Column

آزاد جموں و کشمیر کو کیسی قیادت درکار ہے؟

آزاد جموں و کشمیر کو کیسی قیادت درکار ہے؟
حرفِ صداقت
محمد اکرم رضوی
muhammadakramrizvi@gmail.com
آزاد جموں و کشمیر کا صدارتی انتخاب بظاہر ایک آئینی تقاضا ضرور ہے، مگر موجودہ علاقائی اور عالمی حالات میں یہ فیصلہ محض رسمی کارروائی تک نہیں رہنا چاہیے، جنوبی ایشیا کے تیزی سے بدلتے جغرافیائی و سیاسی حالات، عالمی طاقتوں کے مفادات کی نئی صف بندی، اور انسانی حقوق کے مباحث نے اس منصب کی اہمیت کو پہلے سے کہیں زیادہ بڑھا دیا ہے۔ ایسے میں یہ سوال فطری ہے کہ ریاست کے سربراہ کے طور پر کس نوعیت کی شخصیت زیادہ موثر ثابت ہو سکتی ہے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ صدر کے منصب کو محض داخلی سیاسی توازن یا جماعتی مفاہمت کے زاویے سے نہ دیکھا جائے، بلکہ اسے عالمی سطح پر ریاستی نمائندگی کے ایک فعال مرکز کے طور پر سمجھا جائے۔ آئینی طور پر صدر ریاست کی وحدت اور وقار کی علامت ہوتا ہے، مگر عملی طور پر یہ منصب کشمیری عوام کے مقف کو بین الاقوامی سطح پر پیش کرنے کا ایک اہم ذریعہ بھی سمجھا جاتا ہے۔
عالمی سیاست کا مزاج اب تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ آج سفارت کاری صرف بند کمروں میں ہونے والی ملاقاتوں تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ میڈیا، تھنک ٹینکس، عالمی عدالتوں، انسانی حقوق کے اداروں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک پھیل چکی ہے۔ ایسے ماحول میں ایک ایسا صدر جو بین الاقوامی قانون، سفارتی آداب، عالمی تنظیموں کے طریقۂ کار اور جدید سفارتی حکمتِ عملی سے واقف ہو، ریاست کے لیے کہیں زیادہ سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔
خاص طور پر اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں کے ساتھ موثر رابطہ کاری کی صلاحیت آج ناگزیر ہو چکی ہے۔ مسئلہ کشمیر کئی دہائیوں سے عالمی فورمز پر زیرِ بحث رہا ہے، مگر بیانیے کی جنگ مسلسل جاری ہے۔ اس تناظر میں ایسی قیادت جو قراردادوں، انسانی حقوق کے عالمی معاہدوں اور سفارتی زبان کی باریکیوں کو سمجھتی ہو، ریاستی موقف کو مزید زیادہ مدلل اور موثر انداز میں پیش کر سکتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی میں صدارتی منصب بعض اوقات داخلی سیاسی وفاداریوں کے صلے کے طور پر دیکھا جاتا رہا۔ جمہوری نظام میں سیاسی عمل اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے، مگر ایوانِ صدر کی ذمہ داری ایک وسیع تر وژن کا تقاضا کرتی ہے۔ ریاستی سربراہ کو جماعتی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر تمام مکاتبِ فکر کی نمائندگی کرنی ہوتی ہے اور عالمی سطح پر ریاست کا باوقار چہرہ بننا ہوتا ہے۔
کشمیر کا معاملہ محض علاقائی سیاست کا موضوع نہیں بلکہ انسانی حقوق، حقِ خودارادیت اور بین الاقوامی قانون کے مباحث سے جڑا ہوا ہے۔ جب دنیا میں انسانی حقوق کے مسائل پر آوازیں اٹھتی ہیں تو ان کی گونج عالمی اداروں تک پہنچتی ہے۔ اگر ریاست کا صدر خود اس نظام کی باریکیوں سے آگاہ ہو تو وہ کشمیری عوام کی آواز کو بہتر انداز میں عالمی ضمیر تک پہنچا سکتا ہے۔
