مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور پاکستان

مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور پاکستان
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی اور بے یقینی صورت حال کا شکار ہے۔ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری محاذ آرائی نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان جیسے اہم مسلم ملک کے لیے یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ صورت حال کا سنجیدگی سے جائزہ لے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا مثر کردار ادا کرے۔ اسی تناظر میں وزیرِاعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پارلیمانی جماعتوں کے رہنمائوں اور نمائندگان کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں موجودہ علاقائی صورت حال اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں شرکا کو افغانستان کی صورت حال کے ساتھ ایران، مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ دفتر خارجہ کے حکام نے بتایا کہ پاکستان نے موجودہ تنازع کی شدت کو کم کرنے کے لیے ہر ممکن سفارتی کوشش کی ہے۔ خاص طور پر ایران پر ہونے والے حملوں اور ایرانی قیادت کے خلاف کارروائیوں پر پاکستان کی جانب سے فوری مذمت کی گئی۔ یہ موقف اس اصول کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن، خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کی حمایت کرتا رہا ہے۔ حالیہ حالات میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی نے پورے خطے کو ایک بڑے بحران کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ ایران پر ہونے والے حملوں کو صرف ایک ملک پر حملہ نہیں بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ سمجھا جارہا ہے۔ اگر اس جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ جنوبی ایشیا سمیت پوری دنیا پر پڑ سکتے ہیں۔ عالمی تیل کی منڈی، تجارتی راستے اور خطے کا مجموعی استحکام اس جنگ سے براہِ راست متاثر ہوسکتا ہے۔پاکستان کے لیے اس صورت حال کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ ایران ایک ہمسایہ اور برادر اسلامی ملک ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی روابط موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ خطے کے مسائل کا حل جنگ کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تلاش کیا جائے۔ وزیرِاعظم شہباز شریف نے اجلاس کے شرکا کو مشرقِ وسطیٰ کی قیادت کے ساتھ ہونے والے اپنے رابطوں کے بارے میں بھی اعتماد میں لیا۔ اجلاس میں شریک سیاسی رہنماں میں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن شامل تھے۔ دیگر سیاسی رہنماں نے بھی اجلاس میں شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اجلاس کے شرکا نے موجودہ حالات میں قومی اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب بھی ملک کو بڑے سفارتی یا سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے تو داخلی اتحاد انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔ اگر سیاسی قیادت ایک مشترکہ موقف اختیار کرے تو نہ صرف عالمی سطح پر ملک کا موقف مضبوط ہوتا ہی بلکہ خارجہ پالیسی کے اہداف حاصل کرنا بھی آسان ہوجاتا ہے۔ تاہم اس اجلاس کا ایک اہم پہلو بعض اپوزیشن رہنمائوں کی عدم شرکت بھی رہا۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس اور پاکستان تحریک انصاف کے کسی نمائندے کی عدم موجودگی نے اس بات کی نشان دہی کی کہ ملک میں سیاسی تقسیم ابھی بھی موجود ہے۔ اگرچہ سیاسی اختلافات جمہوری نظام کا حصہ ہوتے ہیں، لیکن خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی جیسے معاملات پر وسیع تر اتفاقِ رائے زیادہ موثر ثابت ہوتا ہے۔ اجلاس میں شریک رہنمائوں نے دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہا ہے اور اس دوران سیکیورٹی فورسز اور عوام نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ پاکستان کی قیادت بار بار اس بات پر زور دیتی ہے کہ مسائل کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی اور سفارتی ذرائع سے تلاش کیا جانا چاہیے۔ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی نے عالمی طاقتوں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اگر یہ تنازع مزید پھیلتا ہے تو مشرقِ وسطیٰ ایک بڑی جنگ کا میدان بن سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی امن پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ موجودہ حالات میں مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی صرف علاقائی مسئلہ نہیں رہی بلکہ عالمی امن کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ ایسے میں پاکستان سمیت تمام ذمے دار ممالک کو چاہیے کہ وہ جنگ کے بجائے سفارت کاری، مذاکرات اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کو فروغ دیں کیونکہ پائیدار امن صرف بات چیت اور باہمی احترام کے ذریعے ہی ممکن ہوتا ہے۔
آپریشن غضب للحق: 481افغان طالبان ہلاک
پاکستان کو ایک طویل عرصے سے سرحدی سلامتی کے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ خاص طور پر افغانستان کی سرزمین سے سرگرم شدت پسند عناصر اور دہشت گرد تنظیمیں پاکستان کے امن و استحکام کے لیے مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ ایسے حالات میں ریاست کا یہ بنیادی فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے۔ اسی تناظر میں پاکستان کی جانب سے جاری آپریشن غضب للحق کو ایک اہم اور فیصلہ کن دفاعی اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کے مطابق اس آپریشن کے دوران افغان طالبان رجیم کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی جوابی کارروائی میں افغان طالبان کے 481کارندے ہلاک اور 696سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ 226چیک پوسٹس تباہ کی گئیں جبکہ 35پر قبضہ بھی کیا گیا۔ اسی طرح 198ٹینکس، اسلحہ بردار گاڑیاں اور آرٹلری گنز کو بھی تباہ کیا گیا ہے۔ فضائی کارروائیوں کے دوران افغانستان کے 56مقامات کو موثر طور پر نشانہ بنایا گیا۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ پاکستان نے اس کارروائی کو نہ صرف سنجیدگی بلکہ مکمل عسکری منصوبہ بندی کے ساتھ انجام دیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صرف دفاعی پوزیشن اختیار کرنا اکثر موثر ثابت نہیں ہوتا، بلکہ بعض اوقات پیشگی اور موثر کارروائی ناگزیر ہوجاتی ہے۔ پاکستان کی سرحدی سلامتی کو لاحق خطرات کے پیش نظر یہ آپریشن اسی حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ خصوصی طور پر بگرام ایئر بیس کو نشانہ بنانے کی خبر اس کارروائی کی اہمیت کو مزید واضح کرتی ہے۔ بگرام ایئر بیس افغانستان کا ایک اہم عسکری مرکز سمجھا جاتا ہے اور اسے نشانہ بنانا اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان نے اپنی کارروائیوں کا دائرہ کار انتہائی اہم اہداف تک وسیع رکھا ہے۔ تاہم ایسے اقدامات خطے میں کشیدگی کو بھی بڑھا سکتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ عسکری کارروائیوں کے ساتھ سفارتی سطح پر بھی موثر حکمت عملی اختیار کی جائے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہا ہے اور اس دوران ہزاروں جانوں کی قربانی دی جاچکی ہے۔ ریاستی اداروں اور سیکیورٹی فورسز کی ذمے داری ہے کہ وہ ملک کے امن کو ہر قیمت پر برقرار رکھیں۔ اگر سرحد پار سے حملے یا دراندازی کی کوششیں جاری رہیں تو پاکستان کے پاس جوابی کارروائی کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔ اس کے باوجود یہ امر بھی نہایت اہم ہے کہ خطے میں مستقل امن کے لیے صرف عسکری اقدامات کافی نہیں ہوتے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر سفارتی روابط، سرحدی نظم و نسق اور باہمی اعتماد کی فضا قائم کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی نہ صرف سرحدی علاقوں بلکہ پورے خطے کے استحکام کو متاثر کر سکتی ہے۔ لہٰذا وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ایک طرف دہشت گرد عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھی جائے اور دوسری جانب سیاسی و سفارتی ذرائع سے مسئلے کے مستقل حل کی کوششیں بھی تیز کی جائیں۔ آپریشن غضب للحق اگرچہ ایک مضبوط پیغام ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، مگر خطے میں پائیدار امن کے لیے سفارت کاری بھی ضروری ہے۔





