Column

بڑی خبر

بڑی خبر
سیدہ عنبرین

واشنگٹن اور تل ابیب کے علاوہ درجن بھر اسلامی ملک بھی ایسے تھے جہاں یہ یقین پایا جاتا تھا کہ ایران پر اسرائیلی و امریکی حملے کے چوبیس گھنٹے کے اندر اندر ایران فتح ہو جائے گا، دونوں ملکوں کی فوجیں دندناتی ہوئی وہاں اتریں گی ۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے سینے پر ایک سنہری تمغہ سج جائے گا، جو ان کے اقوال و افعال کی سیاہی کو چھپا لے گا یوں ’’ قیام امن بذریعہ یلغار‘‘ کا نیا اصول تسلیم کر لیا جائے گا اور غزہ میں امریکی و یہودی عزائم کی تکمیل کی راہ میں کوئی رکاوٹ باقی نہ بچے گی۔ دنیا بھر کے تمام بے حس و بے غیرت ملک دوڑے چلے آئیں گے اور اپنے سر امریکی و یہودی استعمار کے قدموں میں رکھ دیں گے، مگر سب کچھ ان کی توقع کے خلاف ہو گیا۔ نصف صدی سے پابندیوں کا شکار گوشہ تنہائی میں سانس لینے والا ایران ایک شیر کی طرح انگڑائی لے کر اٹھا اور اس نے بیک وقت امریکہ و اسرائیل کو گلے سے پکڑ لیا، اب جنگ شروع ہوئے ابھی ایک ہفتہ نہیں گزرا کہ دونوں ممالک کے ذمہ دار ادارے آن ریکارڈ بتا رہے ہیں کہ دنیا کے طاقتور ترین ملک کے میزائل سات سے آٹھ روز میں ختم ہو جائیں گے، جبکہ اس کے بغل بچے کے پاس لڑنے والی فوج کو افرادی قوت میں کمی کا سامنا ہے۔ امریکہ میزائلوں کی خیرات اکٹھی کرے گا، جبکہ اسرائیل نے رضا کاروں کی بھرتی کا اعلان کر دیا ہے، لیکن زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے کوئی اسرائیلی مرد یا عورت موت کے منہ میں جانے کیلئے تیار نہیں۔ آزاد ذرائع سے آنے والی فوٹیج دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں ملکوں میں موت کا کس قدر خوف ہے۔ اسرائیلی شہری سائرن کی آواز سنتے ہی روتے پیٹتے ہوئے پناہ گاہوں کی طرف دوڑتے نظر آتے ہیں، بعض تو اس عجلت میں نظر آتے ہیں کہ انہیں مکمل لباس پہننے کی بجائے محفوظ مقام پر پہنچنے کی جلدی ہوتی ہے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق درجن بھر امریکی لڑاکا ہوائی جہاز گرائے جا چکے ہیں، لیکن تصدیق کرتے ہوئے امریکہ ان کی تعداد فقط تین بتاتا ہے، دنیا کے مختلف ممالک میں امریکی فوجی اڈوں پر گرنے والے ایرانی میزائلوں نے تباہی مچا دی ہے، ان کی زد میں آ کر ہلاک ہونے والوں کی تعداد سیکڑوں میں ہے، لیکن امریکی یہی تاثر دے رہے ہیں کہ امریکی فوجی ان میزائلوں کو با آسانی کیچ کر کے ڈبوں میں بند کر دیتے ہیں، حالانکہ عام فہم کی بات ہے میزائل جب گرتا ہے تو بہت کچھ پھاڑ کے رکھ دیتا ہے، اب تک گیارہ بحری جہاز ڈوب چکے ہیں، یہ وہ جہاز تھے جو تیل لے کر یا لینے کیلئے بحر ہند میں کہیں قریب موجود تھے، ایک آئل ٹینکر پر ایرانی گارڈز ہیلی کاپٹروں کی مدد سے اترے اور اسے محفوظ ایرانی پانیوں میں لے آئے، اس بحری جہاز کے عملے میں پاکستانی اور بھارتی بھی شامل ہیں، جو اپنی شیپنگ کمپنیوں کے ملازم تھے، ایرانی میزائلوں کا اگلا نشانہ مختلف ممالک میں ان کے سفارتخانے ہیں، ان میں سے تین اب زمین پر نظر نہیں آ رہے، پندرہ سے بیس امریکی ان حملوں میں مارے گئے ہیں، مرنے والوں کی لاشیں فریزر میں رکھی جا رہی ہیں۔
کویت میں گرائے جانے والے امریکی طیاروں کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے وہ فرینڈلی فائرنگ میں گر گئے، نہیں ایسا نہیں، اس سے بہتر بیان یہ ہوتا کہ وہ پکڑم پکڑائی کھیلتے ہوئے آپس میں ٹکرا گئے، اور زمین بوس ہو گئے یا وہ ’’ جھولے مائیاں‘‘ کرتے ہوئے زمین پر آ گئے۔ امریکی کیپٹن کوڈی خورک، سارجنٹ ڈیکلن، سارجنٹ نواح تیجنز اور خاتون سارجنٹ نکول ایمرو کی لاشیں واشنگٹن پہنچی ہیں، جہاں سول سوسائٹی میں کہرام برپا ہے۔ زخموں پر مرہم رکھنے کیلئے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ہلاک شدگان کے اہلخانہ کو بھی مدعو کیا گیا، امریکی صدر نے اس تقریب سے خطاب کیا، انہوں نے مرنے والوں کیلئے قصیدہ پڑھا جو بنا کوئی کارنامہ انجام دیئے مارے گئے۔ امریکی صدر کے خطاب کے بعد شرکاء تقریب کے غم و غصے میں اضافہ ہو گیا، کیونکہ وہ کوئی ڈھنگ کی بات نہ کر سکے، وہ خاصے جھنجھلائے ہوئے تھے، وہ ایسی تقریبات میں زمین آسمان کے قلابے ملانے کی شہرت رکھتے ہیں، لیکن وہ امریکہ کے ایران پر حملے کا کوئی معقول جواز نہ پیش کر سکے، اور چند منٹ کے مختصر خطاب کے بعد رخصت ہو گئے۔ وقت کس قدر تیزی سے بدلا ہے، ابھی کل کی بات ہے، ٹرمپ بھارتی طیاروں کے گرنے کے واقعات چسکے لے کر بیان کرتے تھے، اور اپنی مرضی سے وہ جب چاہتے ان کی
تعداد میں اضافہ کر دیتے، آج ان کے طیارے گر رہے ہیں، بہت مہنگے، بہت جدید اور نویں نکور۔ ایرانی میزائلوں نے امریکی اسلحے اور امریکی دفاعی نظام کی مارکیٹ کو تباہ کر دیا ہے، اب ایف15۔ تھاڈ اور ڈیوڈ سلینگ کا گاہک مشکل ہی سے ملے گا۔ پیٹریاٹ کا بھرکس تو گزشتہ برس ہی نکل گیا تھا، رہی سہی کسر اب پوری ہو جائے گی، کیونکہ پھل جھڑیوں کی قیمت میں تیار ہونے والے ایرانی میزائلوں کو روکنے کیلئے کئی، کئی ملین ڈالر کے میزائل استعمال کئے جا رہے ہیں، جو امریکی اور اسرائیلی اکانومی کو برباد کر دیں گے۔ دنیا بھر کو بڑی مقدار میں سپلائی کرنے والی گیس پائپ لائن ہٹ ہونے کے بعد بند کر دی گئی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کے بند ہونے سے صرف تیل ہی نہیں، بلکہ ہزاروں قسم کی ضروریات زندگی کی تجارت پر بھی اثر پڑے گا۔ اگر پانی صاف کرنے والے پلانٹ ایرانی میزائلوں کی زد میں آ کر تباہ ہو گئے تو ایسا بحران پیدا ہو گا، جس کا امریکہ، اسرائیل اور اس کے اتحادیوں نے کبھی تصور نہ کیا ہو گا۔ ایرانی قوم و سپاہ اس جنگ کی قیمت ادا کر رہے ہیں اور بخوشی کرتے رہیں گے۔ جارحیت کے مرتکب اب یہ اندازے لگا رہے ہیں کہ ایران کے میزائلوں کا ذخیرہ کب ختم ہو گا، اور ایران کب جنگ ختم کرنے پر آمادہ ہو گا، جو لوگ سمجھتے ہیں ایران کے پاس تیس سے چالیس ہزار میزائل ہیں، تو وہ اپنا حساب کتاب درست کر لیں، یہ تعداد ہزاروں میں نہیں لاکھوں میں ہے۔ تیس سے چالیس ہزار تو صرف سپر سانک ہیں۔ دنیا بہت بدل چکی ہے، اب تو جدید تفریح گاہوں میں گاڑیوں کی پارکنگ کی گنجائش تیس ہزار سے زیادہ رکھی جاتی ہے۔ ایران تو دشمنوں میں گھرا ہے، اور قریباً پچاس برس سے پابندیوں کا شکار ہے، وہ اپنی حفاظت کیلئے فقط تیس، چالیس ہزار میزائل بنا کر ہاتھ پر ہاتھ رکھے نہیں بیٹھا، اس نے گزشتہ تین سو برس میں کسی ملک پر حملہ نہیں کیا، لیکن چھ ہزار برس کی تاریخ رکھنے والا ایران صرف اپنے میزائلوں کی جدت اور حدت کے زور پر ایک سال با آسانی جارح قوتوں کا مقابلہ کر سکتا ہے، اسے دس برس مسلسل لڑنے اور شہیدوں کی لاشیں اٹھانے کا تجربہ ہے، جبکہ امریکہ نے کوئی جنگ تنہا لڑ کر نہیں دیکھی، وہ چھیالیس نیٹو ممالک کو ہر جنگ میں گھسیٹ لایا، پھر بھی رسوا ہی ہوا۔ ڈونلڈ ٹرمپ پلک جھپکنے کو تیار ہو چکا ہے، بڑی خبر یہی ہے۔

جواب دیں

Back to top button