Column

کفایت شعاری پالیسی کا نفاذ

کفایت شعاری پالیسی کا نفاذ
عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی، تیل کی سپلائی میں رکاوٹیں اور خطے کی بے یقینی صورت حال نے پاکستان پر اثرات ڈالنے شروع کردیے ہیں۔ ایسے حالات میں حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ہنگامی اقدامات اس بات کا اشارہ ہیں کہ صورت حال کو سنجیدگی سے لیا جارہا ہے اور توانائی کے وسائل کو بچانے کے لیے فوری حکمت عملی اپنائی جارہی ہے۔ گزشتہ روز قوم سے اپنے خطاب میں وزیرِاعظم شہباز شریف نے توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے متعدد اہم فیصلوں کا اعلان کیا ہے جن کا مقصد نہ صرف ایندھن کی بچت ہے بلکہ سرکاری اخراجات کو کم کرنا بھی ہے۔ وزیراعظم کے اعلان کے مطابق آئندہ دو ماہ کے لیے سرکاری دفاتر ہفتے میں چار دن کھولے جائیں گے جب کہ ایک اضافی تعطیل کا مقصد تیل اور توانائی کی بچت کو یقینی بنانا ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری و نجی اداروں کے پچاس فیصد ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ بظاہر وقتی نوعیت کا ہے مگر اس کے اثرات معیشت، سرکاری کارکردگی اور معاشرتی معمولات پر واضح طور پر مرتب ہوں گے۔ عالمی سطح پر تیل کی رسد متاثر ہونے کے باعث توانائی کی قیمتیں غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہیں۔ خطے میں کشیدگی اور عالمی منڈیوں میں بے یقینی صورت حال نے ترقی پذیر ممالک کے لیے توانائی کی فراہمی کو مزید مشکل بنادیا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ملک کے لیے فوری اور مثر اقدامات ناگزیر ہوجاتے ہیں۔ حکومت نے تیل کی بچت کے لیے سرکاری گاڑیوں کے استعمال میں بھی بڑی حد تک کمی کا اعلان کیا ہے۔ دو ماہ کے لیے سرکاری محکموں کی ساٹھ فیصد گاڑیاں بند رکھنے کا فیصلہ اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ حکومت اخراجات کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنے پر آمادہ ہے۔ اسی طرح کابینہ کے ارکان اور اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کی تنخواہوں میں کٹوتی کا اعلان اہم قدم سمجھا جاسکتا ہے، جس کا مقصد عوام کو یہ پیغام دینا ہے کہ مشکل وقت میں حکمران طبقہ بھی قربانی دینے کے لیے تیار ہے۔ تعلیمی شعبہ بھی ان اقدامات سے متاثر ہوگا۔ حکومت نے اسکولوں کو دو ہفتوں کے لیے بند کر کے آن لائن کلاسز شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بلاشبہ اس فیصلے کا مقصد توانائی کی بچت ہے، مگر اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ آن لائن تعلیم کے معیار اور رسائی کو یقینی بنایا جائے۔ پاکستان میں ابھی تک ڈیجیٹل سہولتیں یکساں طور پر دستیاب نہیں ہیں، خاص طور پر دیہی علاقوں میں طلبہ کو انٹرنیٹ اور مناسب آلات کی کمی کا سامنا ہوتا ہے۔ اس لیے یہ فیصلہ تب ہی موثر ثابت ہوگا جب اس کے ساتھ ضروری سہولتیں بھی فراہم کی جائیں۔وزیراعظم نے اپنے خطاب میں خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی اور علاقائی حالات کے باعث امن کو خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے خلیجی ممالک پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی بھی کیا۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان نہ صرف داخلی اقتصادی مشکلات بلکہ علاقائی سلامتی کے چیلنجز کا بھی سامنا کر رہا ہے۔ خارجہ پالیسی کے تناظر میں ایسے بیانات سفارتی توازن برقرار رکھنے کے لیے اہم ہوتے ہیں۔ سرکاری اخراجات میں کمی کا فیصلہ بھی قابلِ توجہ ہے۔ حکومت نے سرکاری محکموں کے غیر ضروری اخراجات میں 20فیصد کمی اور نئی گاڑیوں، فرنیچر اور دیگر اشیا کی خریداری پر پابندی عائد کردی ہے۔ اسی طرح سرکاری تقریبات، عشائیوں اور افطار پارٹیوں پر پابندی کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ یہ اقدامات بظاہر چھوٹے دکھائی دیتے ہیں لیکن اگر انہیں سختی سے نافذ کیا جائے تو سرکاری خزانے پر پڑنے والا بوجھ کافی حد تک کم ہوسکتا ہے۔ تاہم یہ سوال بھی اہم ہے کہ آیا یہ اقدامات صرف وقتی نوعیت کے ہیں یا حکومت توانائی کے مسئلے کا کوئی طویل المدتی حل بھی پیش کرے گی۔ پاکستان کو توانائی کے بحران سے مستقل طور پر نکلنے کے لیے متبادل ذرائع پر توجہ دینا ہوگی۔ قابلِ تجدید توانائی جیسے شمسی، ہوا اور پن بجلی کے منصوبوں کو تیز رفتار بنیادوں پر مکمل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ توانائی کے موثر استعمال کے لیے عوامی سطح پر شعور اجاگر کرنا بھی ضروری ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ صرف حکومتی فیصلے ہی بحران کا مکمل حل نہیں ہوسکتے۔ اس صورتحال سے نکلنے کے لیے عوام اور نجی شعبے کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ توانائی کے محتاط استعمال، غیر ضروری سفر سے گریز اور بجلی و ایندھن کی بچت جیسے اقدامات اجتماعی طور پر بڑے نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔ حکومت کے حالیہ فیصلے بلاشبہ ایک ہنگامی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ اگر ان پر موثر طریقے سے عمل درآمد کیا جائے تو قلیل مدت میں توانائی کی بچت اور مالی وسائل کے تحفظ میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم اصل امتحان اس وقت ہوگا جب حکومت اس بحران کو ایک موقع میں تبدیل کرتے ہوئے توانائی کے شعبے میں پائیدار اصلاحات متعارف کرائے۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں دانش مندانہ فیصلے اور قومی یکجہتی دونوں کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت، ادارے اور عوام مل کر اس چیلنج کا مقابلہ کریں تو نہ صرف موجودہ بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ مستقبل کے لیے ایک مضبوط اور خود کفیل توانائی نظام کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب
ایران کی سیاسی تاریخ ایک نئے اور غیر معمولی موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہے۔ امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ملک میں قیادت کی منتقلی کا مرحلہ انتہائی تیزی سے مکمل کرلیا گیا ہے۔ ریاستی میڈیا کے مطابق مجلس خبرگان رہبری نے آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کرلیا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف ایران کی داخلی سیاست بلکہ پورے خطے کی سیاسی حرکیات پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ مجلس خبرگان رہبری، جو ایران میں سپریم لیڈر کے انتخاب کا آئینی اختیار رکھتی ہے، 88ارکان پر مشتمل ایک بااختیار ادارہ ہے۔ اس مجلس کی بھاری اکثریت کی جانب سے مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب نے یہ واضح کردیا ہے کہ ایرانی ریاستی ڈھانچے کے اہم مراکز اس فیصلے پر متفق ہیں۔ اس تقرری کے ساتھ ہی مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے تیسرے سپریم لیڈر بن گئے ہیں، اس سے پہلے یہ منصب آیت اللہ روح اللہ خمینی اور آیت اللہ علی خامنہ ای کے پاس رہا۔ مجتبیٰ خامنہ ای طویل عرصے سے ایرانی سیاست کے پردے کے پیچھے ایک بااثر شخصیت سمجھے جاتے رہے ہیں۔ اگرچہ وہ مذہبی اعتبار سے درمیانے درجے کے عالم شمار ہوتے ہیں مگر ایران کی طاقتور اسلامی انقلابی گارڈز یعنی آئی آر جی سی کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات اکثر زیرِ بحث رہے ہیں۔ اسی وجہ سے کئی مبصرین پہلے ہی انہیں اپنے والد کے ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھتے رہے تھے۔ اب موجودہ حالات میں ان کی تقرری نے ان قیاس آرائیوں کو حقیقت میں بدل دیا ہے۔ ایران کا انقلابی نظام بنیادی طور پر موروثی اقتدار کے تصور کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔ 1979ء کے انقلاب کے بعد قائم ہونے والے سیاسی ڈھانچے میں قیادت کا انتخاب نظریاتی اور مذہبی معیار پر مبنی ہوتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ فیصلہ دراصل طاقت کے مختلف مراکز کے درمیان توازن کا نتیجہ ہے۔ خاص طور پر انقلابی گارڈز اور حکومتی اشرافیہ کے بااثر حلقوں کی حمایت نے مجتبیٰ خامنہ ای کی راہ ہموار کی۔ ایران جیسے پیچیدہ سیاسی نظام میں جہاں مذہبی قیادت، فوجی ادارے اور سیاسی اشرافیہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، وہاں کسی بھی بڑی تبدیلی کا فیصلہ اکثر طاقت کے انہی مراکز کے درمیان اتفاق رائے سے ہوتا ہے۔ علاقائی اور عالمی سطح پر بھی اس تبدیلی کو گہری نظر سے دیکھا جارہا ہے۔ ایران پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس کی قیادت میں تبدیلی کا اثر نہ صرف اس کی خارجہ پالیسی بلکہ خطے کے سیکیورٹی منظرنامے پر بھی پڑ سکتا ہے۔ ایسے وقت میں جب ایران کو بیرونی دبا اور داخلی چیلنجز دونوں کا سامنا ہے، نئی قیادت کے سامنے سب سے بڑا امتحان استحکام برقرار رکھنا ہوگا۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کس حد تک اپنے پیش رو کی پالیسیوں کو جاری رکھتے ہیں یا کسی نئے طرزِ حکمرانی کی بنیاد رکھتے ہیں۔ تاہم فی الحال ایک بات طے ہے کہ ایران ایک اہم سیاسی تبدیلی کے دور میں داخل ہو چکا ہے۔

جواب دیں

Back to top button