Column

عافیہ کیس: تقابل دورِجاہلیت اور جدید معاشرہ

عافیہ کیس: تقابل دورِجاہلیت اور جدید معاشرہ
محمد ایوب ( ترجمان عافیہ موومنٹ پاکستان)
صحابہ کرامؓ ایمان لانے کے بعد جب بھی اپنے ماضی کی کوئی بات کرتے تھے تو اسے ’’ دورِ جاہلیت ‘‘ سے تعبیر کرتے تھے۔ دورِ جاہلیت کی اصطلاح نزولِ اسلام سے قبل کے عرب معاشرہ کیلئے استعمال کی جاتی ہے۔ وہ عقیدے کے لحاظ سے انتہائی پستی کا دور تھا۔ عرب میں شرک و بت پرستی عام تھی۔ کعبہ جسے بیت اللہ ( اللہ کا گھر) کہا جاتا ہے، وہاں 360بت سجا کر ان کی عبادت کی جاتی تھی ۔ خطہ عرب جہاں اخلاقی و سماجی برائیاں عام ہی نہیں تھیں بلکہ اس پر فخر کیا جاتا تھا۔ اس معاشرے میں عورتوں پر ظلم ( بشمول بیٹیوں کو زندہ درگور کر دینا)، شراب نوشی، قمار بازی، اور قبائلی عصبیت عام تھی۔ خاندانی نظام کمزور تھا، سود خوری عروج پر تھی اور امن و امان کی جگہ جنگ و جدل نے لے رکھی تھی، جس میں طاقتور کمزوروں کو دبا لیتے تھے۔
قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ان کے تین کمسن بچوں سمیت 31مارچ، 2003ء کو کراچی سے اغواء کر کے امریکی حکومت کو بیچنا دور جاہلیت کی یاد دلاتا ہے۔ عافیہ اب تک امریکی جیل میں قید ہے ، یہ قبیح، مکروہ اور ننگ انسانیت فعل ’’ دورجاہلیت‘‘ میں نہیں جدید معاشرے (Modren Society)میں سرزد ہوا ہے۔ یہ ایک ریاستی غلطی تھی۔ امریکی حکام نے جب عافیہ کو مانگا تھا تو ہمارے ریاستی حکام کو اپنی ایک خاتون شہری کو امریکہ کے حوالے کرنے سے پہلے تحقیق و تفتیش کر لینی چاہئے تھی کہ کیا اس پر لگائے گئے الزامات کیا واقعی صحیح ہیں؟۔ جب جبری لاپتہ رکھنے کے بعد 2008ء میں ڈاکٹر عافیہ کو منظر عام پر لایا گیا، اس وقت سے آج تک عافیہ کو بے گناہ کہا اور مانا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر عافیہ کے موجودہ وکیل کلائیو اسٹفورڈ اسمتھ نے کئی سالوں کی شبانہ روز محنت و تحقیق کے بعد عافیہ صدیقی کی بے گناہی کے اتنے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں، جو کہ کئی سو صفحات پر درج ہیں۔ امریکہ اور نیٹو ممالک کا جھوٹ ایک نہیں کئی مرتبہ منظر عام پر آچکا ہے۔ 2003ء میں عراق کے صدر صدام حسین پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا جھوٹا الزام لگا کر عراق کو تباہ و برباد کر دیا گیا تھا۔ دھوکہ دینا ان کی گھٹی میں پڑا ہوا ہے۔ مذاکرات کا عمل مکمل ہونے سے پہلے ایران پر مسلط کردہ حالیہ جنگ بھی ان کے جھوٹ اور فریب کا پردہ چاک کر رہی ہے۔
جدید معاشرے (Modren Society)کی بنیاد اسلام نے تقریباََ ساڑھے چودہ سو سال قبل رکھی تھی۔ اسلام نے انسانیت کو ظلم کے خلاف جدوجہد اور انصاف کے ساتھ کھڑا ہونا سکھایا۔ بیٹیوں کو زندہ درگور ہونے سے بچایا۔ قیدیوں اور غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم دی۔ بلا امتیاز انسان کی عزت و تکریم قائم کرنے کیلئے اپنا پیغمبر مبعوث فرمایا اور نزول وحی کا سلسلہ شروع کیا۔
القرآن: ’’ اور ہم نے آدم علیہ السلام کی اولاد کو عزت دی‘‘۔ ( سورہ الاسرائ)
’’ ایک بے گناہ انسان کو قتل کرنا گویا تمام انسانیت کو قتل کرنا اور ایک بے گناہ انسان کو بچا لینا گویا تمام انسانیت کو بچا لینا ہے‘‘ ( سورہ المائدہ)۔
حضور نبی اکرمؐ نے خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے فرمایا:’’ اے کعبہ! تو کتنا عمدہ ہے اور تیری خوشبو کتنی پیاری ہے، تو کتنا عظیم المرتبت ہے اور تیری حرمت کتنی زیادہ ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! مومن کے جان و مال کی حرمت اللہ کے نزدیک تیری حرمت سے زیادہ ہے‘‘۔
