تہران نے مشرق وسطیٰ کیسے کھو یا ؟

تہران نے مشرق وسطیٰ کیسے کھو یا ؟
قادر خان یوسف زئی
فروری 2026ء کے آخر میں ہونے والے واقعات کے نتائج پر ذرا غور کریں۔ مشرق وسطیٰ کا جغرافیائی نقشہ تو جیسے راتوں رات بدل کر رہ گیا۔ جب امریکہ اور اسرائیل کے ایک اچانک مشترکہ حملے نے ایران کی اعلیٰ قیادت آیت اللہ علی خامنہ ای اپنے رفقاء سمیت شہید کر دیئے گئے۔ تو یہ واشنگٹن اور تل ابیب کے لیے محض ایک جنگی کامیابی نہیں تھی۔ اس واقعے نے پوری طرح بے نقاب کر دیا کہ ایران کا حکومتی اور ادارہ جاتی ڈھانچہ اندر سے کتنا کھوکھلا ہو چکا ہے۔ حکومت کے جو لوگ بچ گئے تھے، انہوں نے خلیجی ممالک کی طرف اندھا دھند ڈرون اور میزائل داغنے شروع کر دئیے۔ کیا یہ کوئی سوچی سمجھی دفاعی حکمت عملی تھی، یا محض ایک ٹوٹی ہوئی حکومت کی اندھی بوکھلاہٹ؟ اگر آپ ان کے غصے سے بھرے بیانات کو ایک طرف رکھ کر دیکھیں، تو آپ کو ایک بہت بڑی اسٹریٹجک غلطی نظر آئے گی جس نے تہران کو دنیا میں بالکل تنہا کر دیا۔
ایک لمبے عرصے تک، سیاست دان اس بات کا شور مچاتے رہے کہ ایران امریکی سرزمین پر بین البراعظمی بیلسٹک میزائل داغنے والا ہے۔ لیکن حقیقت اس سے بالکل مختلف تھی۔ غیر خفیہ انٹیلی جنس رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ ایران کو کوئی ایسا لمبی دوری کا خطرہ بننے میں کم از کم مزید دس سال لگتے جس سے واقعی کوئی فرق پڑتا۔ ان کی حدِ نگاہ صرف 2000 کلومیٹر کے آس پاس تھی۔ مان لیا کہ یہ پڑوسی ممالک اور اسرائیل کے لیے تو خطرناک ہے، لیکن امریکہ کے لیے اس کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ تہران نے اپنے مقامی میزائل پروگرام پر اربوں ڈالر جھونک دئیے، لیکن ایک بنیادی حقیقت کو نظر انداز کر دیا کہ اصل دفاعی طاقت کے لیے آپ کی پہنچ پوری دنیا تک ہونی چاہیے۔
اسی سادہ سی جغرافیائی حقیقت نے یہ طے کیا کہ جنگ کس رخ پر جائے گی۔ چونکہ امریکی سرزمین محفوظ تھی، اس لیے وہ اپنے گھر پر کسی براہ راست حملے کے خوف کے بغیر ایران پر حملہ کر سکتے تھے۔ اسرائیل کو معلوم تھا کہ ایران کے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کچھ نقصان تو پہنچا سکتے ہیں، لیکن انہیں اپنے ’’ایرو‘‘ (Arrow)اور ’’ ڈیوڈز سلنگ‘‘ (David’s Sling)دفاعی نظام پر پورا بھروسہ تھا کہ وہ اس بڑے حملے کو سنبھال لیں گے۔ اس چیز نے اسرائیلی فضائیہ کو موقع دیا کہ وہ ایران کے فضائی دفاع کو نقصان پہنچا سکے۔ تہران اور شیراز کے آسمان ان کے لیے بالکل ویسے ہی کھل گئے جیسے غزہ یا لبنان کے۔
لیکن اصل تباہی تو زمین پر ہوئی، جو ایران کے اپنے ہی سیکیورٹی نظام کی گہرائیوں میں چھپی تھی۔ جولائی 2024ء میں تہران کے اندر ہنیہ کا قتل ان کے لیے ایک بہت بڑی وارننگ ہونی چاہیے تھی۔ یہ اس بات کا پکا ثبوت تھا کہ غیر ملکی جاسوس حکومت کے اعلیٰ ترین حلقوں میں گھس چکے ہیں۔ اس کے باوجود، پاسداران انقلاب (IRGC)اور وزارت انٹیلی جنس نے اپنے اندر کی صفائی نہیں کی۔ کیوں؟ کیونکہ اس نظام کو اصل قابلیت اور ہنر سے زیادہ نظریاتی وفاداری کی پرواہ تھی۔ یہاں تک کہ ولی امر پروٹیکشن کور کے وہ لوگ جن کی خاص ڈیوٹی سپریم لیڈر کی حفاظت کرنا تھی۔ اس حملے سے بہت پہلے ہی بغاوتوں اور اندرونی خلفشار کا شکار تھی۔
