Column

مشرق وسطیٰ جنگ

مشرق وسطیٰ جنگ

دوسرے ہفتے میں داخل

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی اور جنگی ماحول کی لپیٹ میں ہے۔ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تصادم اب دوسرے ہفتے میں داخل ہوچکا ہے اور اس کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جارہے ہیں۔ گزشتہ روز ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے ہمسایہ ممالک سے معافی مانگنا اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ جنگ کے اثرات نہ صرف براہ راست فریقین بلکہ پورے خطے کو متاثر کر رہے ہیں۔ تاہم اس معافی کے ساتھ ہی ایران کی قیادت نے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ دبا کے باوجود ہتھیار نہیں ڈالے گا اور اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف سیاسی، معاشی اور عسکری محاذوں پر برسرپیکار رہے ہیں۔ تاہم حالیہ تنازع کی شدت اس لیے زیادہ ہے کیونکہ اس میں اسرائیل بھی براہ راست شامل ہوچکا اور جنگی کارروائیاں مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک تک پھیلنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ ایران کی جانب سے بصرہ، متحدہ عرب امارات اور کویت میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے اور دوسری طرف اسرائیل کے تہران اور دیگر علاقوں پر فضائی حملے اس بات کی علامت ہیں کہ جنگ کا دائرہ مسلسل وسیع ہورہا ہے۔ ایرانی صدر کے خطاب میں جہاں ہمسایہ ممالک کے لیے مصالحتی پیغام تھا، وہیں دشمنوں کے لیے سخت لہجہ بھی نمایاں تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران عرب ممالک سے دشمنی نہیں چاہتا اور اس کے حملوں کا ہدف صرف وہ امریکی اڈے ہیں جو ایران کے خلاف استعمال ہورہے ہیں۔ اس موقف کا مقصد بظاہر یہ ہے کہ خطے کے دیگر ممالک کو اس جنگ سے دور رکھا جائے اور ایک وسیع علاقائی جنگ سے بچا جاسکے۔دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی معذرت کو اپنی اور اسرائیل کی عسکری برتری کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ ان کے بیانات میں سخت لہجہ اور ایران کے خلاف مزید کارروائیوں کی دھمکی اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ واشنگٹن اس تنازع کو دبا کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔ تاہم تاریخ یہ بتاتی ہے کہ طاقت کے استعمال سے مشرقِ وسطیٰ کے مسائل کم ہونے کے بجائے اکثر مزید پیچیدہ ہوجاتے ہیں۔ اس جنگ کا ایک تشویش ناک پہلو شہری علاقوں پر حملوں کے الزامات ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ رہائشی علاقوں، اسکولوں اور اسپتالوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے جب کہ اسرائیل اور امریکا کا موقف ہے کہ وہ صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنارہے ہیں۔ حقیقت جو بھی ہو، جنگ کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔ لبنان میں ایک لاکھ کے قریب افراد کا پناہ گاہوں میں منتقل ہونا اور سیکڑوں اموات اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ تنازع صرف فوجی محاذ تک محدود نہیں رہا۔ خطے کے لیے سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ اگر یہ جنگ مزید پھیلتی ہے تو عالمی معیشت بھی شدید متاثر ہوسکتی ہے۔ خلیج کا خطہ دنیا کی توانائی کی فراہمی میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ تیل اور گیس کی تنصیبات یا بحری راستوں کو نقصان پہنچنے کی صورت میں عالمی منڈیوں میں شدید عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے۔ اسی وجہ سے دنیا کی بڑی طاقتیں بظاہر اس کشیدگی کو قابو میں رکھنے کی کوشش کررہی ہیں، تاہم عملی طور پر صورت حال ابھی تک قابو میں نظر نہیں آتی۔ ایران کی جانب سے جدید ڈرونز اور میزائل حملوں کے دعوے اور امریکی و اسرائیلی فضائی کارروائیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ دونوں طرف عسکری طاقت کا بھرپور استعمال ہورہا ہے۔ ایسے حالات میں کسی ایک واقعے یا غلط اندازے سے جنگ مزید شدت اختیار کرسکتی ہے۔ خاص طور پر جب مختلف ممالک میں موجود فوجی اڈے اور اتحادی اس تنازع کا حصہ بن جائیں تو خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔اس تمام صورت حال میں عالمی برادری کا کردار انتہائی اہم ہوجاتا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کو چاہیے کہ فوری جنگ بندی اور مذاکرات کے لیے مثر اقدامات کریں۔ اگر یہ جنگ لمبے عرصے تک جاری رہی تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ جنگ کبھی بھی مسائل کا مستقل حل نہیں ہوتی۔ طاقت کے استعمال سے وقتی برتری تو حاصل کی جاسکتی ہے مگر پائیدار امن صرف مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ فریقین کو سمجھنا ہوگا کہ اس تنازع کا پھیلا پورے خطے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کئی دہائیوں سے جنگوں، تنازعات اور سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا ہے۔ اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو یہ خطہ ایک بار پھر ایک طویل اور خطرناک جنگ کے دہانے پر پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ عقل و دانش سے کام لیتے ہوئے تصادم کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے، تاکہ خطے اور دنیا کو ایک نئی تباہی سے بچایا جاسکے۔

15بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد ہلاک

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی حالیہ کارروائیوں کے دوران بھارتی سرپرستی یافتہ 15خوارج کا ہلاک ہونا دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ضلع ہرنائی اور ضلع بسیما میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کیے گئے انٹیلی جنس آپریشنز میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور فیصلہ کن کارروائی کے ذریعے انہیں انجام تک پہنچایا گیا۔ یہ کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ سیکیورٹی ادارے ملک میں امن و استحکام کے قیام کی لیے پوری طرح متحرک اور پرعزم ہیں۔ بلوچستان ایک ایسا صوبہ ہے جو جغرافیائی، معاشی اور اسٹرٹیجک لحاظ سے پاکستان کے لیے بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن عناصر طویل عرصے سے اس خطے کو عدم استحکام کا شکار بنانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ بیرونی قوتیں پراکسی گروہوں کے ذریعے بدامنی پھیلانے اور ریاستی اداروں کو کمزور کرنے کی سازشیں کرتی رہی ہیں۔ تاہم سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائیاں ان سازشوں کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔ حالیہ آپریشنز میں ہلاک ہونے والے دہشت گرد نہ صرف سیکیورٹی فورسز کو مطلوب تھی بلکہ وہ مختلف دہشت گرد کارروائیوں میں بھی ملوث تھے۔ ان عناصر کا خاتمہ اس بات کا واضح پیغام ہے کہ ریاست پاکستان کسی بھی قسم کی دہشت گردی کو برداشت نہیں کرے گی اور ملک کی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سیکیورٹی فورسز کی ذمے داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ عوام کی جانب سے تعاون، بروقت اطلاعات کی فراہمی اور قومی یکجہتی اس جنگ میں کامیابی کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ جب عوام اور ریاستی ادارے ایک صفحے پر ہوں تو دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کے لیے اپنی مذموم سرگرمیاں جاری رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع کو مزید فروغ دیا جائے۔ معاشی اور سماجی ترقی دہشت گردی کے خلاف ایک مثر ہتھیار ثابت ہوتی ہے کیونکہ جب نوجوانوں کو مثبت مواقع میسر آتے ہیں تو وہ شدت پسندی کے راستے سے دور رہتے ہیں۔ مجموعی طور پر بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں اس عزم کی عکاس ہیں کہ پاکستان اپنی سرزمین پر امن و استحکام کے قیام کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے یہ جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ملک سے ہر قسم کے بیرونی سرپرست یافتہ عناصر کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ یہی راستہ پاکستان کے روشن، محفوظ اور مستحکم مستقبل کی ضمانت ہے۔

جواب دیں

Back to top button