
وفاقی حکومت نے آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے توانائی بحران کے خدشے کے پیشِ نظر پٹرولیم مصنوعات اور آر ایل این جی کی طلب کم کرنے کے لیے توانائی بچت کے ایک مرحلہ وار منصوبے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ اس منصوبے کے تحت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اب ہر ہفتے ردوبدل کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق حکومتی اجلاسوں کو ورچوئل طریقے سے منعقد کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے جبکہ پہلے مرحلے میں کووڈ 19 کے دوران اپنائے گئے ماڈل کی طرز پر سرکاری تعطیلات میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ حکومت نے اس سلسلے میں تین مرحلوں پر مشتمل حکمت عملی تیار کی ہے جس میں تقریباً تین سے چار درجن تجاویز شامل ہیں۔ یہ تجاویز آج جمعہ کو وزیر اعظم شہباز شریف کو منظوری کے لیے پیش کی جائیں گی اور منظوری کے بعد فوری عملدرآمد شروع کیا جائے گا۔
اعلیٰ سرکاری ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں توانائی بچت کے اقدامات سرکاری اداروں میں نافذ کیے جائیں گے، جبکہ دوسرے مرحلے میں نجی اسکولوں، جامعات اور اسپتالوں میں آن لائن اسائنمنٹس اور ڈیجیٹل نظام کو فروغ دینے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ توانائی کے استعمال میں کمی لائی جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ ہفتہ وار بنیادوں پر لیا جائے گا۔
وزارت خزانہ کے مطابق خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں پٹرول کی قیمتوں کی نگرانی کے لیے قائم وزیر اعظم کی کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی صدارت میں فنانس ڈویژن میں منعقد ہوا، جس میں توانائی کی بچت اور قیمتوں کے نئے نظام سے متعلق مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔







