Aqeel Anjam AwanColumn

بھارتی لڑاکا طیاروں کی مسلسل تباہی اور بھارتی فضائیہ کی کمزوریاں

بھارتی لڑاکا طیاروں کی مسلسل تباہی اور بھارتی فضائیہ کی کمزوریاں
تحریر ، عقیل انجم اعوان
بھارتی فضائیہ طویل عرصے سے جنوبی ایشیا کی بڑی فضائی طاقتوں میں شمار کی جاتی رہی ہے۔ اس کے بیڑے میں جدید لڑاکا طیارے شامل ہیں جن میں روسی ساختہ ایس یو تھرٹی ایم کے آئی کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ یہ طیارہ رفتار، رینج، ہتھیاروں کی صلاحیت اور جدید الیکٹرانک نظام کے باعث بھارتی فضائی طاقت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا رہا ہے۔ لیکن گزشتہ کئی برسوں کے دوران پیش آنے والے متعدد حادثات نے اس تصور کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ حالیہ حادثہ جس میں آسام میں ایک ایس یو تھرٹی طیارہ گر کر تباہ ہوا اور دونوں پائلٹ ہلاک ہو گئے اس مسئلے کو دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز بنا چکا ہے۔یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ گزشتہ سولہ برس کے دوران ایک درجن سے زائد ایس یو تھرٹی طیارے حادثات کا شکار ہو چکے ہیں۔ ہر حادثے کے بعد تحقیقات کا اعلان ہوتا ہے۔ چند دن بحث ہوتی ہے۔ پھر خاموشی چھا جاتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسلسل پیش آنے والے حادثات کسی ایک تکنیکی خرابی یا انسانی غلطی کا نتیجہ نہیں ہوتے بلکہ یہ پورے نظام میں موجود گہری کمزوریوں کی علامت ہوتے ہیں۔ ایس یو تھرٹی ایم کے آئی دراصل روس کے مشہور لڑاکا طیارے ایس یو تھرٹی کا بھارتی ورژن ہے۔ بھارت نے اسے روس کے ساتھ مشترکہ تعاون سے تیار کیا۔ اس طیارے کو بھارت کی فضائی برتری کے لیے بنیادی ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔ یہ دو نشستوں والا سپر مینیوور ایبل لڑاکا طیارہ ہے جو بیک وقت فضائی جنگ، زمینی اہداف پر حملے اور سمندری اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی رفتار تقریباً دو ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ ہے اور اس میں جدید ریڈار اور میزائل سسٹم نصب ہیں۔ کاغذوں میں یہ طیارہ انتہائی طاقتور دکھائی دیتا ہے۔ لیکن جب یہی طیارہ مسلسل حادثات کا شکار ہونے لگے تو سوال اٹھتا ہے کہ مسئلہ کہاں ہے۔ بھارتی فضائیہ میں حادثات کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں میں بھارت نے درجنوں لڑاکا طیارے حادثات میں کھوئے ہیں۔ ان میں مگ اکیس جیسے پرانے طیاروں کے ساتھ ساتھ جدید طیارے بھی شامل ہیں۔ مگ اکیس کو تو بھارتی میڈیا نے فلائنگ کوفن ( اڑتا تابوت ) کا لقب دے دیا تھا کیونکہ یہ طیارہ مسلسل گر رہا تھا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ ایس یو تھرٹی جیسے جدید طیارے بھی محفوظ نہیں رہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ تربیت اور آپریشنل نظم و ضبط کا مسئلہ ہے۔ جدید لڑاکا طیارہ چلانا انتہائی پیچیدہ کام ہے۔ پائلٹ کو نہ صرف طیارے کی مکمل سمجھ ہونی چاہیے بلکہ اسے انتہائی مشکل حالات میں فوری فیصلے کرنے کی صلاحیت بھی حاصل ہونی چاہیے۔ اگر تربیت کا معیار کمزور ہو یا پرواز کے گھنٹے کم ہوں تو حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ دوسری بڑی وجہ تکنیکی دیکھ بھال ہے۔ کسی بھی فضائیہ کی اصل طاقت اس کے طیاروں کی تعداد سے زیادہ ان کی دیکھ بھال کے نظام پر منحصر ہوتی ہے۔ اگر پرزوں کی بروقت تبدیلی نہ ہو، انجینئرنگ کا معیار کمزور ہو یا گرائونڈ اسٹاف کی تربیت ناقص ہو تو بہترین طیارہ بھی خطرناک بن جاتا ہے۔ بھارت کو اس حوالے سے ایک بڑا مسئلہ درپیش ہے۔ اس کے زیادہ تر
