ColumnQadir Khan

مشرق وسطیٰ تنازع: فوجی نقصانات، معاشی اثرات

مشرق وسطیٰ تنازع: فوجی نقصانات، معاشی اثرات

تحریر : قادرخان یوسف زئی

مشرق وسطیٰ کی ریت ایک بار پھر خون، بارود اور عالمی طاقتوں کے تکبر کی بو سے رچی ہوئی ہے، لیکن اس بار یہ شعلے محض علاقائی سرحدوں تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی معیشت اور تزویراتی بساط کو مکمل طور پر اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں۔ عسکری اور مادی نقصانات کے گوشواروں کا جائزہ لیا جائے تو یہ جنگ جارح اور مجروح، دونوں اطراف کے لیے ایک نہ ختم ہونے والی تباہی ثابت ہو رہی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے اپنی مشترکہ فضائی مہم کے ذریعے ایران کے فضائی دفاعی نظام کا تقریباً اسی فیصد حصہ تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور تین سو سے زائد بیلسٹک میزائل لانچرز کو ناکارہ بنا دیا ہے، جس کی بدولت امریکی دعووں کے مطابق ایران کی میزائل داغنے کی صلاحیت میں نوے فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم، ایران کا جوابی وار بھی کم ہولناک نہیں رہا اور اس نے اپنی روایتی کمزوری کو غیر متناسب جنگی حکمت عملی کے ذریعے طاقت میں بدلنے کی کوشش کی ہے۔ اپنے پراکسی نیٹ ورکس اور ڈرون ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے، ایران نے خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کے ممالک میں موجود امریکی اور اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنایا۔ تنازع کے ابتدائی سو گھنٹوں میں ہی امریکہ کو تقریباً 2.52بلین ڈالر کے فوجی اثاثوں کا نقصان اٹھانا پڑا ہے، دوسری جانب اسرائیل، جو ایران اور حزب اللہ کے مسلسل بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کی زد میں ہے، شدید نفسیاتی اور مادی نقصان کا سامنا کر رہا ہے، جہاں اب تک 12اسرائیلی شہری ہلاک ہو چکے ہیں، لاکھوں عوام مسلسل بنکروں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں، اور ملکی معیشت کا پہیہ رک چکا ہے۔

یہ تنازع صرف روایتی ہتھیاروں تک محدود نہیں رہا بلکہ سائبر وارفیئر نے اسے ایک نئی اور خطرناک جہت دے دی ہے۔ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے فوراً بعد ایران میں انٹرنیٹ کی دستیابی ایک سے چار فیصد تک گر گئی، جس نے ریاستی سائبر حملوں کی صلاحیت کو تو وقتی طور پر مفلوج کیا، لیکن اس خلا کو ہنڈالہ ہیک (Handala Hack)اور سائبر اسلامک ریزسٹنس جیسے غیر مرکزی ہیکٹیوسٹ گروپس نے پُر کر لیا، جنہوں نے اسرائیلی دفاعی اور توانائی کے اداروں سمیت اردن کے فیول سسٹمز پر سائبر حملے کیے۔ اس کے جواب میں اسرائیلی اور امریکی ہیکرز نے ایران کی مشہور مذہبی ایپ ’ بادِ صبا‘ کو ہیک کر کے پچاس لاکھ سے زائد صارفین کو حکومت مخالف پیغامات بھیجے تاکہ اندرونی بغاوت کو ہوا دی جا سکے۔ یہ نفسیاتی اور ڈیجیٹل جنگ زمین پر لڑی جانے والی جنگ سے کسی طور کم تباہ کن نہیں ہے۔

اس خونی بساط کا سب سے ہولناک پہلو وہ معاشی گرداب ہے جس نے خطے سے نکل کر پوری دنیا کی معیشت کا گلا گھونٹنا شروع کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز، جسے عالمی معیشت کی شہ رگ کہا جاتا ہے اور جہاں سے دنیا کا بیس فیصد خام تیل اور مائع قدرتی گیس ( ایل این جی) گزرتی ہے، آج عملی طور پر بند ہو چکی ہے۔ انشورنس کمپنیوں کی جانب سے خلیج فارس میں جانے والے تجارتی جہازوں کو کوریج دینے سے انکار کے باعث یومیہ 103جہازوں کی آمدورفت گر کر محض تین تک محدود ہو گئی ہے۔ اس شدید سپلائی شاک کے نتیجے میں بین الاقوامی منڈی میں برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 28فیصد اضافے کے ساتھ 92ڈالر فی بیرل کو عبور کر چکی ہے۔ بلومبرگ اکنامکس کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہ کشیدگی چند ماہ مزید برقرار رہی تو تیل کی قیمتیں 108ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔ توانائی کا یہ بحران صرف تیل تک محدود نہیں رہا؛ قطر کے راس لافان انڈسٹریل کمپلیکس پر ایرانی ڈرون حملے کے بعد قطر انرجی نے ’ فورس مجیور‘ کا اعلان کر دیا ہے، جس سے عالمی ایل این جی سپلائی کا بیس فیصد حصہ اچانک منقطع ہو گیا ہے۔ اس صورتحال نے موسمِ سرما کے اختتام پر یورپ اور ایشیا میں گیس کی قیمتوں میں 38سے 50فیصد تک کا ہوشربا اضافہ کر دیا ہے، جو خاص طور پر پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے معاشی موت کا پروانہ ثابت ہو رہا ہے جو مہنگی گیس خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔

اس معاشی تباہی کی لہریں توانائی کے شعبے سے بہت آگے بڑھ کر ٹیکنالوجی اور عالمی زراعت کے بنیادی ڈھانچے کی جڑیں کھوکھلی کر رہی ہیں۔ قطر محض ایل این جی نہیں بلکہ دنیا کی انتہائی خالص ہیلیم گیس کا تیس فیصد بھی پیدا کرتا ہے، جو سیمی کنڈکٹر اور مائیکرو چپس بنانے کے دوران سلیکون ویفرز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ناگزیر ہے، اور جس کا فی الحال کوئی متبادل موجود نہیں۔ جنوبی کوریا اور تائیوان کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے سپلائی چین کے ٹوٹنے کی وارننگ دے دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، عالمی کھاد ( فرٹیلائزر) کی مارکیٹ بھی بری طرح مفلوج ہو چکی ہے۔ مشرق وسطیٰ عالمی زراعت کے لیے یوریا اور امونیا کی پیداوار کا کلیدی مرکز ہے اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث یوریا کی قیمتوں میں 130ڈالر فی ٹن کا فوری اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یورپی کھاد کمپنی یارا (Yara)کے سی ای او کے مطابق، اگر کسانوں کو موسم بہار کی بوائی کے لیے بروقت نائٹروجن پر مبنی کھاد نہ ملی تو فصلوں کی پیداوار میں پچاس فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک ایسے عالمی غذائی بحران کو جنم دے گا جو 2022ء کی روس، یوکرین جنگ کے معاشی جھٹکوں کو بھی پیچھے چھوڑ دے گا۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے متنبہ کیا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں اگر محض دس فیصد اضافہ ایک سال تک برقرار رہتا ہے تو یہ عالمی افراط زر میں 0.4فیصد اضافہ کرے گا اور عالمی معاشی ترقی کو 0.1سے 0.2فیصد تک سست کر دے گا۔ آکسفورڈ اکنامکس کی رپورٹ کے مطابق اس مہنگائی کے طوفان کے باعث، امریکی فیڈرل ریزرو اور بینک آف انگلینڈ جیسے بڑے مرکزی بینک، جو اس سال شرح سود میں کمی کا ارادہ رکھتے تھے، اب اسے 3.75فیصد جیسی بلند سطح پر طویل عرصے تک برقرار رکھنے پر مجبور ہوں گے تاکہ درآمدی مہنگائی کو قابو کیا جا سکے۔ اس فیصلے کا سب سے زیادہ نقصان مقروض ترقی پذیر ممالک اور ابھرتی ہوئی منڈیوں کو ہوگا جو عالمی سود کی بلند شرح کے باعث ڈیفالٹ کے خطرے سے دوچار ہو جائیں گے۔ مشرق وسطیٰ کے سیاحتی شعبے کے لیے تو یہ جنگ ایک ڈرانا خواب ثابت ہو رہی ہے، جہاں ٹورازم اکنامکس کے ایک محتاط اندازے کے مطابق اس سال بین الاقوامی سیاحوں کی آمد میں 11سے 27فیصد کمی متوقع ہے جس سے خطے کو 34سے 56بلین ڈالر کے زرمبادلہ کا نقصان ہوگا۔ درمیانی شدت کے تنازعات تاریخی طور پر پانچ سالوں کے دوران براہ راست ملوث ممالک کی فی کس جی ڈی پی میں 13فیصد تک کی کمی کا سبب بنتے ہیں، جو ایران، اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کی معیشتوں کو دہائیوں پیچھے دھکیل سکتا ہے۔ جنگ کی مزید طوالت نہ صرف مشرق وسطیٰ کا سیاسی نقشہ ہمیشہ کے لیے بدل دے گی بلکہ دنیا کو ایک طویل معاشی اور سیاسی جمود میں دھکیل دے گی ۔

جواب دیں

Back to top button