ایرانی کامیاب سفارتکاری

ایرانی کامیاب سفارتکاری
تحریر : محمد مبشر انوار(ریاض)
مشرق وسطیٰ کے حالات دن بدن گھمبیر ہورہے ہیں تو دوسری طرف اس امر کا امکان مسلسل بڑھ رہا ہے کہ خطے کے حالات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے اور دنیا تیسری عالمی جنگ کا شکار ہو جائیگی۔ بظاہر ایسا ہی لگتا ہے اور امریکہ و اسرائیل کے اقدامات اس جانب واضح طور پر اشارہ بھی کر رہے ہیں کہ وہ تیسری عالمی جنگ کی راہ بادل نخواستہ ایسے ہموار کر رہے ہیں جیسے اس میں وہ مکمل طور پر بے قصور ہیں لیکن پس پردہ جو کچھ بھی ہورہا ہے یا کیا جارہاہے وہ اس امر کی تصدیق بخوبی کر رہا ہے کہ اگر عالمی جنگ چھڑتی ہے تو اسرائیل کے ساتھ ساتھ امریکہ بھی اتنا ہی قصوروار ٹھہرایا جائیگاجتنا قصور اسرائیل کا ہو گا۔ اسرائیل کی جانب سے 2023ء میں پیش کئے جانے والے ہنی ٹریپ کے بعد،غزہ پر ڈھائی جانے والی مصیبتیں کسی بھی صورت تھمنے کا نام نہیں لے رہی بلکہ غزہ کے شہریوں کی زندگی ہر گزرتے دن کے ساتھ اجیرن ہوتی جارہی ہے اور اب تو ظلم کی یہ داستان غزہ سے نکل کر پڑوس کے ممالک تک پھیل رہی ہے ،شام و لبنان تو اسر ائیل کے ایسے پڑوسی ہیں،جن پر اسرائیل کی گرفت کسی بھی وقت ممکن ہے لیکن ان دو ریاستوں سے ہٹ کر ،اسرائیل نے جو پنجہ آزمائی ایران کے ساتھ کررکھی ہے،درحقیقت اس سے عالمی جنگ چھڑ جانے کے امکانات سب سے زیادہ بڑھ رہے ہیںکہ اسرائیل ،امریکی شہ اور تعاون سے شتر بے مہار کی مانند ،ایران پر حملہ آور ہے بعینہ ویسے ہی جیسے غزہ میں کسی جنگی قانون کی اسرائیل کو کوئی پرواہ نہیں تھی،بالکل ویسے ہی ایران میں بھی اسرائیلی حملوں میں وہی مماثلت دکھائی دے رہی ہے۔ نہتے شہریوں پر بمباری کرنا ہو یا سکولوں کے طلباء پر بارود برسانا ہو،کسی ہسپتال یا عبادت گاہ کو کوئی استثنیٰ حاصل نہیں ،بس اسرائیلی درندگی کو تسکین ملنی چاہئے ،جو بے گناہوں کے خون سے ہی ،مسلم نسل کشی سے ہی انہیں حاصل ہوتی ہے۔ گذشتہ برس کی جھڑپ میں بھی اسرائیل کی یہی کوشش تھی کہ ایران کی صف اول کی قیادت کو راستے سے ہٹایا جائے، جو اسرائیل نے ایران میں موجود اپنے جاسوسوں کی مدد سے بخوبی کی تو اس مرتبہ بھی اسرائیل اپنے ان مقاصد میں تاحال بخوبی کامیاب دکھائی دے رہا ہے۔ اس مرتبہ ایران پر باقاعدہ حملوں کے آغاز میں بھی اسرائیل و امریکی ہدف میں ایران کی صف اول کی قیادت ہی نشانہ تھی اور اطلاعات کے مطابق اس مرتبہ بھی ایران کے اندر موجود جاسوسوں نے غداری کرتے ہوئے،ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نشاندہی کی،جس سے نہ صرف ایران کے سپریم لیڈر بلکہ ان کے ہمراہ دیگر اہم اکابرین بھی رتبہ شہادت سے سرفراز ہو کر اپنے رب کے حضور پہنچ چکے ہیں۔ البتہ ایران کی جانب سے تادم تحریر ان شہداء کو سپرد خاک نہیں کیا گیا کہ ایران میں اس امر کا شدید ترین خدشہ موجود ہے کہ جس کم ظرف دشمن سے ان کاواسطہ ہے،وہ دوران تدفین بھی کسی گھٹیا حرکت ؍ قدم کا ارتکاب کرسکتے ہیں اور ایران سپریم لیڈر کی میت کی بے حرمتی کسی بھی صورت نہیں چاہتا،اس لئے تدفین کے عمل کو فی الوقت مؤخر رکھا گیا ہے۔ تاہم ایرانی سپریم لیڈر کو اپنے کم ظرف دشمن سے ایسی کم ظرفی کی توقع تھی اس لئے انہوں نے باقاعدہ جنگ شروع ہونے سے قبل ہی ،اپنی پوری قیادت کو اپنے متبادل نامزد کرنے کی ہدایات جاری کر دی تھی اور اس وقت تک ایک مربوط نظام قائم ہے اور ہر ذمہ دار کے متبادل کے طور پر چار چار جانشین مقرر ہو چکے ہیں،اس طرح قیادت کا فقدان کسی بھی لمحے محسوس نہیں ہوتا ماسوائے اس وقت تک کے لئے کہ جب تک باقاعدہ طور پر ذمہ دار کا تعین نہ ہوجائے جبکہ اس درمیانی وقت میں عبوری تعیناتی موجود ہوتی ہے۔امریکہ و اسرائیل کی جانب سے واضح طور پر یہ کہہ دیا گیا ہے کہ امریکہ کو ایران میں ،صرف امریکی پسندیدہ قیادت ہی قابل قبول ہو گی ،اور دنیا کو علم ہے کہ امریکہ نے کس قیادت کو ایران کے لئے پسند و منتخب کررکھا ہے، ایک ایسی قیادت ،جس کی ایران میں کوئی عوامی جڑیں ہی نہیں بلکہ عوام اس قیادت کو بالکل پسند نہیں کرتی۔ ایسی قیادت کوکسی ملک میں مسلط کرنا بذات خود امریکی جمہوری پالیسی کے خلاف ہے لیکن اس کے باوجود اس وقت یا آج کے حالات میں امریکہ کو اس کی رتی برابر پرواہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی سینٹ اور کانگریس نے جنگ سے متعلق کانگریس کی اجازت حاصل کرنے کی قرارداد ،مسترد کر دی ہے اور صدر کے اختیارات وصوابدید کو تسلیم کیا ہے اور صدر کے اقدامات کی توثیق کر دی ہے گو کہ امریکن سینیٹر ز کی جانب سے یہ کہا گیا ہے کہ امریکہ اس جنگ میں بغیر کسی جواز ،حکمت عملی اور مقاصد کے اترا ہے۔ کہ امریکہ ،اس غیر قانونی وغیر آئینی جنگ میں، ہر گھنٹہ کے بعد اپنا جواز بدل رہا ہے،یہ جنگ امریکہ کی اپنی جنگ بھی نہیں بلکہ اسرائیل کی جنگ امریکہ لڑ رہا ہے،جس کی کوئی ضرورت بظاہر نظر نہیں آتی تاہم پس پردہ جیفری ایپسٹین کی فائلز ،امریکی انتظامیہ کے بازو مروڑتی نظر آرہی ہیں۔
ایران کی جانب سے ،مذاکرات کے دور کے دوران ،لچک دکھائی گئی تھی اور ایران اس جنگ سے بجنا چاہتا تھا لیکن اسرائیل نے ایران کی ایک نہیں چلنے دی،اور امریکہ کو مجبور کر دیا کہ ایران کو اس جنگ میں گھسیٹ لے۔ تب تک یہ دکھائی دیتا تھا کہ روس و چین ممکنہ طور پر اس جنگ سے دور رہیں گے لیکن حالات و واقعات اس امر کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ ابھی تک روس و چین براہ راست اس جنگ کا حصہ نہیں بنے لیکن چونکہ ایران کے ساتھ ان دونوں ممالک کے سٹریٹجک معاہدے موجود ہیں،لہذا یہ دونوں ممالک کسی بھی طور ایران کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے،اور پس پردہ ایرانی مزاحمت میں بہرطور ان ممالک کا اثر دکھائی دے رہا ہے۔ گو کہ امریکہ نے بڑے شاطرانہ انداز سے ایران کو گھیرے میں لیا تھا اور اس کی ناکہ بندی بھی کی تھی لیکن ابھی تک ایران کے گھٹنے نہیں ٹیکوا سکا بلکہ اس وقت تک کی جنگی صورتحال ایسی ہے کہ اسرائیل میں ایرانی ڈرونز اور میزائلوں نے تباہی پھیلائی ہے تو دوسری طرف ایرانی ہتھیاروں نے امریکی بحری طیارہ بردار جہاز کو بھی پیچھے دھکیل دیا ہے،جو بظاہر ایک جنگی حکمت عمل بھی ہو سکتی ہے لیکن اس سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ امریکی طاقت اتنی بھی بھرپور نہیں کہ کوئی ملک اس کے سامنے کھڑا نہ ہو سکے۔