Column

تونے پوچھی ہے امامت کی حقیقت مجھ سے 

تو نے پوچھی ہے امامت کی حقیقت مجھ سے

تحریر: صفدر علی حیدری

اِمامت

تُو نے پُوچھی ہے امامت کی حقیقت مجھ سے

حق تجھے میری طرح صاحبِ اَسرار کرے

ہے وہی تیرے زمانے کا امامِ برحق

جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے

موت کے آئِنے میں تجھ کو دکھا کر رُخِ دوست

زندگی تیرے لیے اور بھی دُشوار کرے

دے کے احساسِ زیاں تیرا لہُو گرما دے

فقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے

فتنہ ملّتِ بیضا ہے امامت اُس کی

جو مسلماں کو سلاطیں کا پرستار کرے

جب تاریخ کے دریچوں پر گرد جم جاتی ہے تو الفاظ چراغ بنتے ہیں۔ اور جب قوموں کے دلوں میں تردد، خوف اور تفرقہ گھر کر جائے تو ایک سچا سوال دستک دیتا ہے: امامت کیا ہے؟ کیا یہ محض محراب و منبر کی وراثت ہے؟ کیا یہ فقط اقتدار کی سیڑھی ہے؟ یا یہ ایک ایسا باطنی انقلاب ہے جو فرد کی خودی سے شروع ہو کر امت کے اجتماعی شعور تک پھیل جاتا ہے؟

اسلام نے آغاز ہی سے ایک عالم گیر امت کا تصور پیش کیا، وہ امت جو زبان، نسل، مقام یا ثقافت کی قید سے آزاد ہو کر کلمہ توحید کے نام پر متحد تھی۔ قرآن نے انسان کو ایک باپ کی اولاد کہا، اور تقویٰ و انصاف کو برتری کا معیار قرار دیا۔ یہ محض عقیدے کا اعلان نہ تھا؛ یہ ایک تہذیبی معاہدہ تھا، انسانی وقار، علم، اخلاق اور قربانی کے بلند اصولوں کی حفاظت کا عہد۔

مگر آج ہم اپنے اندر کیا دیکھتے ہیں؟

فرقہ واریت کی سختیاں، علاقائی تعصب، سیاسی مفادات، اور عالمی طاقتوں کی مداخلت نے ہمیں تقسیم کے تاروں میں باندھ دیا ہے۔ ہم نے امت کو جماعتوں میں، جماعتوں کو دھڑوں میں، اور دھڑوں کو مفادات میں بانٹ دیا۔ یہ تحریر اسی کھوئی ہوئی حقیقت کی بازیافت کا سفر ہے، امامت، امت اور ہمارے عہد کے بحران کا فکری محاسبہ۔

حکیم الامت علامہ نے نظم، تو نے پوچھی ہے امامت کی حقیقت مجھ سے، میں امامت کو منصب نہیں، مزاج کہا؛ عہدہ نہیں، عہد کہا۔ ان کے نزدیک امام وہ ہے جو انسان کو سہل پسندی سے بیزار کرے، اسے زندہ حقیقت کا شعور دے، اور اس کے اندر فکری خودداری جگائے۔ امامت اگر صرف قواعد کی تکرار رہ جائے تو وہ روح سے خالی خول ہے؛ اگر وہ خوش نودیِ سلاطین کی سیڑھی بن جائے تو دین کی اصل روح سے بغاوت ہے۔

اقبالؒ کی نظر میں امام دلوں میں حقیقت پسندی اور خودی کی شمع روشن کرتا ہے۔ وہ قوم کو خواب بھی دیتا ہے اور تعبیر کی سمت بھی۔ وہ مصلحت کی دھند میں راستہ کھوجتا نہیں، راستہ بناتا ہے۔ اس کی قیادت اخلاقی جرات سے جنم لیتی ہے؛ وہ باطل کے سامنے سر نہیں جھکاتا، خواہ تنہا ہی کیوں نہ رہ جائے۔

اسلامی روایت میں اختلاف علم کی وسعت ہے، دشمنی نہیں۔ امام جعفر الصادقؒ، امام ابو حنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ، سب اپنے اپنے اجتہادی افق کے ساتھ آئے، مگر ان کے درمیان علمی احترام اور اخلاقی شائستگی مشترک تھی۔ اختلاف کو اقتدار کی سیڑھی بنانا ہماری کمزوری ہے؛ اسے فکری ارتقا کا ذریعہ بنانا ہماری قوت ہو سکتی ہے۔

