جذباتی بیانیہ یا عملی سیاست؟ ایران کے فیصلوں کا تنقیدی جائزہ

جذباتی بیانیہ یا عملی سیاست؟ ایران کے فیصلوں کا تنقیدی جائزہ
خصوصی تجزیہ: نایاب جاوید
مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک نہایت نازک اور خطرناک صورتحال سے گزر رہا ہے۔ ایران کی جانب سے امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کے دعوے اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پورے علاقے کو غیر یقینی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ خاص طور پر وہ امریکی اڈے جو مسلم ریاستوں جیسے قطر، کویت اور ابوظہبی میں قائم ہیں، اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ یہ معاملہ صرف ایران اور امریکہ کے درمیان طاقت کے اظہار تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات پورے خطے، مسلم دنیا اور عالمی معیشت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
ایران اپنے اقدامات کو عموماً مزاحمت اور فلسطین کی حمایت کے تناظر میں پیش کرتا ہے، خاص طور پر غزہ میں جاری طویل جنگ کے پس منظر میں۔ ایران کا موقف یہ رہا ہے کہ وہ خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔ تاہم یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایران مسلم ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بناتا ہے تو کیا وہ دراصل انہی ریاستوں کو خطرے میں نہیں ڈال رہا؟ کیونکہ اگر امریکہ جوابی کارروائی کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ وہ ممالک بھی عدم استحکام کا شکار ہو سکتے ہیں جہاں امریکی افواج موجود ہیں۔ امریکہ ماضی میں ایسے حملوں پر سخت ردعمل دیتا رہا ہے۔ اگر ایران براہ راست امریکی مفادات کو نشانہ بناتا ہے تو امریکہ کے پاس مختلف راستے موجود ہو سکتے ہیں، جیسے فوجی تنصیبات پر جوابی حملہ، معاشی پابندیوں میں اضافہ، سفارتی دبائو یا محدود لیکن طاقت کا اظہار کرنے والی کارروائی۔ امریکہ مکمل جنگ سے گریز بھی کر سکتا ہے کیونکہ ایک وسیع جنگ عالمی تیل منڈی، تجارت اور مالیاتی نظام کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔
مسلم ریاستوں کا کردار اس پوری صورتحال میں نہایت اہم مگر پیچیدہ ہے۔ غزہ میں طویل عرصے تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران زیادہ تر مسلم ممالک نے براہ راست فوجی مداخلت سے گریز کیا۔ بیانات، ہمدردی اور سفارتی کوششیں ضرور دیکھنے میں آئیں، مگر عملی طور پر کسی نے کھلی جنگ کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ اس پس منظر میں اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کھلا تصادم ہوتا ہے تو یہ سوال اہم ہے کہ کیا کوئی مسلم ملک ایران کے دفاع میں آگے بڑھے گا؟ حقیقت یہ ہے کہ خلیجی ریاستوں کی معیشت مغربی طاقتوں سے جڑی ہوئی ہے، کئی ممالک میں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں اور علاقائی طاقت کا توازن نہایت نازک ہے۔ اگر کوئی ملک ایران کی کھلی حمایت کرتا ہے تو اسے معاشی، سیاسی اور سلامتی کے بڑے نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایران کے لیے بھی یہ صورتحال اسٹریٹجک لحاظ سے نہایت حساس ہے۔ مسلسل کشیدگی اور ممکنہ جنگ ایرانی معیشت پر مزید دبائو ڈال سکتی ہے، اندرونی سیاسی استحکام متاثر ہو سکتا ہے اور عالمی سطح پر تنہائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ جذباتی بیانیہ وقتی طور پر حمایت پیدا کر سکتا ہے، لیکن عملی سیاست میں طاقت کا توازن، معاشی مفادات اور سفارتی تعلقات زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔
عالمی حالات بھی اس کشیدگی کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔ بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی رقابت، توانائی کے بحران کا خدشہ اور عالمی معیشت کی غیر یقینی کیفیت اس امکان کو تقویت دیتی ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں بڑی جنگ چھڑتی ہے تو اس کے اثرات پوری دنیا تک پھیلیں گے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، تجارتی راستوں میں رکاوٹ اور عالمی مالیاتی دبائو ایک نئے بحران کو جنم دے سکتے ہیں۔
تنقیدی طور پر دیکھا جائے تو طاقت کے اظہار اور براہ راست تصادم کے بجائے سفارتی حکمت عملی زیادہ موثر ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر ایران واقعی فلسطین کے مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا چاہتا ہے تو اسے سفارتی اتحاد، عالمی قانونی فورمز اور سیاسی دبائو کے راستے کو ترجیح دینی چاہیے۔ اسی طرح مسلم ریاستوں کو بھی محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی تاکہ خطہ کسی نئی تباہ کن جنگ سے محفوظ رہ سکے۔
آخرکار اصل سوال یہ نہیں کہ کون زیادہ طاقتور ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا خطہ مزید تباہی کا متحمل ہو سکتا ہے؟ اگر دانشمندی، تحمل اور سفارت کاری کو ترجیح نہ دی گئی تو مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر بڑی طاقتوں کے تصادم کا میدان بن سکتا ہے اور اس کا سب سے زیادہ نقصان عام عوام کو برداشت کرنا پڑے گا۔