جدید طیارے روسی ساختہ ہیں جبکہ کچھ مغربی ممالک سے خریدے گئے ہیں۔ مختلف ممالک کے طیاروں کا بیڑا چلانے سے دیکھ بھال کا نظام پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ ہر طیارے کے لیے الگ پرزے، الگ تربیت اور الگ تکنیکی نظام درکار ہوتا ہے۔ اس صورتحال میں غلطیوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ایس یو تھرٹی کے حادثات میں کئی بار انجن کی خرابی، ہائیڈرولک سسٹم کی ناکامی اور ایویانکس کی خرابیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ بعض مواقع پر پائلٹوں کو ایجیکٹ کرنا پڑا جبکہ کچھ حادثات میں پائلٹ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ آسام میں پیش آنے والا تازہ واقعہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ بھارتی دفاعی ماہرین اس مسئلے کو کھل کر تسلیم کرنے سے گریز کرتے ہیں لیکن بھارتی پارلیمنٹ میں بھی کئی بار یہ سوال اٹھ چکا ہے کہ آخر جدید طیارے بار بار کیوں گر رہے ہیں۔ایک اور اہم مسئلہ بھارت کی دفاعی خریداری کی پالیسی ہے۔ بھارت نے کئی دہائیوں سے مختلف ممالک سے اسلحہ خرید کر اپنا بیڑا تیار کیا ہے۔ روس، فرانس، برطانیہ اور اسرائیل جیسے ممالک اس کے بڑے سپلائر رہے ہیں۔ اس متنوع نظام کی وجہ سے ایک مربوط دفاعی ڈھانچہ قائم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ جب ایک فضائیہ کی پاس مختلف نسلوں اور مختلف ممالک کے طیارے ہوں تو نہ صرف تربیت پیچیدہ ہو جاتی ہے بلکہ پرزوں کی فراہمی بھی مشکل ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات ایک معمولی پرزہ دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے پورا طیارہ زمین پر کھڑا رہتا ہے۔ بھارت کی دفاعی صنعت نے مقامی سطح پر طیارے بنانے کی کوشش بھی کی ہے۔ تیجس جیسے منصوبے اسی کوشش کا حصہ ہیں۔ لیکن یہ پروگرام کئی دہائیوں کی تاخیر کا شکار رہا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بھارتی فضائیہ کو پرانے طیارے زیادہ عرصہ استعمال کرنا پڑے۔ ایس یو تھرٹی کو اس خلا کو پر کرنے کے لیے خریدا گیا تھا۔ لیکن اگر یہی طیارہ بار بار حادثات کا شکار ہونے لگے تو یہ پورے دفاعی منصوبے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ حادثات کا ایک پہلو انسانی بھی ہے۔ ہر طیارے کے ساتھ قیمتی جانیں وابستہ ہوتی ہیں۔ ایک پائلٹ کی تربیت پر لاکھوں ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ جب کوئی پائلٹ حادثے میں ہلاک ہوتا ہے تو یہ صرف ایک شخص کی موت نہیں ہوتی بلکہ ایک طویل سرمایہ کاری بھی ضائع ہو جاتی ہے۔ بھارتی فضائیہ کے کئی تجربہ کار پائلٹ ان حادثات میں جان گنوا چکے ہیں۔ اس سے فضائیہ کے مورال پر بھی اثر پڑتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی ایسے حادثات کا اثر پڑتا ہے۔ جب کسی ملک کے جدید طیارے مسلسل گر رہے ہوں تو اس کی دفاعی صلاحیت پر سوال اٹھنے لگتے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں فضائی طاقت کا توازن ہمیشہ ایک حساس موضوع رہا ہے۔ بھارت اپنی فضائیہ کو خطے کی