بدقسمتی سے آج فرقے علمی مباحث کے بجائے سیاسی مفادات کے ٹولے بنتے جا رہے ہیں۔ قرآن کا عالمگیر مقصد، وحدت، انصاف، اخلاق، پسِ منظر میں چلا گیا ہے۔ نتیجہ یہ کہ ہم وہ امت نہیں رہے جس کے دلوں میں اخوت، فکر میں آزادی اور روح میں اتحاد تھا۔

دنیا ایک نازک سیاسی موڑ پر کھڑی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی کشمکش نے عالمی سفارت کاری، معیشت اور انسانی سلامتی کو ہلا دیا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان تنا میں امریکہ کی شمولیت نے صورتِ حال کو پیچیدہ بنایا ۔ خطے کے کئی ممالک سعودہ عرب عراق بحرین ، قطر عرب امارات بھی دبا اور اندیشوں کی زد میں ہیں۔ مذاکرات کی نازک ڈور کے ساتھ ساتھ عسکری کارروائیوں کی بازگشت نے عالمی توانائی منڈی اور تجارتی راستوں پر سایہ ڈالا ہے۔

یہ جنگ محض جغرافیے کی نہیں؛ یہ بیانیوں کی بھی جنگ ہے۔ مذہبی اصطلاحات سیاسی لغت میں منتقل ہو کر طاقت کے کھیل کا حصہ بن جاتی ہیں۔ جوہری اور دفاعی پروگراموں پر اختلافات نے سفارتی اعتماد کو مجروح کیا، اور امت کے اندرونی اختلافات نے بیرونی مداخلت کو آسان بنایا۔ جب ہم اندر سے کمزور ہوں تو باہر کی آندھیاں زیادہ تیز محسوس ہوتی ہیں۔

لیکن اگر ہم اس بحران کو صرف خارجی معرکہ سمجھیں تو بڑی غلطی ہوگی۔ اصل معرکہ ہماری داخلی حقیقت ہے: فرقہ واریت، علاقائی تعصب، اور سیاسی مصلحت، یہ سب مل کر ہمیں اپنی تقدیر کا معمار بننے سے روکتے ہیں۔ اقبال نے اسی اندیشے سے خبردار کیا تھا: بیداری اندر سے آتی ہے؛ امام پہلے دلوں کو فتح کرتا ہے، پھر زمانے کو۔

امت مسلمہ قیادت کے بحران کا شکار ہیں ۔ ایسے میں امامت ہی امت کے وسائل کا واحد حل ہے ۔

امامت کی پہلی شرط علم نہیں کردار ہے ، اور کردار کی جڑ خودی میں پیوست ہوتی ہے۔ خودی تکبر نہیں، ذمہ داری ہے۔ جب امام اپنے اندر احتساب کی آگ روشن رکھتا ہے تو اس کی قیادت شفاف رہتی ہے۔ وہ قوم کو یہ سکھاتا ہے کہ آزادی نظم کے بغیر انتشار ہے، اور اتحاد اخلاق کے بغیر محض ہجوم۔

ایک سچا امام اختلاف کو دشمنی میں نہیں بدلنے دیتا؛ وہ دلیل کو دروازہ بناتا ہے، دیوار نہیں۔ وہ نوجوانوں کو سوال کرنے کی جرات دیتا ہے، اور بزرگوں کو سننے کا حوصلہ۔ اس کی مجلس میں خوف نہیں، فہم پیدا ہوتا ہے۔

امت کا تصور محض اپنے لیے نہیں، سب کے لیے ہے۔ اگر ہم انصاف کو صرف اپنے مفاد تک محدود کر دیں تو ہم قرآن کے عالمگیر پیغام سے منحرف ہو جاتے ہیں۔ امامت کی حقیقت یہ ہے کہ وہ کمزور کے حق میں کھڑی ہو، خواہ وہ کسی بھی قوم یا مذہب سے ہو۔

عالمی سیاست کے بیچوں بیچ اگر کوئی آواز غیر جانب دار عدل کی بلند ہو تو وہی امامت کی آواز ہے۔ وہ جنگ کے شور میں امن کی منطق پیش کرتی ہے، وہ انتقام کے بیانیے کے مقابل معافی کی اخلاقیات رکھتی ہے؛ وہ طاقت کے غرور کے سامنے انسانیت کا آئینہ تھامتی ہے۔

ہمیں ایسی امامت درکار ہے جو مدارس اور جامعات، خانقاہ اور پارلیمان، محراب اور منڈی، سب کو ایک اخلاقی دھاگے میں پرو دے۔

