Column

،فریب طاقت اور خلیج کا بدلتا منظرنامہ 

فریب، طاقت اور خلیج کا بدلتا منظرنامہ

تحریر : محمد محسن اقبال

اردو میں ایک مشہور کہاوت ہے کہ چور چوری چھوڑ سکتا ہے مگر ہیر پھیر اور فریب کاری نہیں چھوڑتا۔ یہ پرانی کہاوت آج کی عالمی سیاست کے منظرنامے میں غیر معمولی طور پر صادق آتی محسوس ہوتی ہے۔ خلیج کے خطے میں اس وقت ایک خطرناک کشمکش جنم لے چکی ہے جس میں بظاہر امریکہ اور اسرائیل ایران کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی میں مصروف دکھائی دیتے ہیں، جبکہ اسی کے ساتھ خطے کے دیگر ممالک میں بالواسطہ دبا اور کشیدگی کو بھی بڑھایا جا رہا ہے۔ اس محاذ آرائی کا ظاہر اور پوشیدہ مقصد ایران کے سیاسی نظام کو کمزور کرنا یا بالآخر اسے زوال سے دوچار کرنا معلوم ہوتا ہے۔ تاہم مسلسل سیاسی، عسکری اور نفسیاتی دبا کے باوجود اب تک یہ مقصد حاصل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

اس کے برعکس اس بحران نے ایران کے اندر انتشار پیدا کرنے کے بجائے ایک مختلف نتیجہ پیدا کیا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت نے ایرانی معاشرے میں جذباتی اور سیاسی اتحاد کی ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے۔ خطے میں گردش کرنے والی اطلاعات کے مطابق انہیں سکیورٹی مشیروں کی جانب سے مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے کسی مضبوط بنکر میں منتقل ہو جائیں۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اس مشورے کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ وہ آزمائش کی اس گھڑی میں اپنی قوم کو چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتے۔ اس واقعے کو خواہ علامت سمجھا جائے یا قربانی، اس نے ایران کے اندر قومی یکجہتی کے جذبے کو مضبوط کیا ہے اور ان کے مخالفین کی حکمتِ عملی کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

جب متوقع سیاسی انہدام رونما نہ ہو سکا تو کشیدگی کا دائرہ دوسرے رخ اختیار کرنے لگا۔ حالیہ ہفتوں میں آذربائیجان، سعودی عرب، ترکی اور مشرقِ وسطیٰ و خلیج کے دیگر ممالک میں میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ابتدائی الزامات فوری طور پر ایران کی طرف اشارہ کرتے تھے، جس کے نتیجے میں ہمسایہ ریاستوں کے درمیان بدگمانی اور تشویش کی فضا پیدا ہو گئی۔ اگر ایسے الزامات کو بغیر تحقیق کے تسلیم کر لیا جائے تو وہ خطے کی طاقتوں کو ایران کے خلاف ایک وسیع عسکری اتحاد میں دھکیل سکتے ہیں، جس سے محدود کشیدگی ایک بڑے جنگی تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

تاہم ڈیجیٹل نگرانی، سیٹلائٹ انٹیلی جنس اور جدید مواصلاتی ٹیکنالوجی کے اس دور میں یہ بیانیہ آہستہ آہستہ کھلنے لگا ہے۔ مختلف تکنیکی ذرائع سے ہونے والی تحقیقات نی یہ اشارے دیے ہیں کہ ممکن ہے ایران ان حملوں کا ذمہ دار نہ ہو۔ ابھرنے والی بعض اطلاعات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ شاید شواہد کو من گھڑت انداز میں پیش کرنے اور خطے کی رائے عامہ کو متاثر کرنے کی ایک منظم کوشش کی گئی ہو۔ اگر یہ شواہد درست ثابت ہوتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ حملے ایران کی جوابی کارروائی نہیں بلکہ ایک ایسی حکمتِ عملی کا حصہ تھے جس کا مقصد ہمسایہ ممالک کو اس جنگ میں دھکیلنا تھا۔

جغرافیائی سیاست کے سائے میں تاریخ اکثر خود کو دہراتی ہے، کبھی طنز کے طور پر نہیں بلکہ ایک خوفناک منظرنامے کی صورت میں جس میں کردار بدل جاتے ہیں مگر محرکات وہی رہتے ہیں۔ تقریباً چھ دہائیاں قبل پیش آنے والا ایک تاریخی واقعہ اس صورتِ حال سے حیران کن مماثلت رکھتا ہے۔ 8جون 1967ء کو عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان چھ روزہ جنگ کے دوران امریکی بحریہ کا انٹیلی جنس جہاز یو ایس ایس لبرٹی جزیرہ نما سینائی کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں موجود تھا۔ یہ جہاز واضح طور پر نشان زد تھا اور جنگی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہو رہا تھا، لیکن اچانک اسرائیلی لڑاکا طیاروں اور ٹارپیڈو کشتیوں نے اس پر شدید حملہ کر دیا۔

