
جنگ بہانہ، ہمارا معاشی روگ ہے پرانا
تحریر : سی ایم رضوان
اس وقت ایران، امریکہ اسرائیل کے مابین جاری جنگ پھیل کر مشرقِ وسطیٰ تنازع کی صورت اختیار کر گئی ہے اور مشرق وسطیٰ کی تیل کی پیداوار کے حوالے سے مرکزیت کی وجہ سے پوری دنیا کی معیشتوں پر انتہائی برے طریقے سے اثر انداز ہو رہی ہے۔ 28فروری کو حملہ شروع کرنے سے قبل حملہ آور نے نشانہ بننے والے فریق کی جانب سے دی گئی مفصل اور سخت جوابی کارروائی کی دھمکیوں کو نظر انداز کر دیا تھا جبکہ حملہ آور کے جارحیت پسند ہونے کی وجہ سے عقل سے عاری حملے کے جواب میں ایران کے ایندھن سے مالا مال خلیجی ریاستوں میں قائم امریکی اڈوں پر حملوں نے ان ممالک کے توانائی شعبے سمیت ان کے فزیکل انفراسٹرکچر کو آتش زدہ کر دیا ہے۔ اسی طرح ان ریاستوں کے صارفین بھی، جو جنوبی امریکا ( چلی، برازیل، ارجنٹینا، پیرو، پیراگوئے اور یوراگوئے)، یورپ ( اٹلی، اسپین، فرانس، نیدر لینڈز اور جرمنی) اور افریقہ ( مصر، جنوبی افریقہ، نائجیریا، کینیا، مراکش اور سوڈان) جیسے دور دراز خطوں سے لے کر ایشیا کے قریبی ممالک ( پاکستان، چین، بھارت، جاپان، جنوبی کوریا اور تائیوان) تک پھیلے ہوئے ہیں، اس صورتحال کی لئے نہ تو تیار تھے اور نہ ہی اس آگ کی تپش سہنے کے قابل تھے۔ مگر یہ ظلم ہو گیا اور خطہ میں توانائی کی تجارت میں خلل اور خلیج میں فضائی حدود کی بندش کے باعث اب لاکھوں افراد نہ صرف وہاں پھنس کر رہ گئے ہیں اور خطہ چھوڑنے سے قاصر ہیں بلکہ ان ممالک کے حکمران بھی مجبور محض بن کر رہ گئے ہیں۔ فریقین کے ارادوں اور آگ کی وسعت کو دیکھ کر اب یہ امید بھی نظر نہیں آ رہی کہ یہ خطہ دوبارہ امن جیسی نعمت حاصل کر پائے گا۔ اس تنازع کی بنیادی معاشی تباہی یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش، جسے عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کی دنیا کی تقریباً 20سے 25فیصد تجارت کا راستہ سمجھا جاتا ہے، کے بعد دنیا بھر میں مہنگائی کے دبا میں اضافہ ہو گیا ہے۔ یاد رہے کہ ان جنگی کارروائیوں کے آغاز سے قبل تیل کی قیمتیں فی بیرل 60سے 65ڈالر کے درمیان تھیں، جو جمعہ تک بڑھ کر 90ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھیں۔ اس جنگ کی وجہ سے پاکستان سمیت کئی ممالک کی اسٹاک مارکیٹیں بھی شدید مندی کا شکار ہوئیں۔
پاکستان کی معاشی کمزوریوں کی جڑیں کئی دہائیوں پر محیط ساختی مسائل اور پالیسیوں میں پیوست ہیں۔ یہاں تک کہ مارچ 2026ء میں ملکی معیشت کی صورتحال یہ ہے کہ اس پر قرضوں اور گردشی قرضوں کا خطیر بوجھ ہے۔ یہ بیرونی اور اندرونی قرضے اتارنے اور ان کی وجہ سے کمزور اور مشروط معاشی پالیسیوں پر عملدرآمد پر اس کی معیشت کا ایک بڑا حصہ خرچ ہو جاتا ہے جبکہ بقیہ پیسہ پرانے قرضوں کی ادائیگی اور سود اتارنے میں خرچ ہو جاتا ہے، جس سے ترقیاتی کاموں کے لئے فنڈز کی اکثر کمی رہتی ہے جبکہ توانائی سیکٹر میں بجلی اور گیس کے شعبے میں گردشی قرضہ ایک بڑا ناسور بن گیا ہے، جو حکومتی خزانے پر مسلسل بوجھ ڈال رہا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ ٹیکس کا زیادہ تر بوجھ تنخواہ دار طبقے اور مینوفیکچرنگ پر ہے، جبکہ زراعت اور ریٹیل جیسے شعبے بڑی حد تک ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔ علاوہ ازیں ملکی معیشت کا ایک بڑا حصہ دستاویزی شکل میں بھی نہیں جس کی وجہ سے حکومت کو ریونیو اکٹھا کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔ پاکستان توانائی ( تیل و گیس) اور خام مال کے لئے درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے جبکہ برآمدات میں تنوع کی کمی ہے ( زیادہ تر ٹیکسٹائل تک محدود) برآمدات کم اور درآمدات زیادہ ہونے کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دبا رہتا ہے، جس سے روپے کی قدر میں مسلسل کمی ہوتی ہے۔ وزارتِ خزانہ کی حالیہ رپورٹس کے مطابق کرپشن اور بیورو کریٹک رکاوٹیں معاشی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ پی آئی اے اور اسٹیل ملز جیسے سرکاری ادارے مسلسل نقصان میں چلنے کی وجہ فروخت ہو چکے ہیں۔ اشیائے خور و نوش اور توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عام آدمی کی قوتِ خرید کو ختم کر چکا ہے، جس سے معاشی پہیہ سست ہو جاتا ہے۔ سیاسی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے اندرونی اور بیرونی سرمایہ کار ہچکچاہٹ کا شکار رہتے ہیں، جو براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو متاثر کرتی ہے۔ حوصلہ افزا امر یہ ہے کہ پاکستان کی جی ڈی پی گزشتہ چند برسوں میں اوسطاً 3فیصد کی شرح سے بڑھی ہے، جو بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ناکافی ہے۔ ماہرین کے مطابق ان مسائل کے حل کے لئے ایک طویل مدتی ’’ میثاقِ معیشت‘‘ اور سخت ساختی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ان حالات میں مشرق وسطیٰ کی جنگ نے موجودہ حکمرانوں کے ہوش اڑا دیئے ہیں۔
یوں اس جنگ سے قبل ہی آئی ایم ایف کی کڑی شرائط میں جکڑا اور اپنی معاشی مجبوریوں کے گرداب میں ڈوبا پاکستان ایندھن کی درآمدات پر شدید انحصار کر رہا تھا، تفصیل اس کی یہ ہے کہ اس ایندھن کو حاصل کر کے یہ اپنے عوام پر جو ظالمانہ ٹیکس لگاتا تھا اسی ناجائز ٹیکس سے اس کے حکومتی اخراجات انتظامی معاملات چل رہے تھے۔ یہ تقریباً 85فیصد ایندھن خلیجی ممالک سے، جس میں ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی شامل ہے، اور 99فیصد ایل این جی قطر سے حاصل کرتا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ پاکستانی حکومت نے 2026ء کے لئے درخواست دے رکھی ہے کہ 35سے 45ایل این جی کارگو ( جن میں 24قطر کے ہیں) بین الاقوامی مارکیٹ کی جانب موڑ دیتے جائیں، کیونکہ 2016ء میں قطر کے ساتھ ہونے والا مبالغہ آمیز معاہدہ ملکی طلب سے کہیں زیادہ تھا کہ جب بھی قطر دوبارہ ایل این جی برآمد کرے گا، 2016 ء میں طے شدہ قیمت سے کسی بھی اضافے کا فائدہ قطر کو ہو گا، جبکہ بین الاقوامی قیمت میں کمی کا بوجھ پاکستان پر آئے گا، یہ معاہدہ نہ صرف طلب کے تخمینے میں کمی بلکہ اس وقت کی حکومت کی قانونی مہارت کی کمی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ اب ایندھن کی فراہمی میں کمی سے پٹرولیم لیوی کے تحت وصولیاں متاثر ہوں گی، جس کا موجودہ سال کے بجٹ میں ہدف 1.468ٹریلین روپے مقرر ہے۔ یہ ایک طویل مدتی وفاقی محصول کا اہم ذریعہ ہے جو وفاقی قابل تقسیم رقم کا حصہ نہیں ہے۔ پہلے چھ ماہ میں حکومت نے اس کے تحت 822.9ارب روپے جمع کیے اور اگلے چھ ماہ کے لئے 645.495ارب روپے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس رقم کی عدم وصولی بھی بجٹ خسارے میں اضافہ کرے گی جو شدید مہنگائی پیدا کرنے والی پالیسی ہے۔ حکومت ممکنہ طور پر آئی ایم ایف کے دبائو میں آ کر متفقہ ہنگامی اقدامات نافذ کرنے پر مجبور ہو سکتی ہے، مثال کے طور پر کچھ دیگر اشیاء پر ٹیکس بڑھانا یا لیوی میں مزید اضافہ کرنا، کیونکہ اب مہنگائی کو محدود کرنے کے لئے کوئی اوپری حد موجود نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سٹیٹ بینک آف پاکستان کو ڈسکائونٹ ریٹ بڑھانے کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے۔ اس حوالے سے ایک اور اہم حقیقت کہ وزیر پٹرولیم نے منگل کو سعودی سفیر سے ملاقات کے بعد بتایا تھا کہ پاکستان بحیرہ احمر کی بندرگاہ کے ذریعے سعودی تیل تک رسائی حاصل کر سکے گا۔ تاہم انہیں اس راستے میں دو بڑے خطرات یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک یہ کہ سعودی اور حوثی تعلقات جو 2015ء میں دونوں کے درمیان جنگ کے بعد اب تک کشیدہ ہیں، اور دوسرا یہ کہ حوثیوں نے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی نسل کشی کے ردِعمل میں اسرائیل کی ایلات بندرگاہ تک بحیرہ احمر کے راستے شپنگ تقریباً معطل کر دی ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ حوثیوں سے بات چیت کریں گے تاکہ پاکستان کے لئے اس راستے سے ایندھن کی فروخت ممکن ہو سکے۔ ورنہ یہ آپشن بھی خطرہ سے خالی نہیں۔ اب مشرق وسطیٰ تنازع کے آغاز کے ایک ہفتے بعد حکومت نے گزشتہ روز جو پٹرول اور متعلقہ مصنوعات کی قیمتیں اس سطح تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے جسے وہ اس وقت تک طلب کو محدود کرنے والا سمجھتی ہے جب تک ایندھن کی فراہمی معمول پر نہ آ جائے۔ یہ فیصلہ معاشی حقائق کو سمجھنےوالے معیشت دانوں کے لئے تو قابل حمایت ہے لیکن پاکستانی عوام اس فیصلے کے خلاف سراپا احتجاج ہی نہیں آگ بگولہ ہیں کہ اب تک کی ماضی اور حال کی غلط حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں اب جو حکومت معاشی سولی پر لٹک رہی ہے اس میں عوام کا کیا قصور اب حکمرانوں کو خود ہی کچھ کرنا چاہئے عوام کو تو بھوک سے مارنے کا پروگرام نہیں شروع کرنا چاہئے۔ اس سے قبل وزیرِ اعظم نے دو کمیٹیاں قائم کی تھیں، ایک کی سربراہی وزیرِ خزانہ کے پاس اور دوسری کی سربراہی وزیرِ بحری امور کے پاس، جنہیں مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے منفی اثرات کا جائزہ لینے اور اسے کم کرنے کے لئے اقدامات تجویز کرنے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت ملک کو درپیش شدید مسائل سے مکمل آگاہ ہے۔ تاہم حکومت کو یہ بھی غور کرنا چاہیے کہ موجودہ اخراجات میں کمی کی جائے، نہ کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جو ملک میں غربت کی شرح کو مزید بڑھا دیں، جو عالمی بینک کی جون 2025ء کی رپورٹ کے مطابق پہلے ہی تشویشناک 44.7فیصد ہے۔
ان معاشی مجبوریوں کے باوصف یہ ماننا ہی پڑے گا کہ ہم ایک غریب ملک ہیں، لیکن ہمارے حکمرانوں کا طرز حکمرانی امیر ترین یورپی ممالک سے بھی بہتر ہے، جس کا ثبوت یہ ہے کہ دو ماہ پہلے جدید اور مہنگا ترین جہاز خریدا گیا، بھارت جیسے ہم سے بہتر معاشی حالات والے ملک میں بھی کسی وزیر اعلیٰ کے پاس ایسا جہاز نہیں ہے۔ کمزور ترین ملکی معیشت کی سب سے زیادہ خبر رکھنے والے یہ حکمران عوام کی مجبوریوں کے باوجود اپنی عیاشیوں کو تو جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن سزا پاکستانی عوام کو اس طرح دی جا رہی ہے، کہ مشرق وسطیٰ جنگ کے بہانے سے پٹرولیم مصنوعات پر بھاری لیوی ٹیکس لگا کر تمام تر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو آگ لگا دی ہے اور مزید اضافے کی بھی بنیاد رکھ دی ہے۔ 60یا 65ڈالر فی بیرل کے حساب سے خریدی گئی پٹرولیم مصنوعات کے 28دن کے ذخائر موجود ہونے کے باوجود پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بڑا اضافہ کر کے عوام کو جنگ کے بغیر جنگ کی آگ میں جھونک دیا اور آئل مارکیٹنگ کمپنیز کو ظالمانہ طریقہ سے عوام کی جیبوں سے 113ارب روپے نکال لینے کی کھلی چھوٹ دے دی ہے۔ اوپر سے کارروائی ڈالتے ہوئے چار دن کا ورکنگ ویک اور تعلیمی اداروں کو دس دن کی چھٹیاں دے دیں، جبکہ اصلی روگ جو ملکی معیشت کے تن بدن کو لگا ہوا ہے اس کا علاج کچھ بھی نہیں۔




