امریکی بلف سے بچنا ضروری

امریکی بلف سے بچنا ضروری
صورتحال
سیدہ عنبرین
ایران پر حملے کے پہلے ہی روز واضع ہو گیا تھا کہ امریکہ و اسرائیل اپنی کامیابیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کریں گے اور جوابی حملوں کے بارے میں کہیں گے ہمیں تو کچھ بھی نہیں ہوا۔ کہانی اس وقت مختلف رخ اختیار کر گئی جب ایران نے صرف اسرائیل کو نشانہ بنانے کی بجائے امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ اسرائیل میں سخت سنسر شپ کے سبب پہلے چند روز وہاں ہونے والی تباہی پر پردہ پڑا رہا، لیکن امریکی فوجی اڈوں کی تباہی کو چھپایا نہ جا سکا، سنسر شپ تو وہاں بھی تھی، لیکن گلف میں غیر ملکیوں کی بہتات اور خاص طور پر جنگ کو کھیل سمجھنے والے بڑی تعداد میں موجود تھے، جو لمحہ بہ لمحہ خبریں بھیجتے رہے۔ جنگ کے پانچویں روز ان کے اعصاب جواب دے گئے جو اپنی تیاری کے مطابق جنگ کو ایک ماہ تک جاری دیکھ رہے تھے، ان کی طرف سے پہلا جھوٹ بولا گیا ایرانی ہم سے بات کرنا چاہتے ہیں، یہ جھوٹ بولے جانے کے فقط چند منٹ بعد ہی پکڑا گیا جب ایرانی قیادت نے دو ٹوک لفظوں میں واضع کر دیا ہم کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں کرنا چاہتے، بلکہ جنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ یاد رہے امریکہ نے حملے سے پہلے ایران کو ایک پیشکش کی تھی، جسے حقارت سے ٹھکرا دیا گیا تھا، یہ پیشکش ایک نورا کشتی کی تھی ۔ کہا گیا تھا کہ ہم آپ کے ویران و ببایان علاقوں پر بمباری کریں گے، اہداف کو حاصل کرنے کا اعلان کریں گے اور واپس چلے جائیں گے آپ ہمارے ’’ آرمیڈا‘‘ پر اٹیک نہ کرنے کی یقین دہانی کرا دیں۔ یہ پیشکش کسی دو نمبر ملک کی دو نمبر قیادت کو کی جاتی تو وہ اسے ایک منٹ میں قبول کر لیتے، اور بعد ازاں بیان جاری ہوتا ہم نے ملک کے وسیع تر مفاد میں ایسا کیا اور ملک بچا لیا۔ امریکہ اور اسرائیل کی بدقسمتی ایران میں ایک نمبر کی سیاسی قیادت، ایک نمبر کی فوج، ایک نمبر کا دفاعی پلان اور ان کے پیچھے ایک نمبر قوم کھڑی تھی، جنہوں نے دو بڑی طاقتوں کو چیلنج کر دیا کہ وہ اپنی طاقت آزما لیں، ایران اپنی قوت سے اپنا دفاع کرے گا۔ ایک ماہ کی جنگ کی تیاری کر کے حملہ آور ہونے والوں کو بتا دیا گیا کہ ہم تم دونوں سے ایک سال تک بھی لڑ سکتے ہیں۔ حملہ آوروں نے ابتداء میں اسے مذاق سمجھا، لیکن ٹھیک اگلے چوبیس گھنٹوں میں اپنے جرنیلوں سے تازہ ترین ان پٹ لینے کے بعد انہیں یقین ہو گیا کہ ایران ایک سال کا تو کہہ رہا ہے، عین ممکن ہے وہ ایک سال کی بجائے اسے مزید ایک سال آگے لے جائے، ان اطلاعات کے بعد پھولے ہوئے منہ کے ساتھ جعلی کامیابیوں کا اعلان کرنے والوں کے ہاتھ پائوں پھول گئے اور انہوں نے یکطرفہ طور پر جنگ کے خاتمے کا اعلان کرنا مناسب سمجھا، وہ یہ اعلان کرنے پر مجبور کیوں ہوئے، اس کی صرف ایک وجہ نہیں، بلکہ ایک سے زائد ہیں۔ امریکہ ، اسرائیل کا کوئی ہدف اسے حاصل نہ ہو سکا، ایران کے جوابی حملوں سے اس کا نقصان توقع سے کئی ہزار گنا زیادہ ہوا، اس کا اس قدر جانی نقصان جنگ کے پہلے ہفتے میں ہو گیا کہ تیس روزہ جنگ کے جانی نقصان برداشت کرنے کی تاب نہ رہی۔