اس وقت بہرحال ایران کسی بھی صورت مذاکرات کی جانب جاتا دکھائی نہیں دیتا بلکہ اس کے برعکس ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا ہے کہ ایران امریکی زمین فوج کا منتظر ہے کہ وہ کب ایران میں داخل ہوتی ہے کہ اب تک امریکہ ایران کے 174شہروں کے 634مقامات پر 5ہزار ٹن سے زائد بارود برسا چکا ہے۔اس بمباری کے نتیجہ میں ایران کے بارہ سو سے زائد شہری شہادت سے سرفراز ہو چکے ہیں،لیکن ایران کسی معاہدے کی بجائے اب فیصلہ میدان میں کرنا چاہتا ہے حالانکہ سینٹ کام کے کمانڈر کی جانب سے یہ کہا گیا ہے کہ ایران کی نیوی کو نیست و نابود کیا جا چکا ہے اور اگلے مرحلے میں ایرانی میزائل پیداواری صلاحیت کو ختم کیا جائے گا جبکہ ان سات دنوں میں ایرانی میزائل حملوں میں 90%جبکہ ڈرون حملوں میں 83%کمی ہو چکی ہے۔ دوسری طرف ایران کا دعوی ہے کہ ایران نے ابھی تک اپنے پرانے ہتھیار ہی استعمال کئے ہیں جبکہ جدید اور خطرناک ہتھیار ابھی تک استعمال نہیں کئے اور جب ایران اپنے جدید ہتھیاراستعمال کرے گا تو دنیا ششدر رہ جائے گی،یہ دعویٰ بہرطور فریقین کی طرف سے ہے اور ایسے دعوے کے بعد کسی بہتری کا امکان دکھائی نہیں دیتا۔
ان سات دنوں کی جنگ میں سچ کا قتل یقین اور لازمی تھا اور ہوا بھی ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان بہرطور چند دیگر مسلم ریاستیں بھی موجود ہیں اور اس جنگ کو روکنے کے لئے ان ریاستوں کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ ان کی بری و بحری و فضائی حدود استعمال نہ کی جائے اور نہ وہ اس کی اجازت دیں گے۔ اس کا اعادہ آج پھر سعودی عرب کی جانب سے کیا گیا ہے اور ایرانی سفیر نے اس پر سعودی حکومت کا شکریہ بھی ادا کیا لیکن اس کے باوجود ،صیہونی دماغ سازشوں کی آماجگاہ ہے اور ان صیہونیوں نے ،ہر ممکن کوشش کی ہے کہ کسی طرح ان عرب ممالک کو ایران کے خلاف کسی بھی حیلے بہانے سے کھڑا کیا جائے،خواہ اس کی بنیاد مسلک ہو یا کسی اور بہانے یا طریقے سے غلط فہمیاں پیدا کی جائیں لیکن ابھی تک اس میں کامیاب نہیں ہو سکاگو کہ اس دوران اسرائیل کی جانب سے ان ممالک میں فالس فلیگ آپریشن بھی کئے گئے ہیںلیکن ایران اور ان ان ممالک کے درمیان کسی قسم کی غلط فہمی پیدا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس دوران ایران نے ان دوست؍ برادر ممالک کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران عالمی قوانین کے مطابق، جارح فریق کے کسی بھی ملک میں اثاثوں پر حملہ کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے لہذا ایسے کسی اقدام کو دوست ملک اپنی خودمختاری پر حملہ مت تصور کریںاور ابھی تک ایران کی جانب سے انتہائی ہوشمندی،عقلمندی و دانشمندی سے اپنے مخالف کے اثاثوں پر حملے کئے گئے ہیں کہ دوست ممالک کی خودمختاری کسی بھی صورت متاثر ہوتی نظر نہ آئے اور دوست ممالک کی جانب سے بھی انتہائی تحمل و برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیلی و امریکی فالس فلیگ آپریشن پر کسی بھی قسم کا ردعمل دینے سے گریز کیا گیا ہے،یہ ایران کی کامیاب سفارتکاری ہی کا نتیجہ ہے۔