برسوں کی کمر توڑ پابندیوں، بے تحاشا مہنگائی اور جڑوں تک پھیلی کرپشن نے غیر ملکی ایجنسیوں کے لیے اعلیٰ حکام کو خریدنا بے حد آسان بنا دیا تھا۔ اسرائیلی ایجنٹوں نے ایران کی اشرافیہ کی روزمرہ کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے تہران کے ٹریفک کیمروں کو ہیک کرنے میں برسوں لگائے تھے۔ لہٰذا، جب خامنہ ای شہر کے وسط میں ایک میٹنگ کے لیے بیٹھے، تو حملہ آوروں نے ان کی سیکیورٹی ٹیم کو اندھا کرنے کے لیے بس مقامی سیل ٹاورز کو جام کیا اور سیدھا ان کے سر پر بنکر بسٹر بم گرا دئیے۔ یہ بہت بڑا تکنیکی فرق تھا جس نے اس ایرانی انٹیلی جنس نیٹ ورک کو پوری طرح بے بس کر دیا جو اپنے ہی باس کی حفاظت کرنے کے بجائے مقامی مظاہروں کو کچلنے میں مصروف تھا۔ بغیر کسی لیڈر کے، ایران نے اپنی سب سے بڑی غلطی کی کہ انہوں نے عرب خلیجی ممالک کو بھی اس دلدل میں گھسیٹ لیا۔ انہوں نے دبئی کے سویلین ہوائی اڈوں، سعودی عرب کے انرجی گرڈز، لگژری ہوٹلوں اور قطر کے گیس ہبز پر سیکڑوں ڈرونز اور میزائل داغے۔ انہوں نے بین الاقوامی سمندری تجارتی راستوں اور کمرشل ڈیٹا سینٹرز تک کو نشانہ بنایا، تاکہ عالمی تجارت کو یرغمال بنایا جا سکے۔ تہران کا دعویٰ تھا کہ ان ممالک میں وہ امریکی اڈے موجود ہیں جہاں سے حملے کیے گئے تھے۔ وہ عالمی توانائی اور ایوی ایشن سیکٹرز کو اتنا بڑا معاشی جھٹکا دینا چاہتے تھے کہ خلیجی رہنما خوفزدہ ہو کر واشنگٹن کی منتیں کریں کہ وہ بمباری روک دے۔ سفارت خانوں تک نشانہ بنانے کی سنگین غلطی کی، تو کیا ایران پاکستان میں موجود امریکی سفارتی خانوں کو نشانہ بنانے کا حق رکھتا ہے ؟
تاہم، ان کا یہ جوا بری طرح ناکام ہوا۔ عمان اور قطر، وہ ممالک جنہوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان صلح کرانے کی برسوں کوشش کی تھی۔ ان پر حملہ کر کے تہران نے اپنی سفارت کاری کے بچے کھچے راستے بھی جلا دئیے۔ اگر تاریخ دیکھی جائے تو خلیجی ممالک عموماً آپس میں بٹے ہوئے رہے ہیں اور کھلی جنگ سے کافی گھبراتے ہیں۔ لیکن اس بار؟ انہوں نے ایک سیکنڈ کے لیے بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی، اور فوراً امریکی دفاعی شیلڈ کے پیچھے ایک ہو گئے۔ ان کی مشترکہ فضائی دفاعی نظام نے 90فیصد سے زیادہ حملوں کو ہوا میں ہی ناکارہ بنا دیا۔ آخر کار، ایران کی اس غلط حکمت عملی کی وجہ سے کوئی عالمی نجات دہندہ ان کی مدد کو دوڑا نہیں آیا۔ ماسکو اور بیجنگ محض دور سے تماشا دیکھتے رہے، وہ ایک ڈوبتی ہوئی حکومت کے لیے اپنا سر کٹوانے کو بالکل تیار نہیں تھے۔ ایک ایسی لڑائی مول لے کر جسے وہ جیت نہیں سکتے تھے اور ان ہی پڑوسیوں پر حملہ کر کے جنہوں نے امن قائم رکھنے کی کوشش کی تھی، ایران نے اپنے میزائل پروگرام کے حوالے سے اپنے تمام ناقدین کو سچا ثابت کر دیا۔ اب، یہ ملک بالکل تنہا ایک تباہ کن، کئی محاذوں والی جنگ لڑ رہا ہے۔ جسے انٹیلی جنس کی زبردست ناکامیوں اور موجودہ عالمی سیاست کے حالات کو بالکل نہ سمجھ پانے کی وجہ سے کھائی میں دھکیل دیا گیا ہے۔
اگر اس پورے بحران سے کوئی ایک کڑوا سبق ملتا ہے، تو وہ یہ ہی کہ اگر آپ کی ریاست اندر سی سڑ رہی ہے تو ہتھیاروں کے ڈھیر لگانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اصل ٹیلنٹ کے بجائے ’’ جی حضوری‘‘ کرنے والوں اور نظریاتی خوف کو ترجیح دینا ہمیشہ حکومت کو ان حقیقی خطروں سے اندھا کر دیتا ہے جو اس کی دہلیز پر کھڑے ہوتے ہیں۔