عام طور پر جدید معاشرے کو سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کا مجموعہ سمجھا جاتا ہے ۔ اس سوچ نے انسان کو مادہ پرست بنا دیا ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کے حق میں ہے۔ غزہ میں نسل کشی اور اب ایران پر چڑھائی کے بعد جہاں مغربی حکمرانوں کی جمہوریت ، انسانیت اور انصاف پسندی کا چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے وہیں مسلم حکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی نے ان کی بزدلی ، نااہلی اور اقتدار سے چمٹے رہنے کی خواہش کا چہرہ بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ ہم تمامتر الزام مغرب پر ڈال کر بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ فرقہ پرستی اور شدت پسندی نے بھی مسلمانوں کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ اسلامی تعلیمات کی روح تک پہنچنے کی بجائے ظواہر پر زیادہ توجہ دی گئی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں نے جہد مسلسل کی جگہ ذکر و اذکار پر زیادہ انحصار کرنا شروع کر دیا۔ دنیاوی طور پر اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ دینی طبقے کے ظاہری حلیہ اور سوچ سے خوفزدہ ہے۔ مسلمان ہونے کا یہ مطلب تو ہرگز نہیں کہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں سے نفرت کی جائے۔ وہ بھی ہمارے حسن سلوک کے اتنے ہی مستحق ہیں جتنا کہ مسلمان۔ مسلمان ہونے کا یہ مطلب بھی نہیں کہ مولوی والا حلیہ اختیار کیا جائے۔ اسلام نے لباس سے متعلق سادگی، صفائی اور تکبر سے بچنے کی تعلیم دی ہے اور لباس کے دو اہم اصولوں ستر پوشی اور موسمی اثرات سے محفوظ رہنا فطری تقاضہ ہے۔ پینٹ شرٹ پہننے سے کسی مسلمان کے اسلام میں کوئی کمی نہیں آجاتی ہے۔ جس طرح مرد و عورت کی جسمانی ساخت جدا ہے بعینہ ان کا لباس بھی جدا ہو گا۔ ستر پوشی سے استثناء جانوروں کو حاصل ہے، انسانوں کو نہیں۔ ایسا لباس جس سے ستر پوشی نہ ہو سکے، انسان کو جانوروں کی صف میں لاکھڑا کر دیتا ہے۔
ہاں اگر کوئی انسان ظلم کا ساتھ دیتا ہے اور انصاف کے ساتھ کھڑا نہیں ہوتا ہے تو وہ آج کے دور میں رہ کر بھی زمانہ جاہلیت میں زندگی گزار رہا ہے، چاہے اس نے امریکہ اور یورپ کی نامور یونیورسٹیوں سے اعلیٰ ترین ڈگریاں ہی کیوں نہ حاصل کر رکھی ہوں۔ غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کے موقع پر یورپ ، امریکہ اور اسلامی دنیا کے بیشتر حکمران زمانہ جاہلیت کی یاد تازہ کر رہے تھے جبکہ یورپ اور امریکی عوام نے ظلم کے خلاف اور انصاف کے ساتھ کھڑے ہو کر جدید معاشرے کا احساس دلایا۔
ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے معاملے میں پاکستانی عوام نے ظلم کے خلاف اور انصاف کے ساتھ کھڑے ہو کر جدید تہذیب یافتہ (Modern Civilization)ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ ڈاکٹر عافیہ 23سال سے بہیمانہ اور انسانیت سوز تشدد برداشت کر رہی ہے۔ وہ انسانی کردار کو پرکھنے کی کسوٹی بن گئی۔ جدید معاشرہ سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی سے بلکہ معاشرے میں انصاف قائم کرنے سے تشکیل پاتا ہے۔ یہ بات اگر حکمرانوں کی سمجھ میں آگئی تو دنیا امن کا گہوارہ بن جائے گی اور عافیہ اور عافیہ جیسے مظلوموں کو انصاف ملے گا۔ پاکستان کے حکمران بھی دور جاہلیت میں زندگی گزار رہے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button