
ایران پر ہونے والے امریکی و اسرائیلی مشترکہ حملے میں رہبرِ اعلیٰ آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد نئے رہبرِ اعلیٰ کے انتخاب کا معاملہ ان دنوں زیرِ غور ہے۔
ایک جانب پاسبانِ انقلاب کے حمایت یافتہ شہید آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کا نام سامنے آیا ہے تاہم ان کے انتخاب پر مجلسِ خبرگانِ رہبری کو تحفظات ہیں کیونکہ یہ موروثی جانشینی کو ناپسند کرتی ہے، ایسے میں سابق صدر حسن روحانی کا نام دوبارہ زیرِ بحث ہے۔
حسن روحانی کون ہیں؟
2013ء سے 2021ء تک ایران کے صدر رہنے والے حسن روحانی ایک مذہبی رہنما اور قانون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھنے والے سیاست دان ہیں
انہوں نے طویل عرصے تک پارلیمنٹ کے رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، قومی سلامتی کے نظام کا حصہ رہے اور جوہری مذاکرات میں مرکزی کردار بھی رہے۔
2013ء میں وہ ایک معتدل اور عملی سیاست دان کے طور پر ابھرے، جنہوں نے سفارت کاری کے ذریعے اقتصادی ریلیف دینے کا وعدہ کیا تھا۔
پارلیمنٹ سے اقتدار تک کا سفر
حسن روحانی 1948ء میں ایران کے صوبے سمنان کے شہر سرخہ میں پیدا ہوئے، انہوں نے حوزہ کے مذہبی تعلیمی نظام میں تعلیم حاصل کی، بعد ازاں تہران یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور 1999ء میں گلاسگو کیلیڈونین یونیورسٹی سے قانون میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
ایرانی انقلاب کے بعد انہوں نے اپنی سیاسی زندگی بطور رکنِ پارلیمنٹ شروع کی، 1980ء سے 2000ء کے درمیان وہ مسلسل 5 مرتبہ مجلسِ ایران کے رکن منتخب ہوئے، جس سے انہیں عملی سیاست کا وسیع تجربہ اور اشرافیہ کے اندر مضبوط روابط حاصل ہوئے۔
اسی پسِ منظر کی وجہ سے انہیں اکثر اتفاقِ رائے پیدا کرنے والے رہنما کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو نظام کے اندر رہ کر کام کرتے ہیں نہ کہ اس کے خلاف۔
انقلاب کے بعد سیاست میں تیسرا راستہ
ایران کی بعد از انقلاب سیاست میں مختلف نظریاتی رجحانات سامنے آئے، جن میں اسلامی بائیں بازو، اسلامی لبرل ازم اور سابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی کے دور میں معاشی اصلاحات شامل تھیں، اس کے بعد محمد خاتمی کے دور میں ایران اور سول سوسائٹی کے تصورات ابھرے، جبکہ محمود احمدی نژاد کے دور میں عوامی اور سماجی انصاف پر مبنی بیانیہ غالب رہا۔
اسی ماحول میں حسن روحانی نے اعتدال پسندی کا نعرہ پیش کیا، اس نظریے کے تحت انہوں نے ریاست کے دو بنیادی ستونوں، جمہوری (حکمرانی اور عملی سیاست) اور اسلامی (مذہبی اقتدار اور انقلابی شناخت) کے درمیان توازن قائم کرنے کی بات کی