سب سے بڑی فضائی قوت قرار دیتا ہے۔ لیکن حادثات کی یہ طویل فہرست اس دعوے کو کمزور کرتی دکھائی دیتی ہے۔ دوسری طرف جدید جنگوں میں فضائی برتری انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ کسی بھی بڑے تصادم میں وہی ملک کامیاب ہوتا ہے جو فضائی میدان میں برتری حاصل کر لے۔ اگر کسی فضائیہ کے طیارے امن کے زمانے میں ہی گر رہے ہوں تو جنگ کے حالات میں اس کی کارکردگی کے بارے میں خدشات بڑھ جاتے ہیں۔ ایس یو تھرٹی جیسے طیارے اپنی تکنیکی پیچیدگی کے باعث انتہائی حساس ہوتے ہیں۔ انہیں چلانے کے لیے مکمل تربیت یافتہ عملہ اور مضبوط تکنیکی ڈھانچہ درکار ہوتا ہے۔ اگر کسی بھی سطح پر کمزوری ہو تو نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ بھارت کے بعض دفاعی تجزیہ کار اس مسئلے کی ایک اور وجہ بتاتے ہیں۔ ان کے مطابق بھارت میں دفاعی بیوروکریسی بہت پیچیدہ ہے۔ فیصلے سست رفتاری سے ہوتے ہیں۔ پرزوں کی خریداری میں تاخیر ہو جاتی ہے اور کئی بار بدعنوانی کے الزامات بھی سامنے آتے ہیں۔ جب دفاعی نظام اس طرح کی مشکلات کا شکار ہو تو اس کا اثر براہ راست فوجی کارکردگی پر پڑتا ہے۔ آسام میں گرنے والے حالیہ ایس یو تھرٹی حادثے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا بھارتی فضائیہ واقعی اپنے جدید طیاروں کو محفوظ انداز میں چلانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہر حادثہ کئی عوامل کا مجموعہ ہوتا ہے۔ موسم کی خرابی، تکنیکی خرابی، انسانی غلطی اور آپریشنل دباؤ سب مل کر حادثے کا سبب بن سکتے ہیں۔ لیکن جب ایک ہی طیارہ بار بار گرنے لگے تو پھر مسئلہ کہیں زیادہ گہرا ہوتا ہے۔ ایس یو تھرٹی کو بھارتی فضائیہ نے اپنے مستقبل کی بنیاد قرار دیا تھا۔ لیکن اگر یہی بنیاد کمزور ثابت ہو جائے تو پورا ڈھانچہ خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ بھارت اس وقت اپنے فضائی بیڑے کو جدید بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ فرانس سے رافیل طیاروں کی خریداری اسی پالیسی کا حصہ ہے۔ لیکن صرف نئے طیارے خرید لینا مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔ اصل ضرورت ایک مضبوط تربیتی نظام، موثر تکنیکی دیکھ بھال اور شفاف دفاعی پالیسی کی ہوتی ہے۔ اگر یہ مسائل حل نہ کیے گئے تو مستقبل میں بھی ایسے حادثات ہوتے رہیں گے۔ فضائی طاقت کسی بھی ملک کے دفاع کا اہم ستون ہوتی ہے۔ اس ستون میں دراڑیں پورے دفاعی نظام کو کمزور کر دیتی ہیں۔ بھارت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے فضائی حادثات کا سنجیدگی سے جائزہ لے اور بنیادی اصلاحات کرے۔ آسام میں گرنے والا ایس یو تھرٹی ایک طیارے کی تباہی نہیں بلکہ ایک بڑے سوال کی علامت ہے۔ یہ سوال بھارتی فضائیہ کی کارکردگی، اس کے نظام اور اس کی مستقبل کی حکمت عملی سے جڑا ہوا ہے۔ اگر یہ سوال حل نہ ہوئے تو جدید ترین طیارے بھی فضائی برتری کی ضمانت نہیں بن سکیں گے۔ کیونکہ جنگی طاقت کا اصل راز ہتھیاروں کی تعداد میں نہیں بلکہ ان کے موثر استعمال میں ہوتا ہے۔ اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں بھارتی فضائیہ کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

Back to top button