عالمی دارالحکومتوں میں مثر رسائی اور سفارتی حلقوں میں مثبت ساکھ بھی ایک اہم عنصر ہے۔ ایک تجربہ کار سفارتی شخصیت نہ صرف سرکاری سطح پر بلکہ غیر سرکاری سطح پر بھی روابط قائم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تھنک ٹینکس، جامعات، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور میڈیا ہائوسز آج عالمی رائے سازی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسے پلیٹ فارمز پر متحرک اور مدلل موجودگی ریاست کے بیانیے کو مضبوط بنا سکتی ہے۔
ڈیجیٹل سفارت کاری اکیسویں صدی کا ایک نمایاں پہلو ہے۔ سوشل میڈیا، آن لائن کانفرنسز اور عالمی مباحثوں میں شرکت کے ذریعے ریاستی موقف کو فوری اور وسیع پیمانے پر پہنچایا جا سکتا ہے۔ ایک ایسا صدر جو جدید ذرائع ابلاغ سے واقف ہو اور عالمی سطح پر مکالمہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو، وہ کشمیری بیانیے کو زیادہ موثر انداز میں پیش کر سکتا ہے۔
بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مضبوط روابط نہ صرف سیاسی بلکہ سماجی اور معاشی فوائد بھی لا سکتے ہیں۔ ترقیاتی منصوبوں، تعلیمی تبادلوں، انسانی امداد اور ماحولیاتی پروگراموں میں شمولیت کے مواقع بڑھ سکتے ہیں۔ ایک باوقار اور غیر متنازع سفارتی قیادت ان امکانات کو حقیقت کا روپ دینے میں مددگار ہو سکتی ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ صدارتی امیدوار کی شخصیت اعتدال، سنجیدگی اور وقار کی حامل ہو۔ عالمی سطح پر گفتگو کرتے وقت الفاظ کا انتخاب، لہجے کی شائستگی اور دلیل کی مضبوطی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سفارت کاری میں جذبات کے بجائے حکمت، تسلسل اور صبر کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ایسی صفات رکھنے والی قیادت ہی ریاست کے مفاد میں بہتر نتائج لا سکتی ہے۔
آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے اراکین کے لیے یہ انتخاب محض ایک آئینی تقرری نہیں ہونا چاہیے بلکہ حکمتِ عملی کا فیصلہ ہے۔ انہیں یہ طے کرنا ہے کہ آیا صدر کا منصب صرف رسمی کارروائیوں تک محدود رہے گا یا اسے عالمی سطح پر فعال اور موثر بنایا جائے گا۔ اگر انتخاب کا معیار تجربہ، عالمی وژن اور سفارتی مہارت کو بنایا جائے تو یہ پیغام اندرون و بیرون ملک دونوں جگہ مثبت انداز میں لیا جائے گا۔
کشمیر کے عوام ایک ایسی آواز کے مستحق ہیں جو مقامی سطح پر بھی متحد کرے اور عالمی سطح پر بھی سنی جائے۔ ایک باصلاحیت سفارتی شخصیت اس پل کا کردار ادا کر سکتی ہے جو مظفرآباد کو عالمی ایوانوں سے جوڑ دے۔ اس طرح ریاست کا وقار بھی بلند ہوگا اور کشمیری عوام کا موقف بھی زیادہ موثر انداز میں دنیا کے سامنے آئی گا۔ صدارتی منصب کی اصل روح ریاستی وقار، اتحاد اور عالمی نمائندگی ہے۔ بدلتے ہوئے عالمی حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ قیادت کا معیار بھی اسی سطح کا ہو۔ اگر انتخاب کے عمل میں دور اندیشی، اعتدال اور قومی مفاد کو ترجیح دی جائے تو یہ قدم آزاد جموں و کشمیر کے مستقبل کے لیے ایک مثبت سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ آج کی ضرورت ایسی قیادت ہے جو سیاست کی روایتی حد بندیوں سے آگے بڑھ کر سفارت کاری کے میدان میں ریاست کی موثر نمائندگی کر سکے۔ ایک تجربہ کار، باوقار اور عالمی شعور رکھنے والی سفارتی شخصیت آزاد جموں و کشمیر کو نہ صرف داخلی استحکام دے سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مضبوط اور سنجیدہ آواز فراہم کر سکتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button