دنیا کے کسی بھی خطے میں جنگ شروع ہو، جانی نقصان ایک اٹل حقیقت کے طور پر لیا جاتا ہے، اپنے جنگی وسائل کے ساتھ اس بات کا بھی اندازہ لگایا جاتا ہے کہ جنگ کی طوالت کیا ہو گی اور جانی نقصان کتنا ہو گا۔ سامنے آنے والے اعداد و شمار کو دوگنا کرنے کے بعد سمجھا جاتا ہے کہ وہ اب ہر قسم کے نقصانات برداشت کرنے کیلئے تیار ہیں۔ ایران کے ساتھ ٹکرائو میں دنیا کی دو بڑی طاقتوں کے تمام اندازے غلط ثابت ہوئے، جنگ لڑنے کیلئے نہ ٹوایلٹ کافی تھے، نہ مرنے والوں کو دفنانے کیلئے تابوت موجود تھے۔ جنگ کے پہلے ہفتے کے نتائج کو دیکھتے ہوئے بیس ہزار تابوت تیار کرنے کا آرڈر دیا گیا ہے۔ ہزاروں مرنے والوں کے جسم قبروں میں دفن ہو جائیں گے، لیکن امریکہ ان کی تعداد درجن بھر ہی بتائے گا۔ فوجی محاذ کے علاوہ امریکہ اور اسرائیل کو ایک بظاہر نظر نہ آنے والے محاذ پر بھی شکست کا سامنا ہے، یہ اقتصادی محاذ ہے۔ تازہ ترین اطلاعات نے امریکی صدر کے ہوش اڑا دیئے ہیں۔ جنگ شروع ہونے کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز اپنے دشمن اور دشمن کے دوستوں کیلئے بند کر دی، انہی ایام میں تمام تر خطرات کے باوجود ایران نے ایک کروڑ بیس لاکھ بیرل اپنا تیل اسی راستے سے فروخت کیا ہے، فروخت ہونے والی تیل کی مقدار اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ اس گزرگاہ سے کتنے جہاز گزارے گئے ہیں، اس کا شمار رکھنے والے اب اس سے بہت دور ہیں، اور سیٹلائٹ قدرے تاخیر سے اطلاعات فراہم کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کے دونوں جانب قریباً ساڑھے چار سو تجارتی بحری جہاز محفوظ فاصلے پر لنگر انداز ہو کر حالات میں بہتری کا انتظار کر رہے ہیں، جبکہ اس سے دوگنی تعداد میں جہازوں نے اپنا سفر موخر کر دیا ہے۔ یوں فضائی راستے بند ہونے کے بعد خطے کی اہم ترین ایئر لائنز کو جو نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے اس سے نسبتاً زیادہ نقصان مختلف ممالک کی شپنگ کمپنیوں کو ہو رہا ہے، کیونکہ بحری تجارت کا حجم فضائی راستے سے ہونے والی تجارت سے بیس گنا زیادہ ہے۔
امریکی صدر نے محفوظ بحری تجارت کیلئے انشورنس کور مہیا کرنے کیلئے کئی بلین ڈالر کے پیکیج کا اعلان کیا، لیکن شپنگ کمپنیاں کسی قسم کا کوئی رسک لینے کیلئے تیار نہیں۔
پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز سے دو روز قبل ایک چینی بحری جہاز کو بحفاظت اپنا سفر جاری رکھنے میں معاونت فراہم کی ہے، جو کئی ہزار ٹن روز مرہ ضرورت کی اشیاء لے کر خلیج کی طرف جا رہا تھا، اس اطلاع میں اطمینان کا ایک بڑا پہلو یہ ہے کہ جنگ کے نتیجے میں خلیجی ریاستوں میں بعض اشیائے ضرورت کی کمی ہونے کا امکان ختم ہو گیا، وہاں زندگی رواں دواں رہے گی۔ آبنائے ہرمز پاکستان اور چین کے جہازوں کیلئے کھلی ہے۔
امریکہ اور اسرائیل اپنی تمام تر دھمکیوں اور انتظامات کے باوجود اپنی خواہش کے مطابق آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکے۔ امریکی صدر نے ہنگامی طور پر ایسے انتظامات کرنے کا حکم دیا تھا کہ تجارتی بحری جہازوں کے ساتھ ایک تباہ کن بحری جہاز ہمراہ کر دیا جائے، لیکن امریکی بحریہ نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ وہ اپنے قیمتی جہاز کے ڈبو دیئے جانے کا رسک نہیں لے سکتے۔ مزید برآں ان کے پاس فالتو بحری جہاز موجود نہیں ہیں۔ امریکی صدر اپنے طور پر جنگ ختم ہونے کی بات میڈیا کے سامنے کر چکے ہیں، لیکن اس قدر جھوٹ بولے جا چکے ہیں کہ اب کسی بات کا اعتبار نہیں رہا۔ جنگ بندی کی بات امریکی بلف بھی ہو سکتی ہے، بلف سے بچنا ضروری ہے۔
ث







