تزویراتی نابینائی کا مظاہرہ

تزویراتی نابینائی کا مظاہرہ
قادر خان یوسف زئی
مشرق وسطیٰ کی ریت پر لکھی گئی تاریخ میں اٹھائیس فروری2026ء کا دن ایک ایسے ہولناک زلزلے کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے خطے کے جغرافیائی، سیاسی اور عسکری ڈھانچے کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔ تزویراتی و عسکری تجزیے کی عینک سے دیکھیں تو ہمیں جذباتیت کے دبیز پردوں کے پیچھے چھپی وہ تلخ حقیقتیں نظر آتی ہیں جن کا سامنا کرنے سے گریز کیا جاتا رہا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فوجی آپریشن، جسے بالترتیب ’’ آپریشن ایپک فیوری‘‘ اور ’’ آپریشن رورنگ لائن‘‘ کا نام دیا گیا، نے ایران کی اعلیٰ ترین قیادت کو نشانہ بنایا۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور پاسداران انقلاب کے درجنوں اعلیٰ کمانڈروں کی شہادت محض ایک فوجی کارروائی نہیں تھی، بلکہ یہ اس حقیقت کا عریاں اعلان تھا کہ ایران کی ’’ فارورڈ ڈیفنس‘‘ اور اسیمٹرک ڈیٹرنس کی پالیسی اپنے ہی بوجھ تلے دب کر زمین بوس ہو چکی ہے۔ اس تباہ کن حملے کے فوراً بعد بقیہ ایرانی مقتدرہ نے تزویراتی نابینائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خلیجی ممالک، بالخصوص متحدہ عرب امارات، قطر، عمان اور سعودی عرب پر میزائلوں اور ڈرونز کی بارش کی، اس نے ایک نہایت بنیادی اور چبھتا ہوا سوال جنم دیا ہے، کہ کیا یہ ایران کی کوئی سوچی سمجھی دفاعی ضرورت تھی یا ایک ایسی ہولناک اور خود کش سٹریٹجک غلطی جس نے تہران کو عالمی برادری میں مکمل طور پر تنہا کر دیا؟
اس سوال کا شافی جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں سب سے پہلے ایران کی عسکری اور میزائل صلاحیتوں کے سراب سے باہر نکلنا ہوگا۔ برسوں سے یہ بیانیہ فروخت کیا جا رہا تھا، اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھی یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ ایران کے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (ICBM)بہت جلد امریکی سرزمین کو نشانہ بنانے کے قابل ہو جائیں گے۔ لیکن امریکی انٹیلی جنس اداروں، خاص طور پر ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی (DIA)کی2025ء کی غیر کلاسیفائیڈ رپورٹ نے واضح کر دیا تھا کہ ایران کے پاس فی الحال ایسی کوئی ٹیکنالوجی موجود نہیں جو امریکی سرزمین کو نشانہ بنا سکے، اور اگر وہ اس پر پوری قوت سے کام بھی کرے تو یہ ہدف 2035ء پہلے کسی صورت ممکن نہیں۔ اس تلخ حقیقت نے تصادم کے اصولوں اور نفسیات کو یکسر تبدیل کر دیا۔ چونکہ امریکہ کو اپنی سرزمین پر کسی براہ راست ایرانی حملے کا کوئی خطرہ نہیں تھا، اس لیے اس نے جغرافیائی تحفظ اور مکمل استثنیٰ کے احساس کے ساتھ ایران پر ایک تباہ کن حملہ کیا۔
2025 ء کی بارہ روزہ جنگ اور پھر فروری 2026ء کے حملوں میں اسرائیل کے جدید جنگی طیارے تہران اور شیراز کے آسمانوں پر ایسے منڈلاتے رہے، جیسے وہ ان کا اپنا صحن ہو، اور انہوں نے ایران کی سرزمین کو غزہ کی طرح ایک کھلی اور بے بس تجربہ گاہ میں تبدیل کر دیا۔ سب سے بڑا سوال ، وہ یہ ہے کہ ایران کی مایہ ناز سمجھی جانے والی انٹیلی جنس اور دفاعی ایجنسیاں اپنی اعلیٰ ترین سیاسی اور عسکری قیادت کو بچانے میں مکمل طور پر ناکام کیوں رہیں؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں جولائی 2024ء میں تہران کے قلب میں حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت کی طرف لوٹنا ہوگا۔ اسماعیل ہنیہ کی شہادت محض ایک سیکیورٹی لیپس یا حفاظتی خامی نہیں تھی، بلکہ یہ ایک انتہائی واضح اور گرجدار الارم تھا کہ ایران کی ریاستی اور سیکیورٹی صفوں میں دشمن کے جاسوس، مخبر اور سہولت کار کس گہرائی تک سرایت کر چکے ہیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت تھی جسے ایرانی وزیر انٹیلی جنس اسماعیل خطیب نے بھی دبے الفاظ میں تسلیم کیا تھا کہ غیر ملکی انٹیلی جنس کی دراندازی ہمیشہ سے موجود رہی ہے اور مستقبل میں بھی رہے گی۔
مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کے واقعے اور واضح وارننگ کے باوجود تہران اپنے ریاستی ڈھانچے اور سیکیورٹی صفوں سے ان مخبروں کا مکمل صفایا کیوں نہیں کر سکا؟ سابق آئی آر جی سی نیوی کمانڈر حسین علائی کے تجزیے کے مطابق، ایران کا انٹیلی جنس ڈھانچہ اسرائیل اور امریکہ کے جدید ترین سائبر اور ہیومن انٹیلی جنس خطرات سے نمٹنے کے لیے سرے سے تیار ہی نہیں تھا۔ ایرانی انٹیلی جنس منسٹری اور پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس ونگ کے درمیان دائرہ کار کا شدید تصادم، اختیارات کی جنگ، وسائل کا بے دریغ ضیاع اور باہمی کشمکش نے اس پورے حفاظتی نظام کو اندر سے دیمک کی طرح کھوکھلا کر دیا تھا۔ جس کے نتیجے میں سیکیورٹی اداروں میں ایک قسم کا’’ ذہنی بانجھ پن‘‘ پیدا ہوا جہاں پیچیدہ انٹیلی جنس تجزیے کی جگہ کھوکھلے نعروں نے لے لی۔
دہائیوں کی بین الاقوامی پابندیوں، شدید معاشی بحران، بے پناہ مہنگائی نے ریاستی اداروں میں کرپشن کو فروغ دیا، جس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اسرائیلی انٹیلی جنس ( موساد) نے سوشل میڈیا، کرپٹو کرنسی اور بھاری رقوم کے عوض اعلیٰ ایرانی اہلکاروں کو بآسانی خرید لیا۔ یہاں تک کہ وہ ایلیٹ دستہ یعنی ’’ ولی امر پروٹیکشن کور‘‘، جس کی بنیادی ذمہ داری براہ راست سپریم لیڈر کی حفاظت تھی، وہ بھی شدید اندرونی خلفشار اور بحران کا شکار ہو گئی اور اس کے کئی ارکان مغربی ممالک میں فرار ہو کر حساس ترین معلومات اور قیادت کی نقل و حرکت کے راز دشمن کو فراہم کر چکے تھے۔ انٹیلی جنس کی اسی بھیانک اور منظم ناکامی کا نقطہ عروج اٹھائیس فروری 2026ء کو آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ کمانڈرز کا قتل تھا۔ یہ کارروائی محض عسکری طاقت کا اندھا مظاہرہ نہیں تھی بلکہ یہ امریکہ کی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی اور اسرائیل کی ملٹری انٹیلی جنس کے مصنوعی ذہانت (AI)سے چلنے والے ’’ ٹارگٹ پروڈکشن مشین‘‘ کا کمال تھا۔
اسرائیلی ہیکرز نے برسوں پہلی تہران کے میونسپل ٹریفک کیمروں کے نیٹ ورک کو ہیک کر کے ایرانی دارالحکومت کی سڑکوں اور قیادت کی نقل و حرکت کا مکمل ڈیٹا بیس اور پیٹرن تیار کر لیا تھا۔ جس وقت ایرانی قیادت پاسچر سٹریٹ کے انتہائی محفوظ سمجھے جانے والے خفیہ اور زیر زمین بنکر میں ایک اہم اجلاس کے لیے جمع تھی، عین اسی وقت اسرائیلی سائبر یونٹس نے علاقے کے درجنوں موبائل فون ٹاورز کو ہیک کر کے ان کے سگنلز جام کر دئیے۔ اس سائبر حملے کے باعث حفاظتی دستوں کا بیرونی دنیا سے مواصلاتی رابطہ مکمل طور پر کٹ گیا اور وہ کسی بھی ممکنہ وارننگ کو موصول کرنے سے قاصر رہے، اور پھر ایک منٹ سے بھی کم وقت میں یہ مقام امریکی ساختہ بنکر بسٹر بموں کے حملے سے ملبے کا ڈھیر بن گیا.قیادت کے اس اچانک اور المناک خاتمے اور کمانڈ اینڈ کنٹرول کے درہم برہم ہونے کے بعد، بقیہ ایرانی مقتدرہ نے بقا کی جنگ میں ایک ایسی خطرناک، بے سمت اور غیر متوقع راہ چنی جس نے ان کے تزویراتی زوال پر حتمی مہر ثبت کر دی۔





