چاروں طرف گھوٹالہ

چاروں طرف گھوٹالہ
تحریر :تجمل حسین ہاشمی
قومی سطح پر جب کوئی مشکل وقت آیا تو حکومتی فیصلوں سے زیادہ فائدہ اس طبقے نے حاصل کیا جس کا تعلق ان چند خاندانوں سے ہے جو پیچھے کئی سال سے صوبائی یا وفاقی حکومتوں میں کسی نہ کسی صورت میں حکمران ہیں، اب تو نسل دار نسل والا سلسلہ بھی چل نکلا ہے، دو بری سیاسی جماعتوں کے ووٹر اور سپورٹر اپنے لیڈر کو وزیر اعظم دیکھنے کا عزم رکھتے ہیں، باقی بچا عمران خان تو کسی دن اس کے بھی بچے ہمارے لیڈر بن جائیں گے ، اس نے یقین دہانی دی تھی کہ میرے بچوں کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، یقینا اس بیرونی دنیا میں خان کی کوئی سرمایہ کاری نہیں ما سوائے اس کے بچوں کے۔
گزشتہ روز پٹرول کی قیمتوں میں 55روپے اضافے سے کن کی جیبوں گرم ہوئیں، جبکہ حکومت کا خود اعتراف ہے کہ ان کے پاس وافر مقدار میں پٹرول موجود ہے، حکومت نے عوام کو اعتماد میں نہ لے کر سوالات کا دروازہ خود کھول دیا ہے۔ میں نے پمپ کے ملازم سے پوچھا ؟ ایک دن میں کتنا مال کمایا، ملازم نے کہا جناب 55لاکھ روپے ایک دن کی دیہاڑی لگ گئی ہے۔ دنیا بھر میں ایسا کوئی ملک بتائیں جہاں ایسی دیہاڑیاں لگتی ہوں۔ سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل جاری ہے۔ اپوزیشن نے بھی قیمتوں میں اضافے کو واپس لینے کا بیان دیا ہے، جو یقینا عملی کم فرضی زیادہ ہے، کیوں خان کے بعد ان میں اب ہمت نہیں رہی۔ اب ویسے ایسے ٹیکے کئی بار عوام کو لگ چکے ہیں اور ہم لوگ بھی ان ٹیکوں کے عادی ہو چکے ہیں، پنجابی کی مثل مشہور ہے کہ ’’ آنا ونڈے ریوڑیاں پں چں اپنوں کو ‘‘۔ جب بھی ملک پر کوئی امتحان، کوئی بحران آیا تو حکومت کا کردار اس اندھے والا بن جاتا ہے، جس میں وہ صرف اپنوں کا خیال رکھتی ہے، اس کو عوامی مفادات کا ذرا برابر احساس نہیں ہوتا، اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے مسلم لیگ ن نے اپنے دور حکومت میں تاجروں کو خوب نوازا ہے، ان تاجروں کو قصور وار نہیں بلکہ فیض یاب کیا ہے، انہوں نے کبھی نہیں سوچا کہ کمزور طبقہ مزید کمزور ہوتا جا رہا ہے، دوسری طرف ماضی کی مخالف پیپلز پارٹی جو آج کل اتحادی رہنے پر گزار بسر کر رہی ہے، ان کی بھی مجبوری ہے، دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کے لیے بہترین موقف لیا ہوا ہے، مسلم لیگ ن وفاق اور پنجاب میں خوش اور پیپلز پارٹی سندھ میں خوش ہے۔ چار، چھ ماہ ایک اختلافی نقطہ سامنے لے آتے ہیں، اس پر عوام کو گرم کرتے ہیں، اور پھر ہر سو خاموشی۔ وہ سسٹم جو عوام کی گردن دبا کر مال بنا رہا ہے، وہی ایوان وہی کمان ۔
ماضی میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی شرح دیکھیں تو پیپلز پارٹی کے دورے حکومت میں زیادہ رہی اور اب مسلم لیگ ن کی حکومت میں دو دفعہ 300روپے کا کاٹا مارا ہے ۔ 1947ء میں پٹرول 0.23روپے فی لٹر تھا، جبکہ آج یہ 300 روپے سے زیادہ ہو چکا ہے، یعنی تقریباً 1000گنا سے زیادہ اضافہ ہو چکا ،2018ء کے بعد سے قیمتوں کی سپیڈ نے عوام کی کمر توڑ دی، کرونا کے بعد سے چینی، آٹا، پٹرول اور کوکنگ آئل کی قیمتوں نے عوام کا جینا دو بھر کیا رکھا ہے اور تاجر برادری دن رات مال بنا کر پیسہ باہر منتقل کر رہی ہے، وزیر اعظم اور اتحادی سب خاموش ہیں۔ ویسے وزیر اعظم صاحب نے کوئی 40کے قریب کاروباری شخصیات کو سرمایہ کاری لانے کے لیے وی آئی پی پاسپورٹ جاری کئے تھے، ان کی بھی کوئی خیر خبر نہیں آئی۔
ایک تحقیقی ادارے کے مطابق قیام پاکستان سے 2023ء تک بینکوں کے پاس جمع شدہ رقم 23ٹریلین روپے تھی اور 2024ء میں بینکوں میں ڈپازٹ 30ٹریلین تک پہنچ گیا ہے، کیوں سود کی شرح زیادہ ہونے کی وجہ سے لوگوں نے کاروبار سے پیسہ نکل کر سود کھانا شرع کر دیا ہے ، اب اس گناہ کا ذمہ دار کس کو ٹھہرایا جائے۔ حکومت اس وقت معاشی نظام کو چلنے میں ناکام اور مقتدر حلقے گاڑی کو دھکے سے سٹارٹ رکھنے پر بضد ہیں۔ ابھی تو ایرانی جنگ کے امتحان جاری ہیں۔ ایرانی حکومت نے ترقی کی علامت والوں کو دن میں تارے دکھا دئیے ہیں، اور ہمارے ہاں حکومت نے قوم کو مہنگائی کے تارے دکھا دئیے ہیں، جمہوری دور میں لوگوں کو نفسیاتی طور پر مار کر لوٹا جا رہا ہے، کوئی حساب نہیں کتنا پیسہ کہاں گیا، اب محکمہ ہوا بازی کی ایرانی جنگ میں چاندی رہی، یقینا اربوں ڈالر کما لئے ہوں گئے، لیکن مجال ہے ان ڈالروں کی قوم کو کوئی خبر مل سکے، ابھی خبر مل بھی نہیں سکتی، کیوں اس وقت نہ کوئی اپوزیشن اور نہ ہی میڈیا آزاد ہے۔






