
اطلاعات کے مطابق ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں پر مجموعی اخراجات کا تخمینہ تقریباً 194 سے 391 ملین ڈالر لگایا گیا ہے۔ اس میں 174 سے 348 ملین ڈالر بیلسٹک میزائلوں پر خرچ ہوئے، جب کہ 689 شاہد ڈرونز پر 13.8 سے 34.5 ملین ڈالر اور کروز میزائلوں پر تقریباً 6 سے 9 ملین ڈالر لاگت آئی۔
ڈرونز کی قیمت کا اندازہ فی یونٹ 20 ہزار سے 50 ہزار ڈالر کے درمیان لگایا گیا ہے، جس کی بنیاد Center for Strategic and International Studies (سی ایس آئی ایس) کی رپورٹ پر رکھی گئی ہے۔
اس کے برعکس متحدہ عرب امارات کے دفاعی اخراجات کہیں زیادہ سامنے آئے ہیں۔ بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کے لیے استعمال ہونے والا ہر PAC-3 MSE انٹرسیپٹر میزائل 3 سے 5 ملین ڈالر کا بتایا جاتا ہے، جیسا کہ Missile Defense Advocacy Alliance کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے۔
صرف بیلسٹک میزائلوں کے خلاف کارروائی میں 152 انٹرسیپٹس کیے گئے، اور ہر ہدف کے خلاف دو میزائل داغے گئے، جس کے نتیجے میں مجموعی لاگت 966 ملین سے 1.61 ارب ڈالر تک جا پہنچی۔ ڈرونز کے خلاف دفاعی کارروائی نے مزید اخراجات میں اضافہ کیا۔ اوسطاً 5 لاکھ سے 15 لاکھ ڈالر مالیت کے انٹرسیپٹرز کے ذریعے 506 ڈرونز کو مار گرایا گیا، جس پر تقریباً 322.5 سے 967.5 ملین ڈالر خرچ ہوئے۔
یوں متحدہ عرب امارات کے فضائی دفاعی اخراجات کا مجموعی تخمینہ اب تک 1.31 سے 2.61 ارب ڈالر کے درمیان لگایا جا رہا ہے، جو ایران کے حملوں پر ہونے والے خرچ سے تقریباً تین سے تیرہ گنا زیادہ ہے۔ خاص طور پر ڈرونز کے معاملے میں اندازہ ہے کہ ایران کے ہر ایک ڈالر کے خرچ کے مقابلے میں امارات کو 15 سے 35 ڈالر تک دفاع پر خرچ کرنا پڑے، جو مالی عدم توازن کی شدت کو واضح کرتا ہے۔
*خلیجی ریاستوں پر بڑھتا ہوا دفاعی دباؤ*
متحدہ عرب امارات کے علاوہ قطر، سعودی عرب، کویت، اردن اور بحرین کو بھی اسی نوعیت کے چیلنج کا سامنا ہے۔ یہ تمام ممالک THAAD اور پیٹریاٹ PAC-3 جیسے جدید دفاعی نظاموں پر انحصار کرتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایران کی جانب سے مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں کی صورت میں اس بلند رفتار دفاعی حکمتِ عملی کو برقرار رکھنے کی مالی قیمت کیا ہوگی۔
قطر، جہاں خطے کا سب سے بڑا امریکی فوجی اڈہ Al Udeid Air Base قائم ہے، نے 65 بیلسٹک میزائل اور 12 بغیر پائلٹ طیاروں کو مار گرانے کی اطلاع دی، جس پر 500 سے 700 ملین ڈالر تک لاگت آنے کا اندازہ ہے۔
مزید اطلاعات کے مطابق قطر نے 72 بیلسٹک میزائل، 17 ڈرونز اور دو SU-24 طیاروں کو بھی نشانہ بنایا، جس پر 600 سے 900 ملین ڈالر خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ سعودی عرب نے پانچ ڈرونز کو تباہ کیا، جس کی لاگت تقریباً 10 سے 20 ملین ڈالر بتائی گئی۔
کویت نے کہا کہ اس کے Ali Al Salem Air Base پر حملہ کیا گیا، جہاں امریکی فضائیہ بھی تعینات ہے۔ کویتی فضائی دفاع نے 97 بیلسٹک میزائل اور 283 ڈرونز کو ناکارہ بنایا، جس پر 800 ملین سے 1.5 ارب ڈالر تک خرچ آنے کا اندازہ ہے۔
بحرین نے 45 میزائل اور نو ڈرونز، جن میں شاہد-136 طرز کے ڈرون بھی شامل تھے، کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا، جس کی لاگت 337 سے 450 ملین ڈالر بتائی گئی۔ اسی طرح اردن کے فضائی دفاعی نظام نے 49 ڈرونز اور 13 بیلسٹک میزائلوں کو مار گرایا، جس پر 300 سے 375 ملین ڈالر تک اخراجات کا اندازہ ہے۔
خلیجی ممالک گزشتہ ایک دہائی سے اہم شہروں، بنیادی ڈھانچے اور فوجی تنصیبات کے تحفظ کے لیے ریڈار نیٹ ورکس، انٹرسیپٹر میزائلوں اور کمانڈ سسٹمز پر اربوں ڈالر خرچ کر چکے ہیں۔ تاہم ہر فائر کیا جانے والا انٹرسیپٹر ایک ایسا وسیلہ ہے جسے فوری طور پر دوبارہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اگر حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو ان ممالک کے میزائل ذخائر تیزی سے کم ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ ہفتے کے روز امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر بڑے پیمانے پر حملہ کیا، جس میں ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا گیا، جن میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی شامل تھے۔