یہ حملہ ایک گھنٹے سے زائد جاری رہا۔ جب یہ ختم ہوا تو چونتیس امریکی فوجی ہلاک اور ایک سو اکہتر زخمی ہو چکے تھے۔ جہاز پر واضح طور پر لہراتا ہوا امریکی پرچم موجود تھا اور بار بار شناختی سگنل بھی بھیجے گئے، اس کے باوجود حملہ غیر معمولی درستی کے ساتھ جاری رہا۔ جہاز کا بچ جانا بڑی حد تک اس کے کپتان کمانڈر ولیم ایل میک گوناگل کی غیر معمولی جرات کا نتیجہ تھا۔ حملے کے ابتدائی مرحلے میں شدید زخمی ہونے کے باوجود وہ جہاز پر اپنے مقام پر ڈٹے رہے اور جہاز کے عملے کو ہدایات دیتے رہے جبکہ تباہ حال جہاز سمندر میں ڈوبنے سے بچنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ان کی قیادت نے بالآخر جہاز کو غرق ہونے سے بچا لیا۔بعد ازاں کمانڈر میک گوناگل کو امریکہ کے سب سے بڑے عسکری اعزاز میڈل آف آنر سے نوازا گیا۔ تاہم یہ تقریب وائٹ ہاس کے بجائے واشنگٹن نیوی یارڈ میں خاموشی سے منعقد کی گئی، جسے وسیع پیمانے پر اس کوشش کے طور پر دیکھا گیا کہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تنائو کو کم رکھا جائے اور عوامی سطح پر بحث کو محدود کیا جائے۔ حملے سے بچ جانے والے افراد مسلسل یہ موقف اختیار کرتے رہے کہ یہ کارروائی دانستہ تھی۔ پیٹی آفیسر ارنی گیلو نے کہا تھا کہ جہاز کی شناخت بالکل واضح تھی، جبکہ ایک اور زندہ بچ جانے والے جو میڈرز نے اس واقعے کو’’ سرد خون میں قتل‘‘ قرار دیا۔ کئی دہائیوں سے یہ آوازیں سرکاری موقف کو چیلنج کرتی آ رہی ہیں جس میں اس حملے کو محض ایک المناک غلطی قرار دیا گیا تھا۔

یو ایس ایس لبرٹی کے اس واقعے اور 2026ء میں سامنے آنے والی موجودہ صورتحال کے درمیان مماثلتیں نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ دونوں مواقع پر ایک ابتدائی پرتشدد واقعہ نے عوامی رائے کو متاثر کرنے اور وسیع تر اسٹریٹجک مقاصد کے لیے فضا ہموار کرنے کا کام کیا۔ 1967ء میں اس حملے نے ایک ایسے ممکنہ گواہ کو خاموش کر دیا جو جنگ کے بعض پہلوں کو بے نقاب کر سکتا تھا اور اس کے نتیجے میں امریکہ کے براہِ راست عربوں کے خلاف اس جنگ میں شامل ہونے اور ان سے ٹکرائو کا خطرہ بھی پیدا ہو گیا تھا۔ موجودہ بحران میں ایران پر عائد کیے گئے حملوں کے الزامات بظاہر ہمسایہ ممالک کو تہران کے خلاف متحرک کرنے اور جنگ کے دائرے کو وسیع کرنے کی کوشش معلوم ہوتے ہیں۔

دوسری مماثلت اطلاعات کے استعمال میں نظر آتی ہے۔ لبرٹی کے واقعے میں’’ غلط شناخت‘‘ کا موقف اس وقت بھی برقرار رکھا گیا جب اس کے برعکس شواہد موجود تھے۔ موجودہ صورتحال میں بھی ایران پر میزائل اور ڈرون حملوں کا الزام لگانے والا بیانیہ جدید تکنیکی اور تحقیقی جائزوں کے باعث سوالات کی زد میں آ رہا ہے۔ جب معلومات حقیقت کی عکاسی کے بجائے حکمتِ عملی کا ہتھیار بن جائیں تو دفاع اور فریب کے درمیان حدیں خطرناک حد تک دھندلا جاتی ہیں۔

تیسری مماثلت اس خاموشی میں پوشیدہ ہے جو اکثر ایسے واقعات کے بعد چھا جاتی ہے۔ حکومتیں اکثر غیر آرام دہ حقائق کو سفارتی مصلحتوں کے تابع کر دیتی ہیں جبکہ میڈیا کے بیانیے بھی اسٹریٹجک اتحادوں اور سیاسی مفادات کے تحت تشکیل پاتے ہیں۔ لبرٹی کے واقعے میں متاثرین کی جانب سے انصاف کی جدوجہد وقت کے ساتھ پس منظر میں چلی گئی کیونکہ مختلف امریکی حکومتیں اس معاملے کو دوبارہ کھولنے سے گریزاں رہیں۔ اسی طرح آج بھی عالمی ادارے ایسے طاقتور بیانیوں کو چیلنج کرنے سے ہچکچاتے دکھائی دیتے ہیں جو موجودہ جغرافیائی سیاسی شراکت داریوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔

لیکن تاریخ محض واقعات کا ریکارڈ نہیں بلکہ تنبیہ بھی ہے۔ مصنوعی طور پر پیدا کیے گئے بحران اکثر اپنی حدود میں محدود نہیں رہتے۔ لبرٹی کا واقعہ امریکی فوجیوں اور ان کی سیاسی قیادت کے درمیان اعتماد پر ایک گہرا داغ چھوڑ گیا تھا۔ آج ترکی، آذربائیجان، سعودی عرب اور دیگر ممالک میں مبینہ طور پر ترتیب دئیے گئے حملوں کے الزامات پہلے ہی ایک ایسے تنا کو جنم دے چکے ہیں جو پورے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

جب سچائی اسٹریٹجک فریب کا پہلا شکار بن جائے تو اس کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتے۔ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اور درحقیقت پوری عالمی برادری کو موجودہ بحران کا سامنا انتہائی احتیاط، شفافیت اور آزادانہ تحقیقات کے اصولوں کے ساتھ کرنا ہوگا۔ بصورتِ دیگر دنیا ایک مرتبہ پھر اس المناک سلسلے کو دہراتی دیکھ سکتی ہے جس میں بدگمانی تصادم کو جنم دیتی ہے، تصادم جنگ میں بدل جاتا ہے، اور تاریخ کے اسباق اس وقت سیکھے جاتے ہیں جب نقصان ناقابلِ تلافی ہو چکا ہوتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button