جنگ بندی کی جلدی نہیں

جنگ بندی کی جلدی نہیں
صورتحال
سیدہ عنبرین
دنیا بھر کے با غیرت مسلمانوں، شمع آزادی اور حریت کے پروانوں کی خدمت میں رہبر معظم ایران جناب آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت پیش ہے، ان میں امریکہ، اسرائیل اور بھارت کے ٹکڑوں پر پلنے والے، انکی پھینکی ہوئی ہڈیوں کو چچوڑنے والے، لبرلز، دانشور، صحافی، اینکر، لکھاری، تجزیہ کار، تجزیہ نگار اور دو سو دو نمبر دفاعی تجزیہ کار خود کو شامل نہ سمجھیں۔ دم ہلانے والے افراد کے گروہ میں شامل ان افراد کو جب جناب خامنہ ای پر حملے کی اطلاع ملی تو کسی کے منہ لفظ شہید نہ نکلا، کیونکہ ان کے آقائوں نے انہیں کہہ رکھا تھا کہ اگر انہوں نے یہ لفظ استعمال کیا تو ان کی زبانوں پر چھالے پڑ جائیں گے، اور ان کے پیٹ میں کبھی ختم نہ ہونے والا مروڑ شروع ہو جائے گا۔ پس یہ سب لوگ ہلاک، جاں بحق اور قتل کے الفاظ استعمال کرتے رہے۔ اسلام دشمن طاقتوں کی گماشتے اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگا لیں، یہ شہداء کے مرتبے اور عزت میں کمی نہیں لا سکتے، کیونکہ یہ عزت انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتو یاہو نے مختصر عرصہ میں امریکی صدر ٹرمپ سے دو ملاقاتیں کیں اور اسے یقین دلایا کہ اگر جناب آیت اللہ خامنہ ای راستے سے ہٹا دیئے جائیں تو لبرلز جوق در جوق ایران کے ہر شہر کی ہر سڑک پر نکل آئیں گے اور ٹرمپ فرمان کے مطابق اداروں پر قبضہ کرنے کے بعد خامنہ ای رجیم سے ہتھیار ڈلوا لیں گے، یوں بنا کسی بڑے حملے کے ہمارا مقصد پورا ہو جائے گا، ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے ہمارے اور آپ کے مشترکہ ایجنٹ رضا شاہ کا جہاز جب تہران ایئر پورٹ پر اترے تو ایرانی عوام کا ایک جم غفیر اس کے استقبال کیلئے وہاں موجود ہو، جو پھولوں کی پتیوں کی برسات میں اسے صدارتی محل تک لے کر جائے اور مسند اقتدار پر بٹھا دیئے۔ ٹرمپ نے یہ بات غور سے سنی اور اسے بتایا کہ امریکی جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین کا تجزیہ کچھ اور ہے، ان کے مطابق رہبر معظم ایران اگر منظر سے ہٹ بھی گئے تو جب بھی ایران میں رجیم چینج نہیں ہو گی، ان کے بعد کوئی ان جیسا ہی اقتدار میں آئے گا، اور عین ممکن ہے وہ اپنی پالیسیوں کے اعتبار سے زیادہ سخت گیر ہو۔ نیتن یاہو یہ بات سن کر غصے میں آ گئے، انہوں نے امریکی جرنیل کے بارے میں کہا وہ سراسر بکواس کرتا ہے، اسے زمینی حقائق کا کچھ علم نہیں، وہ بے حد بزدل ہے، ایسے جرنیلوں کو فی الفور گھر بھیج دینا چاہئے۔ ٹرمپ، یاہو ملاقات غیر خوشگوار ماحول میں ختم ہوئی، لیکن دونوں کے درمیان ایک منصوبے پر اتفاق ہوا، جس کے مطابق طے پایا کہ جناب خامنہ ای کو مذاکرات کے بہانے کسی اور ملک بلا کر انہیں اور ان کے ساتھیوں کی پوری ٹیم کو شہید کر دیا جائے۔ اس منصوبے پر عملدرآمد کیلئے طے ہوا کہ یہ مذاکرات قطر میں رکھے جائیں، جہاں ٹرمپ اور جناب خامنہ ای کی ون ٹو ون ملاقات ہو۔ منصوبہ یہ تھا کہ جناب خامنہ ای کا جہاز ابھی فضائوں میں ہو گا تو اسے تباہ کر دیا جائے گا، اور سب کچھ سکہ رائج الوقت ’’ فنی خرابی‘‘ کے کھاتے میں ڈال دیا جائے گا۔ دوسرا منصوبہ یہ تھا کہ انہیں قطر پہنچنے کے بعد اسی طرح شہید کر دیا جائے گا جیسے مذاکرات کے دوران حماس راہنمائوں کو شہید کر دیا گیا۔ دوحہ، قطر منصوبے میں طے تھا کہ ٹرمپ اور جناب خامنہ ای ملاقات انتہائی خوشگوار ماحول میں ہو گی۔ امریکی صدر انتہائی مودبانہ رویہ اختیار کریں گے، مذاکرات میں وقفے کے دوران وہ اپنے ساتھ لے جائے گئے میڈیا سے ملاقات میں حیران کن گفتگو کرتے ہوئے کہیں گے ہم نے ایران کے ساتھ ان کی شرائط پر چلنے کا فیصلہ کیا ہے اور آج شام وہ دنیا کو حیران کن خوشخبری سنائیں گے۔ اس گفتگو کے بعد جناب خامنہ ای اپنے ساتھیوں سمیت نماز عصر کی ادائیگی کیلئے مسجد روانہ ہو جائیں گے۔ جناب ٹرمپ اور ان کے حواری مذاکرات کے مرکز سے بہت دور بغرض آرام امریکی فوجی اڈے میں چلے جائیں گے، جبکہ جناب خامنہ ای کو ان کے ساتھیوں سمیت مسجد میں حالت نماز میں شہید کر دیا جائے گا۔ پروگرام کے مطابق ٹرمپ نے آن ریکارڈ میڈیا سے بات چیت میں اعلان کیا کہ وہ جناب خامنہ ای سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں، ان کی طرف سے یہ دعوت ایرانی لیڈر کو پہنچا دی گئی، ابھی اس پر غور جاری تھا کہ جناب خامنہ ای نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کو مجھ سے ملنے کی خواہش ہے، لیکن مجھے ایسے شخص سے ملنے کی کوئی خواہش نہیں، جس کے ہاتھ بے گناہ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہوں۔ ان کے انکار سے آئندہ روز ایران کے سب سے مضبوط دوست ملک کی انٹیلی جنس ایجنسی نے نیتن یاہو، ٹرمپ سازش کی مکمل رپورٹ ایران کو پہنچا دی۔ یہ منصوبہ ناکام ہوا تو اسرائیلی وزیراعظم ایک مرتبہ پھر امریکہ دوڑا اور نئے منصوبے کو حتمی شکل دی۔ یہ منصوبہ ٹرمپ کے سامنے رکھا گیا تو ابتداء میں اس نے اس سے اختلاف کیا، لیکن نیتن ہاہو کی طرف سے ’’ ایپسٹین فائلز‘‘ کی جھلکی یا اس کا ذکر سن کر وہ اس جرم کیلئے تیار ہو گیا، جسے مسلمانان عالم اور ایرانی قوم کبھی معاف نہیں کرے گی۔ دونوں شقی القلب اور مکار ترین سربراہان مملکت آپریشن کے ذمہ داری دوسرے پر ڈالنا چاہتے تھے، تاکہ ان کا خود کا نام نہ آئے، لیکن پھر طے ہوا کہ امریکہ اور اسرائیل دونوں ملکر اس منصوبے پر عمل کریں گے، پھر جب ان کے ایجنٹوں نے انہیں اطلاع دی کہ فلاں دن اور فلاں وقت رہبر معظم جناب خامنہ ای اور ان کی ٹیم ایک مشاورتی اجلاس میں موجود ہوں گے تو ان پر حملہ کر دیا گیا، جس میں ان کے ساتھ قریباً چالیس اہم شخصیات شہید ہو گئیں۔
جناب خامنہ ای اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کے بعد بھی رجیم چینج کا مکروہ خواب پورا نہ ہو سکا۔ یہ شہداء کے لہو کا اعجاز ہے کہ ایرانی قوم متحد تو پہلے بھی تھی لیکن اب انہوں نے اسرائیلی استعمار کو نیست و نابود کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ فرزندان خامنہ ای اس شان سے میدان جنگ میں اترے ہیں کہ انہوں نے فقط چار روز میں دشمنوں کا منہ پھیر دیا ہے، آج نیتن یاہو کہاں ہے، کوئی نہیں جانتا، جبکہ ڈونلڈ کی طرف سے اس کے مختلف حواری جنگ بندی کے پیغامات لے کر آ رہے ہیں۔ ایران نے جنگ بندی کی تمام پیشکشوں کو ٹھکرا دیا ہے، اور دو ٹوک اعلان کیا ہے کہ حتمی اہداف حاصل ہونے تک جنگ جاری رہے گی، ہمیں جنگ بندی کی کوئی جلدی نہیں۔ ایران پر حملے کے نتیجے میں کئی گفتار کے غازی اور اسلام دشمن بے نقاب ہوئے ہیں۔





