نامے کے تحت امریکی وزیر خارجہ کو یہ صوابدیدی اور وسیع اختیارات ہیں کہ وہ یرغمال بنانے والی ریاستوں پر کڑی اقتصادی پابندیاں، مکمل سفری اور ویزا کی پابندیاں اور انتہائی سخت برآمدی کنٹرول عائد کر سکتا ہے، حتیٰ کہ یہ قوانین ان غیر ریاستی عناصر پر بھی لاگو ہوتے ہیں جو کسی بڑے علاقے پر قابض ہوں۔ اسی تسلسل کو مزید تقویت دینے کے لیے امریکی کانگریس میں ’’ نو پے ڈیز فار ہوسٹیج ٹیکرز ایکٹ‘‘ نامی قانون بھی تیزی سے منظوری کے مراحل سے گزر رہا ہے جس کا بنیادی مقصد ہی یہ ہے کہ غیر ملکی حکومتوں یا دہشت گرد گروہوں کو امریکی شہریوں کے اغوا کے بدلے کسی بھی قسم کا مالی فائدہ، سفارتی رعایت یا تاوان ہرگز نہ دیا جائے۔
یہ سخت گیر قانون سازی طالبان کی اس موہوم امید پر مکمل طور پر پانی پھیر دیتی ہے جس کے تحت وہ امریکی قیدیوں کے تبادلے کے ذریعے اپنے منجمد اثاثے بحال کروانے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ کیونکہ افغان رجیم کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے منجمد فنڈز کی واپسی بھی ناممکن ہوچکی ہے اور اس کے براہ راست اُن افغان عوام پر پڑ رہا ہے جو اپنے پالیسی سازوں کی غلط حکمت عملیوں کی سزا بھگت رہے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button