Column

دھول، دھواں اور وعدوں کا سفر

دھول، دھواں اور وعدوں کا سفر
تحریر : جاوید اقبال
کراچی ایک ایسا شہر ہے جو وعدوں پر زندہ رکھا گیا ہے۔ ہر چند برس بعد ایک نیا منصوبہ، ایک نئی اسکیم، ایک نیا خواب شہریوں کے سامنے رکھا جاتا ہے، اور پھر وہ خواب مٹی، گرد اور کھدائی کے ڈھیروں میں دفن ہوتا چلا جاتا ہے۔ ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبہ بھی کچھ ایسا ہی خواب تھا بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اسے خواب سے بڑھ کر انقلاب کا نام دیا گیا۔ حالیہ دنوں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے نیپا چورنگی پر منصوبے کا جائزہ لیتے ہوئے فرمایا کہ ریڈ لائن کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام میں انقلابی تبدیلی لائے گی اور ٹھیکیداروں کو ہدایت کی کہ مئی 2026ء تک مکسڈ ٹریفک لینز مکمل کی جائیں۔ سوال یہ نہیں کہ ہدایت دی گئی یا نہیں، سوال یہ ہے کہ اس ہدایت کی نوبت کیوں آئی؟
ریڈ لائن منصوبے کا خیال کوئی اچانک پیدا ہونے والی سوچ نہیں تھا۔ کراچی میں بڑھتے ہوئے ٹریفک دبا، بسوں کی کمی اور شہری نقل و حرکت کے بحران کے پیش نظر ایک جدید بس ریپڈ ٹرانزٹ نظام کی ضرورت کئی برسوں سے محسوس کی جا رہی تھی۔ اسی تناظر میں 2017ء کے آس پاس اس منصوبے کا تصور سامنے آیا۔ بعد ازاں اسے باقاعدہ شکل دی گئی، غیر ملکی مالیاتی اداروں خصوصاً ایشیائی ترقیاتی بینک کی معاونت حاصل کی گئی اور اسے شہر کے اہم ترین کوریڈور، یونیورسٹی روڈ، پر تعمیر کرنے کا فیصلہ ہوا۔ اس سڑک کو چنا بھی گیا تو اس لیے کہ یہ کراچی کی تعلیمی، رہائشی اور تجارتی سرگرمیوں کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے۔ مگر شاید کسی نے یہ نہیں سوچا کہ اگر اسی ریڑھ کی ہڈی کو برسوں کے لیے کاٹ کر رکھ دیا جائے تو پورا جسم مفلوج ہو سکتا ہے۔
عملی طور پر تعمیراتی کام 2022ء میں شروع ہوا۔ اس وقت سرکاری دعویٰ تھا کہ تقریباً ڈھائی سال میں منصوبہ مکمل کر لیا جائے گا۔ یوں اندازہ تھا کہ 2024ء کے وسط تک شہری جدید بسوں میں سفر کر رہے ہوں گے۔ لیکن آج 2026ء کی تاریخ دی جا رہی ہے، اور اس کے باوجود بھی تکمیل یقینی نہیں دکھائی دیتی۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ ایک 30ماہ کا منصوبہ چار پانچ برس کی داستان بن گیا؟
حکومت کی جانب سے مختلف وجوہات بیان کی جاتی رہی ہیں۔ کبھی کہا گیا کہ یوٹیلٹی لائنز کی منتقلی میں وقت لگا، کبھی مہنگائی اور ڈالر کی قیمت میں اضافے کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا، کبھی ٹھیکیداروں کے مسائل کا ذکر ہوا اور کبھی انتظامی رکاوٹوں کا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان تمام وجوہات میں سچائی کا عنصر ضرور ہوگا، مگر اصل مسئلہ منصوبہ بندی کی کمزوری اور پیشگی تیاری کا فقدان تھا۔ اگر یونیورسٹی روڈ کے نیچے پانی، گیس اور سیوریج کی پرانی لائنیں موجود تھیں تو کیا یہ معلومات تعمیر شروع ہونے سے پہلے دستیاب نہیں تھیں؟ اگر لاگت میں اضافہ ممکن تھا تو کیا اس کا تخمینہ پہلے نہیں لگایا جا سکتا تھا؟ اگر ٹھیکیداروں کی اہلیت کا سوال تھا تو کیا معاہدہ کرتے وقت مکمل چھان بین نہیں کی گئی؟
ان سوالات کا کوئی تسلی بخش جواب آج تک عوام کو نہیں ملا۔
اس تاخیر کا سب سے بڑا بوجھ شہریوں نے اٹھایا ہے۔ یونیورسٹی روڈ جو کبھی بھی ٹریفک کے لحاظ سے آسان سڑک نہیں تھی، اب ایک مستقل اذیت بن چکی ہے۔ روزانہ ہزاروں گاڑیاں متبادل راستوں کی تلاش میں گلیوں میں گھس جاتی ہیں۔ رکشہ، موٹر سائیکل، بسیں اور کاریں ایک دوسرے میں الجھ کر رہ جاتی ہیں۔ چند کلومیٹر کا سفر گھنٹوں پر محیط ہو جاتا ہے۔ طلبہ امتحانات کے لیے دیر سے پہنچتے ہیں، مریض اسپتالوں تک بروقت نہیں پہنچ پاتے، ملازمین دفتر کے اوقات سے محروم ہو جاتے ہیں۔ ایندھن کا ضیاع الگ ہے، ذہنی دبائو الگ۔
