ColumnImtiaz Aasi

مشرق وسطیٰ سے امریکیوں کا انخلاء

مشرق وسطیٰ سے امریکیوں کا انخلاء
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد ایران کے مشرق وسطیٰ میں قائم امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے سے امریکیوں کا انخلاء شروع ہو چکا ہے۔ گو ایران کے پاس فضائیہ کا فقدان ہے تاہم قوت ایمانی اور میزائلوں کی بھرمار نے امریکیوں کو واپسی پر مجبور کر دیا ہے۔ عجیب تماشا ہے اسرائیل ایران پر دوسری مرتبہ حملہ آور ہوا ہے، دنیا کے ستاون مسلمان ملک تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ خلیجی ملکوں کو دیکھئے امریکی خوف کے مارے انہیں اڈے فراہم کئے ہوئے ہیں۔ اب امریکہ افغانستان میں قائم بگرام ایئر بیس لینے کا خواہاں ہے۔ افغانستان سے ریاست پاکستان میں دہشت گردی کوئی نئی بات نہیں تھی وہ تو کئی سال سے ہورہی ہے۔ افغان طالبان نے بگرام ایئر بیس واپس دینے سے انکار کیا تو پاکستان بھی افغانستان پر چڑھ دوڑا ہے، حالانکہ یہ کام تو ہمیں بہت پہلے کرنا چاہیے تھا۔ ہمیں تو سمجھ نہیں آتی مسلمان ملکوں کی قرآن نے واضح طور پر کہہ دیا ہے یہود و نصاریٰ مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے، اس کے باوجود یہود کا دم چھلا بنے ہوئے ہیں۔ اسرائیل ایٹم بم بنا لئے تو ٹھیک ہے، ایران یورینیم کی افزودگی کرے تو غلط ہے۔ یہی تو اسلام دشمن طاقتوں کا دوہرا معیار ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اسلامی بلاک بنانے کی کوشش کی تو تختہ دار پر چڑھا دیا گیا، پھر یکے بعد دیگرے شاہ فیصل اور صدام حسین کو بھی ٹھکانے لگوا دیا۔ چلیں پاکستان تو قرضوں سے چل رہا ہے، ہماری معاشی حوصلہ افزا نہیں، عربوں کو کیا ہوگیا، تیل کی دولت سے مالا مال ہونے کے باوجود امریکیوں کے زیر اثر ہیں؟۔ پاکستان افغانستان کے خلاف جو اقدام اب کر رہا ہے یہ تو بہت پہلے ہو جاتا تو کم از کم دہشت گردی کا خاتمہ ممکن تھا۔ اسرائیلی وزیر اعظم کا پرانا بیان پڑھ لیں، ایران کے بعد پاکستان کی باری ہے، جو ہماری آنکھیں کھولنے کے لئے کافی تھا۔ ایران وہی ملک ہے 1965ء کی پاک، بھارت جنگ میں ہمارے جہاز تہران کے ہوئی اڈے سے فیول لے کر بھارت پر حملہ آور ہوتے تھے۔ اگرچہ ایران کے ساتھ پاکستان کی دوستی میں وہ پہلے والی گرمجوشی تو نہیں پھر بھی ہمارا ہمسایہ اور مسلمان ملک ہے۔ افغانستان کے ساتھ حالات اور کشیدہ ہو چکے ہیں، داخلی امن و امان کی ہماری صورت حال تسلی بخش نہیں ہے۔ ڈالر ادھار لے کر رکھے ہوئے ہیں، خزانہ خالی ہے، برآمدات نام کی کوئی شے نہیں ہے، کیا ایسے میں ہمارا ملک جنگ کا متحمل ہو سکتا ہے؟۔ کالعدم تحریک طالبان برسوں سے دہشت گردی کر رہی ہے، جس کی پشت پناہی افغان طالبان کر رہے ہیں۔ ہمیں یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہے ٹی ٹی پی اور افغان طالبان ہم زبان اور ایک ہی کلچر او ثقافت کے امین ہیں۔ تحریک طالبان والوں کا افغان طالبان کے ساتھ آنا جانا آج کی بات نہیں، ان کا آنا جانا پاکستان کے وجود میں آنے سے پہلے کا لگا ہوا ہے۔ تحریک طالبان اور افغان طالبان نے مل کر روس اور امریکہ کو افغانستان سے نکلنے پر مجبور کیا۔ ہمارے ایک دوست سنیئر صحافی کئی برس قبل خوست میں اسامہ بن لادن کا انٹرویو کرنے گئے۔ اسامہ سے ان کی ملاقات تو نہ ہوسکی، مگر قندھار کے گورنر سے ملاقات ہو گئی۔ قندھار کا گورنر ایک ٹانگ سے معذور تھا، صبح جب ناشتہ آیا تو مٹی کے پیالے میں لسی اور سوکھی روٹی آئی، وہی ناشتہ گورنر نے بھی کیا۔ بھلا جو لوگ سوکھی روٹی کھا کر امریکیوں سے لڑتے ہیں انہیں کون شکست دے سکتا ہے۔ افغانستان سے ڈیورنڈ لائن کا تنازع بہت پرانا چلا آرہا تھا کہ فاٹا کے، کے پی کے میں مدغم ہونے سے معاملات اور بگڑ گئے۔ تحریک طالبان کے مطالبات پاکستان کے لئے قابل قبول نہ ہیں، چنانچہ یہی وجہ ہے ملک میں دہشت گردی میں تیزی آئی ہے۔ ہم بات کر رہے تھے امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کی، امریکہ ایرانی قیادت کی تبدیلی کا خواہاں ہے اور ایک مرتبہ پھر پہلوی خاندان کو ایران پر حکمران دیکھنا چاہتا ہے۔ ایران پر اسرائیلی حملوں کی بنیادی وجہ یہی ہے امریکہ ایران پر اپنا تسلط جمانے کا خواہاں ہے۔ اسرائیل اور امریکہ ایران پر حملہ آور ہوئے ہیں جو پاکستان کے لئے بھی کسی خطرے سے کم نہیں ہے۔ ہم داخلی انتشار کا شکار تو تھے ہی اب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت سے پیدا ہونے والی صورت حال کو ہوش مندی سے کنٹرول کرنے کی ضرورت تھی کہ کراچی گلگت بلستان اور دیگر شہروں میں مظاہرین کی شہادتوں نے صورت حال یکسر بدل دی ہے۔ بھلا اگر وہ توڑ پھوڑ نہیں کر رہے تھے تو گولی مارنے کی کیا تک تھی۔ کیا ایک مذہبی پیشوا کی شہادت پر سوگواران احتجاج نہیں کر سکتے تھے؟۔ صدر ٹرمپ نے واضح طور پر کہا ہے وہ کسی قانون کو نہیں جانتا وہ جو کہے گا وہی قانون ہوگا؟، اگر ایسی بات ہے تو پھر اقوام متحدہ کا ڈھونگ رچانے کی کیا منطق ہے، اسے بھی ختم کر دیا جائے۔ جہاں تک افغانستان کے ساتھ لڑائی کی بات ہے، ہماری ماضی کے پالیسی سازوں کی کارستیانیوں کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے، ورنہ روسی جارحیت سے پہلے افغانستان کے ساتھ معاملات معمول کے مطابق چل رہے تھے۔ پاکستان کی سب سے بڑی غلطی افغان پناہ گزینوں کو شہروں میں آباد کرنا تھا، ورنہ ایران میں ہم سے زیادہ افغان پناہ گزیں تھے، جنہیں ایک دن کے لئے ایران نے مہاجر کیمپوں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں تھی اور انہیں وہیں سے واپس وطن بھیجا ہے۔ چلیں شہروں میں آبادی کاری کی غلطی ہوگئی، پھر انہیں قومی شناختی کارڈ دے دیئے گئے۔ اللہ کے بندوں وہ اب کیسے یہاں سے نکلیں گے، جنہوں نے بڑی بڑی جائیدادیں اور کاروبار سنبھال لئے ہیں۔ افغانستان کے ساتھ جنگ تو ہے ہی ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملوں سے ہم کیسے محفوظ رہ سکیں گے، جس کے اثرات آنے والے وقتوں میں رونما ہوں گے۔ بلوچستان اور کے پی کے میں پہلے ہی آگ لگی ہے، دہشت گرد کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے تھے کہ افغانستان کے ساتھ لڑائی شرو ع ہو گئی ہے۔ جو حکومت غیر قانونی تارکین وطن کو نکل نہیں سکتی اس سے عوام کیا توقعات رکھ سکتے ہیں۔ ہمارا ملک داخلی انتشار کا شکار ہے، جسے بہتر بنانے کے لئے سنجیدگی سے کوشش نہیں ہو رہی ہے، اللہ خیر کرے۔

جواب دیں

Back to top button