Column

تیسری عالمی جنگ کا خطرہ

تیسری عالمی جنگ کا خطرہ
شاہد ندیم احمد
امریکا اور اسرائیل ایک جانب بے بنیاد الزامات کے تحت ایران پر حملہ کیا تو دوسری جانب روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کر دیا ،ایرانی فوج اور پاسدارانِ انقلاب اپنے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کا بدلہ لینے کے لیے پر عزم ہیں، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ خامنہ ای کا قتل مذہبی جرم ہے ،اس کے انتہائی سنگین نتائج ہوں گے، امریکا نے مذاکرات کے بیچ ایران پر حملہ کرکے سفارت کاری کو دھوکا دیا ،اس کی قیمت کچھ بھی ہو، دشمن کو اندازے لگانے کی غلطی پر پچھتانا ہوگا، اِدھر روس اور چین نے بھی کھل کر ایران پر حملے کی مذمت کی ہے اور باور کرویا ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں حکومت بدلنے کی کوشش کا پاگل پن والا راستہ ترک نہ کیا تو یقینی طور پر تیسری عالمی جنگ شروع ہو جائے گی۔
اگر دیکھا جائے تواس وقت پوری دنیا کو ایک ایسے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے کہ جہاں ایک چھوٹی سی چنگاری بھی پورے خطے کو خاکستر کر سکتی ہے، اس سنگین حالات میں دیگر اہم ممالک کے ساتھ پاکستان کی سفارتی ذمہ داریوں میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے، گزشتہ روز نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا قومی اسمبلی میں بیان کہ پاکستان بیک ڈور میں رہ کر معاملہ سلجھانے کی کوشش کر رہا ہے، پاکستان کی سفارتی کوششوں کا غماز ہے، وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پچھلے تین دنوں میں پاکستان کئی ممالک سے رابطہ کر چکا ہے، پا کستان کی کوشش جا رہی ہے کہ ڈائیلاگ کے ذریعے افہام وتفہیم سے معاملے کا حل نکل آئے،لیکن اس کیلئے ایک مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستانی قیادت جہاں مسلم ممالک کو ایک مشترکہ لائحہ عمل بنا نے پر زور دیے رہی ہے ، وہیںعالمی برادری کو باور کرارہی ہے کہ طاقت کا استعمال مسائل کا حل نہیں ،بلکہ نئے مسائل کا پیش خیمہ ثابت ہو گاہے ،اگر خطے کے ممالک ایک پیج پر نہ آئے تو بیرونی مداخلت کے باعث ہونے والی تباہی کا نقصان سب کو ہی یکساں طور پر اٹھانا پڑے گا، اگر ہم ماضی قریب پر نظر ڈالیں تو گزشتہ سال جون میں واشنگٹن اور تہران میں ایک پُل کا کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان نے جنگ بندی میں موثر کردار ادا کیا تھا،آج کی صورت حال میں پاکستان کو ایک نیا سفارتی امتحان درپیش ہے، لہٰذا کامیاب سفارتی پالیسیوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ،کیو نکہ جنگ کسی ایک ملک کی سرحدوں تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اس کے معاشی، سماجی اور ماحولیاتی اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں، اگرمشرقِ وسطیٰ میں فوری جنگ بندی عمل میں نہ آئی تو اس کا براہِ راست زیادہ اثر ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں پر پڑے گا۔
پاکستان پہلے سے ہی معاشی چیلنجز سے نبرد آزما ہے، اس کیلئے معاملہ زیادہ سنگین ہی، پاکستان کی کُل افرادی قوت کا بڑا حصہ خلیجی ممالک میں موجود ہے ،چالیس لاکھ سے زائد پاکستانی عرب ممالک میں مقیم ہیں ،جبکہ 33 ہزار سے زائد جنگ زدہ ایران میں پھنسے ہوئے ہیں، سمندر پار پاکستانی ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں، جو ترسیلاتِ زر سے ملکی معیشت میں بھی کلیدی حصہ ڈال رہے توان کا تحفظ اولین ترجیح ہونا چاہیے،پا کستانی وزارت خارجہ اپنے تائیں بہت کائوشیں کررہی ہے،لیکن اس کے ساتھ سفارتی کوششوں کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے اور پس پردہ کوششوں کے ساتھ فعال اعلانیہ سفارتکاری بھی حالات کا ناگزیر تقاضا ہے، پوری مسلم ورلڈ کی نظریں پاکستان اور ترکیہ جیسے بڑے مسلم ممالک پر ٹکی ہیں، کیا پا کستان اور ترکیہ جنگ بند کرانے میں کا میاب ہو پائیں گے؟
اس بات کی تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں شروع کرنا آسان ہوتا ہے، لیکن اس کے خاتمے کا اختیار کسی ایک فریق کے پاس رہتاہے نہ ہی کوئی دوسرا بند کراسکتا ہے،اس لیے طاقتور ممالک اور متحارب حریفوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ افہام وتفہیم ہی ہر مسئلے کا حل ہے ،طاقت اور بارود سے دیرپا امن قائم ہو سکتا ہے نہ ہی اپنے اہداف حاصل کیے جاسکتے ہیں ،مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر کیے جانے والے فیصلے میدانِ جنگ میں کیے گئی فیصلوں سے کہیں زیادہ پائیدار ہوتے ہیں، امریکی صدر نے اسرائیل کی محبت میں پورے مشرقِ وسطیٰ کو جنگ کی آگ میں دھکیل دیا ہے، اگر حالات کی نزاکت کا ادراک کرتے ہوئے امریکا نے فوری جنگ بندی کا اعلان نہیں کیا اور مذاکرات کی جانب نہ آیا تو پورا خطہ لامتناہی اور ہمہ گیر جنگ کی لپیٹ میں آجائے گا اوراس آگ کی لپیٹ سے دامن بچانا امریکا کے بس میں بھی نہیں رہے گا۔

جواب دیں

Back to top button