گرد و غبار نے صورت حال کو مزید خراب کر دیا ہے۔ کھدائی کے باعث مٹی کے بادل روزانہ فضا میں تحلیل ہوتے ہیں۔ سانس کے مریضوں کے لیے یہ راستہ کسی عذاب سے کم نہیں۔ دکان داروں کی کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو چکی ہیں۔ گاہک پارکنگ نہ ملنے اور ٹریفک کے خوف سے ادھر کا رخ ہی نہیں کرتے۔ کئی چھوٹے کاروبار بند ہو چکے ہیں یا خسارے میں جا چکے ہیں۔ کیا کسی نے ان متاثرین کا باقاعدہ سروے کیا؟ کیا انہیں کوئی معاوضہ یا ریلیف دیا گیا؟ یہ سوال بھی تشنہ ہیں۔
پانی اور سیوریج کا مسئلہ اس منصوبے کی سب سے تکلیف دہ جہت ہے۔ متعدد بار مین لائنوں کو نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں کئی علاقوں میں پانی کی فراہمی معطل ہوئی۔ لوگ ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر آگئے۔ گھریلو خواتین کو پانی ذخیرہ کرنے کے لیے اضافی انتظامات کرنا پڑے۔ اسکولوں اور دفاتر میں بیت الخلا کے مسائل پیدا ہوئے۔ سیوریج لائنوں کی بروقت بحالی نہ ہونے سے گٹر ابلنے لگے، سڑکوں پر بدبو پھیل گئی، اور بارش کے دنوں میں کیچڑ اور گندا پانی معمول بن گیا۔ کھلے مین ہول اور غیر محفوظ کھدائیاں حادثات کا سبب بنیں۔ یہ سب کچھ اس شہر میں ہو رہا تھا جسے ملک کی معاشی شہ رگ کہا جاتا ہے۔
حکومت کی غیر سنجیدگی کا تاثر اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب بیانات اور زمینی حقائق میں تضاد ہو۔ اگر واقعی منصوبہ ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنا مقصود تھا تو کیا وجہ ہے کہ برسوں تک رفتار سست رہی؟ کیوں بار بار نئی تاریخ دی جاتی رہی؟ کیوں ہر دور میں کہا گیا کہ بس چند ماہ باقی ہیں؟ عوام اب تاریخوں پر نہیں، نتائج پر یقین کرنا چاہتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ کراچی کو جدید پبلک ٹرانسپورٹ کی اشد ضرورت ہے۔ اگر ریڈ لائن مکمل ہو جاتی ہے تو یقیناً ہزاروں افراد کو روزانہ کی بنیاد پر بہتر سفری سہولت ملے گی۔ ایندھن کی بچت ہوگی، ٹریفک کا دبا کم ہوگا، اور ماحولیات پر مثبت اثر پڑے گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کسی بھی اچھے منصوبے کو ناقص عملدرآمد کے ذریعے عوام کے لیے عذاب بنانا درست حکمت عملی ہے؟
اچھی حکمرانی کا مطلب صرف منصوبے شروع کرنا نہیں، بلکہ انہیں بروقت اور کم سے کم عوامی تکلیف کے ساتھ مکمل کرنا ہے۔ شفاف ٹائم لائن، پیشگی تیاری، اداروں کے درمیان مثر رابطہ، اور عوام سے مسلسل رابطہ یہ سب عناصر ایک کامیاب ترقیاتی منصوبے کی بنیاد ہوتے ہیں۔ اگر یہ بنیادیں کمزور ہوں تو عمارت کتنی ہی خوبصورت کیوں نہ ہو، دیرپا نہیں ہوتی۔
ریڈ لائن کا معاملہ صرف ایک بس منصوبے کا نہیں، بلکہ حکومتی ترجیحات اور سنجیدگی کا امتحان ہے۔ کیا شہریوں کی مشکلات کو وقتی تکلیف سمجھ کر نظر انداز کیا جاتا رہے گا؟ یا ان تکالیف کو کم کرنے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کیے جائیں گے؟ مئی 2026ء کی نئی ڈیڈ لائن بھی اسی وقت معتبر ہوگی جب اس کے ساتھ واضح پیش رفت، روزانہ کی نگرانی اور شفاف رپورٹنگ سامنے آئے گی۔
کراچی کے عوام نے صبر کی طویل داستان لکھی ہے۔ اب وہ صرف وعدے نہیں، عمل دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر حکومت واقعی اس منصوبے کو انقلاب سمجھتی ہے تو اسے چاہیے کہ اسے عوام کے لیے اذیت نہیں، آسانی کا ذریعہ بنائے۔ ورنہ یہ منصوبہ تاریخ میں ایک اور ادھورا خواب بن کر رہ جائے گا، اور شہری ایک بار پھر کسی نئے اعلان کے منتظر ہوں گے اس امید کے ساتھ کہ شاید اگلی بار خواب حقیقت بن جائے۔

جواب دیں

Back to top button