Column

ملکی تاریخ کی سب سے بڑی ڈکیتی 

ملکی تاریخ کی سب سے بڑی ڈکیتی

تحریر : صفدر علی حیدری

کبھی کبھی کسی قوم کی تاریخ میں ایسے فیصلے بھی درج ہو جاتے ہیں جو محض معاشی اعداد و شمار نہیں رہتے بلکہ ایک اجتماعی صدمہ بن جاتے ہیں۔ پاکستان میں پٹرول کی قیمت میں اچانک پچپن روپے فی لٹر اضافہ بھی ایک ایسا فیصلہ ہے جس نے صرف عوام کے بجٹ کو نہیں بلکہ ان کے جذبات اور اعتماد کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔

یہ محض ایک حکومتی اعلان نہیں بلکہ ایک ایسا معاشرتی دھچکا ہے جس نے پہلے ہی سے مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے عوام کے دلوں میں مایوسی کی ایک نئی لہر دوڑا دی ہے۔

سات تاریخ کی صبح جب یہ خبر عام ہوئی تو ہر گھر میں ایک ہی سوال گونج رہا تھا: ’’ اب کیا ہوگا؟ کیسے گزارا کریں گے؟‘‘۔ پٹرول کی قیمت بڑھنے کے بعد مارکیٹ میں ہر چیز کی قیمت بھی بڑھ گئی۔ یہ اضافہ محض گاڑیوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ زندگی کے ہر شعبے پر چھا جاتا ہے۔ آٹا، دال، سبزیاں، دودھ، گوشت، کرایے، سب کچھ فوراً مہنگا ہو جاتا ہے۔

سب سے تلخ حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر یہ سامان پہلے سے ہی دکانوں میں موجود ہوتا ہے، کم قیمت پر خریدا گیا ہوتا ہے، مگر جیسے ہی حکومت پٹرول مہنگا کرتی ہے، مارکیٹ فوراً اس کا فائدہ اٹھانے لگتی ہے۔ جواز یہ دیا جاتا ہے کہ ’’ پٹرول مہنگا ہو گیا ہے‘‘۔

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جو چیزیں مہنگی ہو رہی ہیں وہ پہلے ہی سستے داموں میں خریدی جا چکی ہوتی ہیں۔پٹرول کی قیمت میں اچانک اضافہ نہ صرف عوام کے بجٹ پر اثر ڈالتا ہے بلکہ وزراء کی بے حسی اور ڈھٹائی اس بحران کو اور زیادہ تلخ بنا دیتی ہے۔ ایک وزیر نے یہاں تک کہہ دیا: ’’ میرے بس میں ہوتا تو میں پانچ سو روپے فی لیٹر کر دیتا‘‘۔

یہ محض ایک بیان نہیں بلکہ عوام کے جذبات کے ساتھ بدترین مذاق اور حکومتی بے حسی کا سب سے بڑا مظہر ہے۔ اس جملے میں وہ سرد مہری جھلکتی ہے جو ایک بڑے طبقے کے لیے معمول بن چکی ہے: حکمران عوام کی تکلیف کو سمجھنے کی زحمت نہیں کرتے اور ان کے لیے عوام محض اعداد و شمار کا ایک ہجوم ہیں، زندہ انسان نہیں۔

جب حکومت کے نمائندے اس قدر ڈھٹائی دکھاتے ہیں تو عوام میں مایوسی اور غصہ بڑھ جاتا ہے۔ لوگ صرف یہ سوچ کر بے بس رہ جاتے ہیں کہ ان کی زندگی کو مہنگائی کے طوفان میں دھکیلنے والے وہ لوگ ہیں جو خود آسائش اور طاقت کے محفوظ حصار میں بیٹھے ہیں۔

پٹرول کی قیمت میں اضافہ بظاہر ایک معاشی فیصلہ ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ پورے معاشرتی ڈھانچے کو متاثر کرتا ہے۔ ہر خاندان، ہر گھر اور ہر فرد اس کے اثرات محسوس کرتا ہے۔

ایک مزدور جس کی روزانہ آمدنی محدود ہے، اس کے لیے پٹرول کی ہر بڑھتی قیمت محض ایک عدد نہیں بلکہ زندگی کا نیا بحران ہوتی ہے۔

والدین جو بچوں کی تعلیم، گھر کا راشن اور دیگر اخراجات پورے کرنے کی کوشش کر رہی ہوتے ہیں، انہیں اب یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ کون سا خرچ پہلے پورا کریں۔

چھوٹے دکاندار، جن کی بچت محدود ہوتی ہے، مہنگائی کے طوفان کے سامنے بے بس ہو جاتے ہیں اور اکثر نقصان کے خوف سے قیمتیں بڑھا دیتے ہیں۔

یوں یہ اضافہ محض پٹرول تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرتی نظام میں مہنگائی اور عدم مساوات کا زہر گھول دیتا ہے۔ پٹرول کی قیمت بڑھنے کے بعد مارکیٹ میں ذخیرہ اندوزی بھی شروع ہو جاتی ہے۔ پمپ بند کر دئیے جاتے ہیں، لمبی قطاریں لگتی ہیں، اور اگلے دن وہی پٹرول زیادہ قیمت پر فروخت ہوتا ہے۔ یہ سب کچھ محض معاشی منطق کا نتیجہ نہیں بلکہ انسانی حرص اور نفسیات کا بھی عکاس ہے۔ عوام کے پاس نہ عالمی منڈی پر کوئی اختیار ہے اور نہ ہی حکومتی فیصلوں پر۔ وہ صرف اپنے روزمرہ گزارے کے لیے اس کھیل کا شکار ہوتے ہیں۔

معاشیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ مہنگائی صرف اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں بلکہ نفسیات کا بھی مسئلہ ہے۔ جب لوگوں کو یقین ہو جائے کہ قیمتیں مسلسل بڑھتی رہیں گی تو وہ پہلے ہی قیمتیں بڑھا دیتے ہیں۔ پاکستان میں بھی یہی صورت حال نظر آتی ہے۔ جیسے ہی پٹرول مہنگا ہوتا ہے، مہنگائی کی ایک نفسیاتی لہر پورے بازار میں پھیل جاتی ہے۔ ہر چیز مہنگی ہونے لگتی ہے، چاہے وہ پہلے سے موجود ہو یا نہ ہو۔ یہ نفسیات عام آدمی کے دل میں یہ احساس پیدا کرتی ہے کہ وہ ہمیشہ معاشی کھیل میں پیچھے رہے گا اور اس کی محنت کبھی کافی نہیں ہوگی۔

پٹرول کی قیمت میں اضافہ کے اثرات صرف گھر اور بازار تک محدود نہیں رہتے۔ یہ معاشرتی کشیدگی، عدم مساوات اور مایوسی کو بھی بڑھاتے ہیں۔ لوگ بنیادی ضروریات کے لیے زیادہ قرض لینے لگتے ہیں۔ نوجوانوں میں بے یقینی اور مایوسی بڑھتی ہے۔ غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اور روزمرہ کے تنازعات اور غصے کی سطح بلند ہو جاتی ہے۔

پاکستان کی سیاست کی ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ اپوزیشن میں رہتے ہوئے ہر سیاسی جماعت مہنگائی کے خلاف سب سے بلند آواز اٹھاتی ہے۔ جب پٹرول کی قیمت چند روپے بھی بڑھتی ہے تو اسے عوام دشمنی قرار دیا جاتا ہے۔ مگر اقتدار میں آتے ہی وہی جماعتیں کئی گنا زیادہ اضافہ کر دیتی ہیں۔ یہ تضاد عوام کے دل میں شدید مایوسی پیدا کرتا ہے۔ لوگ محسوس کرتے ہیں کہ انتخابی وعدے محض نعرے تھے، اور اقتدار میں آ کر عوام کے مفادات پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔

عمران خان کے دور میں جب پوری دنیا COVID۔19کی وبا سے بند تھی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 117ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، تب پاکستان میں پٹرول تقریباً 150روپے فی لٹر تھا۔ آج جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمت تقریباً 105ڈالر فی بیرل کے آس پاس ہے تو یہاں پٹرول 321روپے فی لیٹر تک پہنچ چکا ہے۔ وہ تو ’’ اناڑیوں‘‘ کی حکومت تھی اور یہ ’’ کھلاڑیوں‘‘ کی حکومت ہے۔

کل تک جو لوگ پٹرول کی قیمت میں اضافے کو وطن دشمنی قرار دیتے تھے، آج وہی لوگ اقتدار میں بیٹھ کر اسے معاشی مجبوری قرار دے رہے ہیں۔

یہی سیاست کا وہ تضاد ہے جس نے عوام کے اعتماد کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔

عام آدمی کے لیے ہر اضافہ ایک نیا بحران بن جاتا ہے۔ ایک مزدور کے لیے یہ محض پٹرول نہیں بلکہ اس کی زندگی کا بوجھ ہے۔ ایک والد کے لیے یہ بچوں کی تعلیم اور گھر کے راشن کے درمیان انتخاب کا مسئلہ ہے۔ ایسے میں پٹرول کی قیمت میں اچانک پچپن روپے کا اضافہ عوام کو یہی محسوس کراتا ہے کہ ان کی جیبوں پر ایک منظم حملہ کیا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگوں کے نزدیک یہ فیصلہ محض ایک معاشی اقدام نہیں بلکہ ملکی تاریخ کی سب سے بڑی معاشی ڈکیتی محسوس ہوتا ہے۔ اور جب کسی قوم کے عوام کو اپنے ہی حکمرانوں کے فیصلے ڈکیتی محسوس ہونے لگیں تو یہ صرف معاشی بحران نہیں رہتا، بلکہ یہ اخلاقی اور سماجی بحران بھی بن جاتا ہے۔

صفدر علی حیدری

جواب دیں

Back to top button