ColumnTajamul Hussain Hashmi

ایران کیا سوچ رہا ہے؟

ایران کیا سوچ رہا ہے؟
تحریر: تجمّل حسین ہاشمی
اس وقت خطے میں جنگ کی کیفیت بدستور برقرار ہے۔ عالمی طاقتوں کی سخت پابندیوں، دبائو اور مسلسل حملوں کے باوجود ایران آج بھی مزاحمت کی علامت بنا ہوا ہے۔ سینئر کالم نگار شیراز پراچہ نے لکھا کہ ایران کا پہلا قصور کیا ہے ؟ ۔
ایران کا پہلا قصور یہ ہے اس نے فلسطین پر اسرائیل قبضے کے خاتمے کے لئے زبانی جمع خرچ کی بجائے فلسطین کے جو لوگ مزاحمت میں آگے تھے ان کی عملی مدد کی کوشش کی۔ ایران نے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور صیہونی بلا دستی کو تسلیم نہیں کیا، ان کی وجہ سے پچھلے 47سال سے ایران پر پابندیوں ہیں۔ ایران اگر سعودی عرب، متحدہ امارات ، بحرین، کویت، قطر یا اردن بننے کو تیار ہو جائے تو ایران کے مسائل ختم ہو سکتے ہیں، تاہم مشرق وسطیٰ میں ایسا امن وقتی ہوگا، کیونکہ اسرائیل اور امریکہ پورے مشرق وسطیٰ پر قبضہ کر کے گریٹر اسرائیل قائم کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے وہ کچھ بھی کر گزرنے کو تیار ہیں۔ مشرق وسطیٰ کو آگ میں دھکیل دیا ہے، ایران پر جنگی حملوں میں سپریم لیڈر کو نشانہ بنایا گیا، جو کسی بنکر یا حفاظتی حصار میں بھی نہیں تھے۔ یہ واقعہ دنیا بھر میں تشویش کا باعث بن چکا ہے۔ کیوں اسرائیل اور امریکہ اپنی طاقت کے زور پر کمزور ممالک پر قابض ہونا چاہتا ہے۔ اس پر پوری دنیا میں تشویش ہے، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کو ایرانی قوم و مسلمان غیر معمولی جرات اور قربانی کی علامت سمجھ رہے ہیں۔ ان کی پوری زندگی حق، مزاحمت اور اصولوں پر قائم رہنے کی مثال تھی۔ ایرانی سینئر صحافی جون حسین نے پاکستانی نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا خیال تھا کہ حملوں کے بعد ایرانی عوام مزاحمت نہیں کریں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی بھی ایسی سوچ تھی، جس کا اظہار بھی کیا گیا، لیکن حقیقت اس کے برعکس نکلی ہے۔ عوام بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور اپنے رہنما کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کر رہے ہیں۔ چاروں طرف بدلے لینے کی آوازیں ہیں۔ جون حسین کے مطابق جب ابتدائی طور پر یہ خبر آئی کہ آیت اللہ خامنہ ای محفوظ ہیں تو کسی کو تشویش نہ ہوئی، لیکن جب شہادت کی تصدیق ہوئی تو پورے ملک میں صدمے کی لہر دوڑ گئی۔ لوگ گھروں سے نکل آئے، سڑکوں پر جمع ہوئے اور ہر طرف ایک ہی آواز سنائی دے رہی تھی : ’’ ایران کو بدلہ لینا ہوگا‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران تہران سمیت مختلف شہروں میں فضائی حملے اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں، لیکن عوام کو نہ اپنی جان کی پروا ہے اور نہ روزمرہ زندگی کی پروا ہے۔ اس وقت پورے ملک میں صرف مزاحمت اور جواب دینے کی آوازیں ہیں۔
بظاہر جون 2025ء میں ہونے والے حملوں کے بعد ایرانی حکام کو خطرات کا اندازہ تھا اور متعدد بریفنگز بھی دی گئی تھیں، اس کے باوجود سکیورٹی میں خامیاں سامنے آئی ہیں۔ کچھ سرکاری ذرائع کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای نے خود بھی اضافی حفاظتی اقدامات سے گریز کیا تھا اور اپنی زندگی کو خدا کی امانت سمجھتے تھے۔ اگرچہ ان کی شہادت کو ایک عظیم مرتبہ قرار دیا جا رہا ہے، لیکن عوام ہرگز یہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ اس طرح دنیا سے رخصت ہوں۔ اسرائیل کا ان کو نشانہ بنانے کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ ان کی شہادت کے بعد ایران خاموش ہو جائے گا اور رجیم چینج ممکن ہو گا اور جوابی کارروائی نہیں کرے گا۔ مگر یہ اندازہ مکمل طور پر غلط ثابت ہوا۔ ان کی شہادت کے بعد ایران کا ردِعمل مزید مضبوط اور منظم ہو گیا ہے۔ جس ملک کی قوم اپنے حق کیلئے کھڑی ہو جائے تو اسے پھر بموں، دھماکوں سے ڈر نہیں لگتا۔ اس وقت ایرانی قوم متحد ہے، جو اسرائیل اور امریکا کے لیے بڑی تشویش کا باعث ہو گی، ایران کی جنگی مضبوطی آنے والوں دنوں میں امریکا کیلئے ناکامی کا باعث ہو گی۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے مختلف امریکی فوجی اڈوں پر حملے کئے، بحری راستوں کو روکا ہے ۔ اس کا مقصد واضح پیغام دینا تھا کہ ایران دبائو میں آ کر پیچھے ہٹنے والا نہیں۔ 47سال ایران دبائو میں گزار کر چکا ہے۔ بظاہر امریکہ نے اس جنگ کے ذریعے وقتی فائدہ تو شاید حاصل کیا ہو گا، لیکن طویل المدتی طور پر اس نے عالمی سطح پر اپنی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور دنیا بھر کو اپنے خلاف کھڑا کر لیا ہے، مذاکرات، وعدوں اور عالمی قوانین کی اہمیت کو نظرانداز کر کے ایک خطرناک عمل کیا ہے۔
یہ رویہ دنیا، خاص کر اسلامی ممالک کے لیے تشویشناک ہے کہ طاقت کے بل پر کسی بھی ملک کی قیادت کو نشانہ بنا کر اس کو غلامی میں لے جایا جائے ۔ ایران اس طرزِعمل کو کسی صورت قبول کرنے کو تیار نہیں۔ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت نے ایرانی قوم کو کمزور کرنی کے بجائے مزید متحد کر دیا ہے۔ آج ایران میں غم کے ساتھ ساتھ عزم، غیرت اور مزاحمت کا جذبہ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط نظر آتا ہے، اور آنے والے دنوں میں خطے کی سیاست پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ اسلامی ممالک خاص کر پاکستان کا کردار بھی اہم ہے، پاکستان کی دفاعی صورت حال کا دنیا بھر کو بخوبی علم ہے اور پاکستانی قوم اپنی افواج کے ساتھ شانہ با شانہ کھڑی ہے، میڈیا پر سائبر حملوں پر جاری پیغامات سے کچھ فرق نہیں پڑتا، یہ کوئی گڈی گڈے کا ملک نہیں، ایک تسلیم شدہ ایٹمی طاقت رکھنے والا مضبوط ملک ہے۔ باقی ڈی جی آئی پی آر نے انٹر نیشنل میڈیا کو اپنی مضبوطی کی واضح تشریح کر دی ہے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔ کسی بھول میں مت رہنا، گزشتہ 20سال میں امریکا افغانستان کا کچھ نہیں کر سکا، لیکن افواج پاکستان نے چار دن میں ان کو ناکوں چنے چبوا دئیے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button