علم کے ذریعے شعور کا اضافہ: روایت کی عزت کے ساتھ اجتہاد کی جرات۔

روحانیت و اخلاق: عبادت کو کردار میں ڈھالنا؛ ذکر کو خدمت میں بدلنا۔

بین الاقوامی انصاف: مفاد سے بلند ہو کر انسانیت کی حرمت کا دفاع۔

عالمگیر امت کا تصور: مسلک و قومیت سے اوپر اٹھ کر مشترک خیر کی تلاش۔

یہی وہ ستون ہیں جو امامت کو زندہ رکھتے ہیں۔ جب علم روشنی بنے، روحانیت گرمی دے، اور انصاف سمت، تو قومیں تاریخ کا دھارا موڑ دیتی ہیں۔

اگر امت اپنے اصل تصورِ وحدت کی طرف لوٹ آئے؛ اگر فرقہ واریت کی دیواریں گر جائیں اور سیاسی مفادات سے بلند ہو کر فکری و اخلاقی اتحاد قائم ہو جائے، تو اس کے ثمرات بے شمار ہوں گے۔ اتحاد دلوں میں اعتماد پیدا کرتا ہے؛ اعتماد سے تعاون جنم لیتا ہے؛ اور تعاون سے قوت۔

ایک متحد امت علم کا تبادلہ کرتی ہے، معیشت کو مضبوط بناتی ہے، دفاع کو مستحکم کرتی ہے، اور سب سے بڑھ کر اخلاقی وقار بحال کرتی ہے۔ یہی وہ طاقت ہے جو ظلم کے مقابل کھڑی ہو سکتی ہے؛ یہی وہ شعور ہے جو جنگ کے اندھیروں میں امن کی شمع روشن کر سکتا ہے۔

پس یاد رکھیے، اتحاد محض نعرہ نہیں، روحانی ذمہ داری ہے؛ اور امامت محض منصب نہیں، بیدار شعور کا نام ہے۔ جب دل جڑ جائیں تو سرحدیں کمزور پڑ جاتی ہیں؛ جب فکر متحد ہو جائے تو تاریخ کا دھارا بدل جاتا ہے۔

امامت وہ ہے جو انسان کو اپنے اندر سے بیدار کرے، جو اسے مصلحتوں کی زنجیر سے آزاد کرے، جو اس کے دل میں بھائی چارہ اور انسانیت زندہ کرے۔ یہی امامت کی کامل حقیقت ہے، اور یہی امت کی بقا کا راز۔

آج کے حالات میں اگر ایران خود کو سفارتی اور عسکری دبا کے بیچ نسبتاً تنہا محسوس کرتا ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ امت کے اندر وہی تفرقہ بازی ہے جس نے ہمارے مشترک ضمیر کو کمزور کیا۔ جب مفادات، مسالک اور علاقائی ترجیحات اصولوں پر غالب آ جائیں تو اجتماعی آواز بکھر جاتی ہے، نتیجتاً کسی ایک ملک کا بحران پورے عالمِ اسلام کا اخلاقی مسئلہ بننے کے بجائے جغرافیائی تنازع سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ تنہائی صرف ایران کی نہیں، یہ ہماری مشترکہ کمزوری کی علامت ہے، کہ ہم اختلاف کو دشمنی میں بدل دیتے ہیں اور اصولی یک جہتی کو وقتی سیاست پر قربان کر دیتے ہیں۔ اگر ہم اس صورتِ حال سے نکلنا چاہتے ہیں تو ہمیں بیانیاتی اور عملی دونوں سطحوں پر اتحاد کی طرف لوٹنا ہوگا: اختلاف کو علمی دائرے میں رکھتے ہوئے انصاف پر مشترک موقف، سفارت کاری میں ہم آہنگی، اور انسانی جان و وقار کے دفاع پر غیر مشروط اتفاق۔ اتحاد کا مطلب یکسانیت نہیں، بلکہ مقصد کی ہم آہنگی ہے، یہی ہم آہنگی ہمیں مضبوط کرے گی، ہمیں عالمی دبائو کے سامنے باوقار بنائے گی، اور بحرانوں کو تنہائی کے بجائے اجتماعی بصیرت سے سنبھالنے کی قوت عطا کرے گی۔

اقبالؒ ہی کے ایک شعر پر اپنی کا اختتام کرتے ہیں

ہے زندہ فقط وحدتِ افکار سے ملّت

وحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحاد

صفدر علی حیدری

جواب دیں

Back to top button