
مغربی انٹیلی جنس اداروں کا دعویٰ ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری تنازع میں ایران کا فوجی اسلحہ توقع سے زیادہ تیزی سے کم ہو سکتا ہے۔
امریکی فوج کے کمانڈ سینٹر (سینٹکام) کے مطابق جنگ کے پہلے دن کے مقابلے میں ایران کی جانب سے داغے جانے والے بیلسٹک میزائلوں کی تعداد میں 86 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
امریکا کے اعلیٰ فوجی کمانڈر ڈین کین نے بھی بتایا ہے کہ اسی مدت میں ایران کے ڈرون حملوں میں 73 فیصد کمی آئی ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق جنگ شروع ہونے سے پہلے ایران کے پاس 2 ہزار سے زیادہ شارٹ رینج بیلسٹک میزائل اور 10 ہزار کی تعداد میں شاہد خودکش ڈرون موجود تھے
اگرچہ درست اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے، تاہم مغربی حکام کا کہنا ہے کہ حملوں کی شدت میں واضح کمی آئی ہے، جو پہلے دن سیکڑوں حملوں سے اب کم ہو کر درجنوں تک رہ گئی ہے۔
تاہم عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ ایران کے ہتھیار ختم ہو رہے ہوں، ممکن ہے کہ ایران حکمتِ عملی کے تحت اپنے ہتھیار محفوظ کر رہا ہو تاکہ طویل جنگ کی صورت میں استعمال کیے جا سکیں۔
رپورٹس کے مطابق اگلے مرحلے میں آپیشن ایپک فری کے تحت موبائل میزائل لانچرز، اسلحہ ذخائر اور ہتھیار بنانے والی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کا جغرافیہ بھی ایک بڑا چیلنج ہے، کیونکہ رقبے کے لحاظ سے ایران فرانس سے تقریباً 3 گنا بڑا ہے، جس کے باعث اس کے ہتھیاروں اور لانچنگ سائٹس کو مکمل طور پر تباہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔







