حضرت شرف الدین المعروف حضرت بُو علی شاہ قلندرؒ

حضرت شرف الدین المعروف حضرت بُو علی شاہ قلندرؒ
ضیا الحق سرحدی
بر صغیر پاک و ہند میں اشاعت اسلام میں اولیاء کرام اور صوفیائے کرام نے نمایاں کردار ادا کیا اور اللہ تعالیٰ کے ان بر گزیدہ بندوں کی بدولت یہ خطہ دولت ایمان و اتفاق سے منور ہوا طریقت کے چاروں سلاسل سے فیض یاب بزرگوں نے اس خطے میں اشاعت دین کے لئے اپنی زندگیاں وقف کیں آج ہم جس ہستی کا ذکر خیر کرنے والے ہیں وہ قلندری ہیں دُنیا میں اڑھائی قلندر ہیں، حضرت سخی لعل شہباز قلندرؒ ، حضرت بو علی قلندرؒ پانی پت اور حضرت رابعہ بصریؒ قلندر۔ دُنیا میں قلندر اس ہستی کو کہتے ہیں جو دنیا کی ہر آرائش و زیبائش کو ترک کر کے اپنے آپ کو یادِ الٰہی میں محو کر دے ۔ قلندر کو حقیقت سے معرفت ہوتی ہے اور حضرت بُو علی شاہ قلندرؒ معرفت کی نگاہ رکھتے ہیں۔ ان عظیم المرتبت ہستیوں کا تذکرہ اس مختصر مضمون میں تحریر کرنا ناچیز فقیر اور خاکپائے مرشد کے بس کی بات نہیں، یہ میرے پیر و مرشد سید مستان شاہ سرکار حق بابا کی مجھ پر خاص نگاہِ کرم ہے کہ پہلی مرتبہ جون 1999ء راقم کو اپنے ایک دوست قدرت الٰہی کے ساتھ کاروباری سلسلے میں دہلی ( بھارت) جانے کا اتفاق ہوا۔ میری خواہش تھی کہ میں دہلی میں موجود اولیائے کرام کے علاوہ پانی پت ( کرنال) میں حضرت بو علی قلندرؒ اور اپنے چشتیہ سلسلے کے روحانی پیشوا حضرت شمس العالم، حضرت حافظ شاہ شمس الدین ترک پانی پتی کے مزارات پر حاضری دوں۔ یہ انہی اولیائے کرام کی کرامت تھی کہ جن کی زیارت کرنے کو میرا من مچل رہا تھا کہ میں اتنے مشکل حالات میں بھی ان کی زیارت تک پہنچ گیا سب سے پہلے حضرت بو علی شاہ قلندرؒ کے مزار کی زیارت کی اور اس کے بعد قریب ہی شاہ شمس الدین ترک پانی پتی کے مزار کے بھی زیارت کی سعادت حاصل ہوئی۔ حضرت بو علی قلندرؒ کا نام تصوف کی دنیا میں ایک نہایت ہی معروف ترین نام ہے، اگرچہ آپ کی زندگی کے آخری چند برس جذب و سکر میں گزرے، مگر آپ اس دور کے بہت ہی بلند پایہ عالم فاضل بزرگ تھے۔ آپ کی بزرگی اور عظمت کا شہرہ آج بھی اہل تصوف کی محافل کی جان ہے۔ اصطلاح کے لحاظ سے آپ کو قلندر کہا جاتا ہے۔ حضرت بُوعلی قلندرؒ کا اسم گرامی حضرت شیخ شرف الدین تھا جبکہ آپ نے اپنے لقب بو علی سے شہرت دوام حاصل کی۔ آپ حضرت امام ابو اعظم حنیفہؒ کی اولاد پاک میں سے تھے اور اسی لئے آپ میں علم و فضل بدرجہ اتم موجود تھا۔ آپ یہاں605ھ میں عالم رنگ و بو میں تشریف لائے، آپ پیدائش کے بعد والدہ ماجدہ کا دودھ پیتے تھے اور نہ ہی آنکھیں وا کرتے تھے، بلکہ ان کے آنسو بہتے رہتے تھے۔ آپ کے والدین کو تشویش لاحق ہوئی، لیکن حیرانگی کی بات تھی کہ آپ کی صحت پر کوئی منفی اثر مرتب نہیں ہوا، اسی طرح چالیس دن بیت گئے۔ ایک دن آپ کے والدین اداس و ملول بیٹھے تھے کہ مکان کے دروازے پر دستک ہوئی، آپ کے والد صاحب نے دروازہ کھولا تو سامنے ایک نورانی چہرے والے بزرگ کھڑے تھے، انہوں نے کہا ’’ اے شیخ! مبارک ہو آپ کا صاحب زادہ مقربِ بارگاہ صمدیت اور عاشق الٰہی ہے، میں ان کی زیارت سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرنا چاہتا ہوں‘‘۔ حضرت مولانا فخر الدین عراقی اندر تشریف لے گئے اور صاحبزادے کو لاکر ان کی گود میں دے دیا، اس بزرگ نے بچے کی پیشانی پر بوسہ دیا تو اس نے فوراً آنکھیں کھول دیں۔ انہوں نے کہا کہ اس عاشق الٰہی کی حفاظت کرنا، یہ اللہ تعالیٰ کی امانت ہے ۔ بزرگ نے بچے کو پکڑایا اور واپس تشریف لے گئے۔
حضرت بو علی قلندرؒ کے والد ماجد حضرت شیخ سالار فخر الدین کے بارے میں جناب نواز رومانی صاحب اپنی کتاب ’’ بزرگ‘‘ کے صفحہ نمبر 167پر رقم طراز ہیں کہ آپ ہمدان کے رہنے والے تھے ابھی بہت چھوٹے تھے، کہ آپ نے قرآن پاک حفظ کر لیا تھا اور پھر سترہ سال کی عمر میں تحصیل علوم سے فراغت کے بعد درس و تدریس میں مشغول ہو گئے تھے، آپ پر ہمیشہ عشق کا غلبہ رہتا تھا۔ حضرت بو علی قلندرؒ کا بچپن بھی دیگر اولیائے کرام کی طرح کوئی عام بچپن نہ تھا، آپ بہت ہی کم اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے کم عمری میں ہی مروجہ علوم اسلامی حاصل کر لئے تھے۔ آپ تعلیم سے فارغ ہو کر ہمدان کے راستہ میں درس دینے لگے، اسی دوران حضرت غوث العالم کی مرشدی آپ کو نصیب ہوئی، اور انہوں نے اپنا خرقہ اور اپنی بیٹی آپ کو نکاح میں دی۔ اس کے بعد 25سال آپ اپنے مرشد کی خدمت میں رہے، اس دوران آپ کا ایک فرزند پیدا ہوا، جس کا نام شیخ کبیر الدین رکھا۔ حضرت غوث العالم کی وفات کے بعد حج کے ارادہ سے روانہ ہوئے اور مست و سرشار مکہ معظمہ پہنچے۔ جب مدینہ پہنچے تو آپ پر وجدانی کیفیت طاری ہو گئی اور ایک رات میں پانچ قصیدے لکھے۔
مدینہ منورہ کی زیارت سے مشرف ہونے کے بعد روم پہنچے اور شہر قونیہ میں آئے، وہاں حضرت شیخ محی الدین ابن عربی کے خلیفہ اور سجادہ نشین حضرت شیخ صدر الدین سے ملے اور کچھ عرصہ تک ان کی صحبت میں رہے، اور اس طرح سے آپ نے عراق ، روم، شام اور مصر وغیرہ کا سفر کیا، اور ان تمام جگہوں پر اسلام کی روشنی پھیلاتے گئے اور اسلامی تعلیمات دیتے گئے، جس کی وجہ سے ہر جگہ آپ کو بڑی عزت ملی اور امراء اور حکمرانوں نے آپ قدر افزائی کی۔ یوں تو آپ کے بہت سے کرامات کے واقعات ہیں، جن سے ہمیں کافی کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ لیکن آپ کا ایک مشہور واقعہ ہے کہ حضرت بو علی قلندرؒ بارہ سال تک دریا میں کھڑے رہے، یہ روایت سیر الاخیار نامی کتاب کے اردو ایڈیشن کے صفحہ نمبر 410پر موجود ہے، کہ اس دوران آپ کے جسم مبارک کا گوشت مچھلیاں کھا گئیں، مگر آپ وہیں بدستور کھڑے رہے جبکہ آپ کو اس کی خبر تک نہ ہوئی۔ اور بارہ برس کے بعد ندائے غیبی ہوئی کہ ہم نے تیری عبادت اور اطاعت قبول کرلی ، جو مانگنا ہے اب مانگ لو۔ آپ نے عرض کی بار الٰہی! تجھ سے تجھی کو مانگتا ہوں، میں تو یہیں کھڑا کھڑا جان دے دوں گا اور تیری محبت ہی میں دم توڑ دوں گا۔ حکم ہوا کہ اچھا پانی سے باہر نکل آ، ہمیں تجھ سے بہت سے کام لینے ہیں۔ عرض کیا کہ تو خود نکال میں تو نکلوں گا نہیں، اسی وقت ایک بزرگ نے گود میں اٹھا کر کنارہ پر کھڑا کر دیا، جھنجھلا کر کہا اے شخص تو کون ہے؟ جس نے میری بارہ سال کی محنت ضائع کر دی، کہ میں منزل مقصود پر پہنچنے والا تھا۔ انہوں نے فرمایا ’’ اے شرف الدین! میں علیؓ بن ابی طالب ہوں دیکھ لے۔ آپ فوراً قدموں میں گڑ پڑے اور حضرت علیؓ نے آپ کو نعمتِ باطنی سے مالا مال کر دیا ( اس نعمتِ باطنی سے متعلق ایک دوسری روایت میں ہے کہ انہیں حضرت علیؓ کی بو عطا فرما دی گئی، اسی لئے آپ کو بو علی قلندر کہا جاتا ہے )۔
حضرت بو علی قلندر کے ہم عصر اولیائے کرام میں قطب الدین بختیار کاکی، حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء ، حضرت امیر خسرو، شمس الدین ترک پانی پتی اور حضرت رکن الدین سہروردی شامل ہیں۔ حضرت بو علی قلندر کے وصال کے بارے میں بھی ہمیں تاریخ میں متعدد روایات ملتی ہیں، لیکن زیادہ تر اتفاق اسی روایت پر کیا گیا ہے کہ آپ کا وصال 13رمضان المبارک724ھ کو بھارت کے شہرکرنال کے بڈھا کھیڑا نامی قصبے میں ہوا۔ آپ کے فیوض اور بر کات کی خوشبو بر صغیر کے گوشے گوشے میں اہل دل کو آج بھی تازگی بخشتی ہے۔ حضرت بو علی قلندر کا مزار پاک ( کرنال) بھارت میں عقیدت مندوں کے لئے مرجع خلائق ہے ۔







