ColumnImtiaz Ahmad Shad

دنیا ایک نازک موڑ پر

دنیا ایک نازک موڑ پر
تحریر ، امتیاز احمد شاد
مشرقِ وسطیٰ طویل عرصے سے عالمی سیاست کا ایک حساس اور پیچیدہ خطہ رہا ہے۔ یہاں کی جغرافیائی اہمیت، توانائی کے وسیع ذخائر، مذہبی و سیاسی تنازعات اور عالمی طاقتوں کے مفادات نے اسے ہمیشہ عالمی توجہ کا مرکز بنائے رکھا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک بار پھر دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اگر یہ کشیدگی باقاعدہ جنگ میں تبدیل ہو جاتی ہے تو اس کے اثرات صرف چند ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کے سیاسی، معاشی اور انسانی نتائج پوری دنیا کو متاثر کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری اس صورتحال کو نہایت سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور ایک ممکنہ بڑے تصادم کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان دشمنی کوئی نئی بات نہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے دونوں ممالک ایک دوسرے کو اپنے لیے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔ ایران اسرائیل کی پالیسیوں کا سخت ناقد رہا ہے جبکہ اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کو اپنے وجود کے لیے خطرہ تصور کرتا ہے۔ یہی کشیدگی وقتاً فوقتاً مختلف شکلوں میں سامنے آتی رہی ہے، جن میں پراکسی جنگیں، سائبر حملے، خفیہ کارروائیاں اور سفارتی محاذ آرائی شامل ہیں۔ تاہم حالیہ کشیدگی زیادہ نمایاں اور خطرناک صورت اختیار کرتی نظر آ رہی ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر تشویش بڑھ گئی ہے۔
اگر اس جنگ میں مزید شدت اور وسعت آتی ہے تو اس کا پہلا اور سب سے بڑا اثر مشرقِ وسطیٰ کے خطے پر پڑی گا۔ خطہ پہلے ہی کئی تنازعات کا شکار ہے۔ شام میں جاری خانہ جنگی، یمن کا بحران، لبنان کی سیاسی و معاشی مشکلات اور عراق کی غیر یقینی صورتحال اس خطے کو پہلے ہی کمزور بنا چکی ہیں۔ ایسی صورتحال میں ایک نئی بڑی جنگ پورے خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ ایران کے اتحادی گروہ جیسے لبنان میں حزب اللہ اور خطے کے دیگر مزاحمتی گروہ اس تنازع میں شامل ہو سکتے ہیں، جس سے جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہونے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔
اس ممکنہ جنگ میں امریکہ کا کردار انتہائی خوفناک اور خطرناک ہے۔ امریکہ طویل عرصے سے اسرائیل کا قریبی اتحادی ہے اور اسے سیاسی، سفارتی اور عسکری حمایت فراہم کرتا رہا ہے۔ اگر یہ جنگ شدت اختیار کرتی ہے تو امریکہ کی شمولیت اس تنازع کو ایک علاقائی جنگ سے بڑھا کر عالمی سطح کا بحران بنا سکتی ہے۔ اس صورتحال میں دیگر عالمی طاقتیں بھی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سرگرم ہو سکتی ہیں، جس سے عالمی سیاست میں مزید کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
عالمی معیشت پر اس ممکنہ جنگ کے اثرات بھی نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ دنیا کی تیل اور گیس کی بڑی سپلائی کا مرکز ہے۔ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔ اگر جنگ کے باعث ان علاقوں میں کشیدگی بڑھتی ہے یا بحری راستوں کو خطرہ لاحق ہوتا ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ سکتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ، صنعتی پیداوار میں کمی اور عالمی معاشی عدم استحکام پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ ترقی پذیر ممالک، جو پہلے ہی معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
جنگ کے انسانی اثرات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ماضی کی جنگوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ کسی بھی بڑے عسکری تصادم کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اگر ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جنگ چھڑتی ہے تو لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ پناہ گزینوں کی ایک نئی لہر پیدا ہو سکتی ہے جو پڑوسی ممالک اور یورپ تک اثر انداز ہو سکتی ہے۔ خوراک، صحت اور بنیادی سہولیات کی قلت انسانی بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔ عالمی ادارے پہلے ہی دنیا کے مختلف علاقوں میں انسانی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، اس لیے ایک نئی جنگ ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
اس ممکنہ جنگ کے سیکیورٹی اثرات بھی عالمی سطح پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ جدید دور کی جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان میں سائبر جنگ، معلوماتی جنگ اور معاشی پابندیاں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ تینوں ٹیکنالوجی کے میدان میں اہم صلاحیت رکھتے ہیں، اس لیے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر جنگ ہوئی تو اس میں سائبر حملے اور جدید عسکری ٹیکنالوجی کا استعمال بھی دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ توانائی کے نظام، مالیاتی اداروں اور مواصلاتی نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے جس کے اثرات دنیا کے مختلف ممالک تک پہنچ سکتے ہیں۔
اقوامِ عالم کی خدشات کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اس تنازع کے باعث عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ روس اور چین جیسے ممالک مشرقِ وسطیٰ میں اپنے مفادات رکھتے ہیں اور وہ اس خطے کی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ اگر امریکہ براہِ راست جنگ میں شامل ہوتا ہے تو ممکن ہے کہ دیگر طاقتیں بھی سفارتی یا سیاسی طور پر متحرک ہو جائیں۔ اس طرح عالمی طاقتوں کے درمیان مقابلہ آرائی میں اضافہ ہو سکتا ہے جو عالمی امن کے لیے ایک نئے چیلنج کا باعث بن سکتا ہے۔
اس صورتحال میں عالمی سفارت کاری کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اقوام متحدہ، یورپی یونین اور دیگر بین الاقوامی اداروں کو کشیدگی کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کی کوشش کرنا چاہیے۔ مذاکرات، ثالثی اور سفارتی دبا کے ذریعے تنازع کو کم کرنے کی کوششیں تیز ہونا وقت کی اشد ضرورت ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب بھی عالمی طاقتوں کے درمیان براہِ راست تصادم کا خطرہ پیدا ہوا، سفارت کاری نے کئی بار جنگ کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان جیسے ممالک کے لیے بھی یہ صورتحال خاصی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان نہ صرف ایک اہم مسلم ملک ہے بلکہ اس کے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات بھی ہیں۔ اگر خطے میں جنگ ہوتی ہے تو اس کے معاشی اور سفارتی اثرات پاکستان سمیت دیگر جنوبی ایشیائی ممالک پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، بیرونِ ملک مقیم کارکنوں کی صورتحال اور عالمی معیشت میں اتار چڑھائو پاکستان کی معیشت کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائی تو ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان ممکنہ جنگ ایک ایسا بحران بن سکتی ہے جس کے اثرات صرف ایک خطے تک محدود نہیں رہیں گے۔ اس کے سیاسی، معاشی اور انسانی اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ اسی لیے دنیا کے بیشتر ممالک اور عالمی ادارے اس صورتحال کو انتہائی تشویش کے ساتھ دیکھ رہے ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کو کم کیا جا سکے گا۔
اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ جنگ کبھی بھی مسائل کا مستقل حل نہیں ہوتی۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جنگیں تباہی اور انسانی المیی کو جنم دیتی ہیں جبکہ پائیدار امن صرف مذاکرات، باہمی احترام اور تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہوتا ہے۔ اس لیے عالمی قیادت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دانشمندی اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس ممکنہ بحران کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکے، کیونکہ امن ہی دنیا کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔

جواب دیں

Back to top button