مسلمان حکمرانوں اپنی آنکھیں کھولو

مسلمان حکمرانوں اپنی آنکھیں کھولو !
شاہد ندیم احمد
امر یکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران پر حملہ کر دیا، امریکی صدر پچھلے کئی ہفتوں سے ایران پر حملوں کی دھمکیاں دے رہے تھے، امریکہ نے ایران کے گرد اپنی عسکری قوت کو بھی بہت بڑے پیمانے پر جمع کر لیا تھا، مگر امریکہ اور ایران میں جوہری معاملات پر مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری تھا، جس کے عمان میں ہونے والے پہلے دور کے بعد حالیہ دنوں فریقین کے سفارتی نمائندے جنیوا میں مذاکرات میں مصروف تھے اور ان دو نوں مذاکراتی ادوار کا نتیجہ تسلی بخش قرار دیا جارہا تھا، لیکن یہ کچھ دیر بعد ہی یکطرفہ جارحیت میں بد ل گیا، اسرائیل اور امریکہ نے مل کر ایران پر حملہ تو کر دیا ۔ لیکن یہ حملہ جہاں مشرق وسطیٰ کے امن کیلئے دیرپا خطرہ ثابت ہو گا ، وہیں مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے تنازعات کو حل کرنے کے امکانات کو بھی تہس نہس کر دے گا۔
دنیا بھر میں سفارتکاری اور ثالثی سے ہی مسائل کے حل کی کوشش اقوام عالم کا ایک آزمودہ اور سب سے کارآمد ذریعہ سمجھا جاتا ہے، مگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں امریکہ کی جانب سے دوسری بار مذاکرات کو بیچ میں چھوڑ کر حملہ کر دینے کے عمل نے دنیا میں ایسی خوفناک مثال قائم کر دی ہے، جوکہ عالمی امن کیلئے نہایت خوفناک اثرات کی حامل ثابت ہو سکتی ہے، اس طرز عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا عملی طور پر کسی نظم کے ماتحت نہیں رہی ہے، بلکہ جس کی لاٹھی اس کی ہی بھینس کا دستور فرمانِ امروز ہو گیا ہے اور اس دستور کے خلاف کوئی آواز اُٹھا رہا ہے نہ ہی کوئی بدلنے کے اقدام کر رہا ہے، بلکہ اس دستور کا ہی ساتھ دیا جارہا ہے۔
اس وقت اقوام متحدہ جیسے بڑے اداروں کی بڑی ذمہ داری ہے کہ اپنا کردار ادا کریں ، لیکن اقوام متحدہ بھی امر یکہ اسرائیل کے سامنے بے بسی کی تصور بنی ہوئی ہے، یہ اقوام متحدہ کے غیر فعال ہونے کی بڑی دلیل ہے، دوسری عالمی جنگ کے بعد اس عالمی ادارے کو اس مقصد سے قائم کیا گیا تھا کہ دنیا کو نظم و ضبط اور قاعدہ قانون کے ساتھ چلانے کا نظام وضع کیا جائے، تا کہ پہلی اور دوسری عالمی جنگ کی بربادیوں سے نکلنے والی دنیا کو تحفظ کے احساس کے ساتھ نئی شروعات کا موقع مل سکے، مگر اب تو یوں لگ رہا ہے کہ جیسے با اثر اقوام عالم کو اس میں کوئی دلچسپی ہی نہیں ہے، اقوام عالم کا بااثر ادارہ تو اب صرف اظہار مذمت کیلئے ہی رہ گیا ہے، جو کہ عالمی امن اور انسانی آبادیوں کیلئے نہایت خطرے کی بات ہے۔
ایران پر اسرائیل اور امریکی حملوں میں ایک تیر سے کئی شکار کیے جارہے ہیں، ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیلی حملے کے جواب میں بالکل واضح تھا کہ ایران خطے کے ممالک میں امریکی اڈوں پر حملے کرے گا اور ایر ان ایسا ہی کچھ کر رہا ہے، اس سے خطے کے چار، پانچ ممالک میں امریکی اڈوں پر حملوں کے نتیجے میں ایران اور خلیجی عرب ممالک میں اعتماد کا جہاں بحران شدت اختیار کر ے گا ، وہاں اختلاف بھی بڑھے گا، جو کہ ایران کے ہمسائیہ ممالک کے بیانات سے بڑے واضح انداز میں سامنے آرہا ہے ، ایران سے کہاں جارہا ہے کہ ایران اپنے حواس پر قابو رکھے اور اپنے ہمسائیہ ممالک کو نشانہ نہ بنائے، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اسلامی ممالک کے امتحان کا وقت ہے، اس وقت سارے اسلامی ممالک کو ایران کے ساتھ ہی کھڑے ہو نا چاہئے اور ایران کا ہی ساتھ دینا چاہئے، اگر آج اسلامی دنیا نے ایران کا ساتھ نہ دیا تو پھر کوئی ایک دوسری کا ساتھ نہیں دے پائے گا۔
اگر دیکھا جائے تو امر یکہ اسرائیل کا ایران پر حملہ دراصل پوری امت ِ مسلمہ کے لیے ایک انتباہ ہے، مگر کہیں سے کوئی مضبوط اجتماعی ردعمل سامنے نہیں آ رہاہے، سارے اسلامی ممالک کی جانب سے چند رسمی بیانات اور تشویش کے اظہار سے آگے کوئی قدم نہیں اٹھایا جا رہا ہے، جبکہ سارے ہی اسلامی ممالک کے عوام سراپا احتجاج ہیں، اس سے امریکہ اور اسرائیل کے جارحانہ انداز میں مزید اضافہ ہورہا ہے، اس نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو بھی شہید کر دیا ہے، ایران نے خامنہ ای کی شہادت کا بدلہ لینے کا اعلان کیا اور واضح کیا ہے کہ اسرائیلی اور امریکی اڈوں پر حملوں کی نئی لہر شروع کی جائے گی، اس بد لتی صورتحال کو دیکھتے ہوئے مسلمان حکمرانوں کو اپنی آنکھیں کھولنا ہوں گی اور امر یکہ، اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہو نے کے بجائے ایران کے ساتھ کھڑا ہو ناہو گا اگر اس جنگ میں آج ایران تنہا کھڑا رہا تو کل کوئی اور ملک ہوگا، کیو نکہ امریکا کسی کا بھی مستقل دوست نہیں ہے، اس کے جو آج اتحادی ہیں، وہی کل اس کے نشانے پر ہوں گے۔





