ایران کے بحران کا سپل اوور

ایران کے بحران کا سپل اوور
تحریر : قادر خان یوسف زئی
یہ وقت کی ایک ایسی دہلیز ہے جہاں مشرق وسطیٰ کی ریت ایک بار پھر عالمی طاقتوں کے تصادم کے نتیجے میں بارود اور خون کی بو سے رچی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔ 28فروری 2026ء کی تاریخ محض ایک ہندسہ نہیں رہی، بلکہ یہ وہ دن ہے جب ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی امریکی اور اسرائیلی حملوں کے تناظر میں وفات کی تصدیق نے ایک پورے خطے کی جیو پولیٹیکل بنیادوں میں ایسا زلزلہ برپا کیا ہے جس کے جھٹکے ہماری سرحدوں پر بھی شدت سے محسوس کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان، جو پہلے ہی اپنے اندرونی اور بیرونی محاذوں پر بقا اور استحکام کی ایک کٹھن جنگ لڑ رہا ہے، آج عالمی بساط پر ایک ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں معمولی سی لغزش بھی ایک ہولناک تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ وقت ٹیلی ویژن سکرینوں پر بیٹھ کر جذباتی نعرے لگانے کا نہیں، بلکہ زمینی حقائق کو انتہائی باریک بینی اور حقیقت پسندانہ نظر سے دیکھنے کا تقاضا کرتا ہے۔ ایک طرف تہران کے ساتھ ہماری نو سو کلومیٹر طویل سرحد اور صدیوں پر محیط تہذیبی و مذہبی رشتے ہیں، تو دوسری جانب خلیجی ممالک کی وہ ناگزیر اقتصادی لائف لائن ہے جس کے بغیر پاکستان کے معاشی پہیے کا چلنا محال ہو جاتا ہے۔
اس جاری ایران، امریکہ اور اسرائیل تنازع میں پاکستان نے تزویراتی غیر جانبداری اور انتہائی محتاط سفارت کاری کا جو راستہ اپنایا ہے، وہ کوئی انتخاب نہیں بلکہ ہماری جغرافیائی اور معاشی مجبوریوں کا حتمی نتیجہ ہے۔ اسلام آباد نے واضح الفاظ میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51کے تحت ایران کے اپنے دفاع کے حق کی غیر متزلزل حمایت کی ہے اور اسرائیلی و امریکی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے بیانات اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور مذاکرات کا سب سے بڑا حامی ہے۔ مگر سفارتی توازن کی اس کٹھن رسی پر چلتے ہوئے، پاکستان کو ان ایرانی میزائل حملوں کی بھی کھل کر مخالفت کرنی پڑی جو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، اردن، کویت اور قطر جیسے برادر عرب اور ہمارے اہم ترین مالیاتی پشت پناہوں پر کیے گئے۔ یہ محض ایک روایتی سفارتی بیان بازی نہیں تھی، بلکہ وزیراعظم کا سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے براہ راست رابطہ اور خلیجی ریاستوں کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ، اس امر کا غماز ہے کہ ہم اپنے عرب اتحادیوں کو اس مشکل گھڑی میں تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔
لیکن اس تنازع کی تپش محض سرحدوں اور سفارتی راہداریوں تک محدود نہیں رہتی۔ پاکستان کے لیے یہ جنگ ایک ایسا عفریت بن سکتی ہے جو اس کے اندرونی سیکیورٹی چیلنجز کو کئی گنا بڑھا دے۔ 2022ء کے بعد سے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں عسکریت پسندی کی لہر پہلے ہی ریاستی وسائل اور ہماری بہادر افواج کا کڑا امتحان لے رہی ہے۔ ہماری معیشت، جو پہلے ہی بدترین مالیاتی خسارے اور بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے سسک رہی ہے، کسی نئے افغان طرز کے ایرانی مہاجرین کے سیلاب کی ہرگز متحمل نہیں ہو سکتی۔ اس کے ساتھ ہی، فرقہ وارانہ کشیدگی کا وہ جن جسے ریاست نے بڑی مشکل اور قربانیوں کے بعد بوتل میں بند کیا تھا، ایران کے حق میں اٹھنے والے اندرونی جذبات اور خلیجی ممالک کی ریاستی حمایت کے باعث دوبارہ سر اٹھا سکتا ہے۔اس سنگین علاقائی منظر نامے میں، پاکستان کی مشرقی اور مغربی سرحدوں پر لگی آگ نے ہماری دفاعی افواج کو پہلے ہی انتہائی حد تک کھینچ رکھا ہے۔ گو کہ پاکستان اس وقت بھارت یا افغانستان کے ساتھ کسی باقاعدہ اور روایتی جنگ میں نہیں ہے، لیکن کشیدگی کا پارہ مستقل سرخ نشان کو چھو رہا ہے۔
2025ء میں بھارت کی جانب سے پاکستان کے اندر کی گئی اشتعال انگیز کارروائی، جسے ‘آپریشن سندور’ کا نام دیا گیا، نے دونوں ایٹمی قوتوں کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔ یہ دھمکیاں اور تنائو 2026ء کے اس کٹھن دور میں بھی بدستور جاری ہیں۔ دوسری جانب مغربی سرحد پر افغانستان کے ساتھ حالات بدترین نہج پر پہنچ چکے ہیں۔ کابل اور قندھار میں کالعدم ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر پاکستانی فضائی حملوں کے بعد، جس میں دونوں جانب سے درجنوں ہلاکتیں ہوئیں، سرحد پار جھڑپیں اور فائرنگ ایک خونریز معمول بن چکی ہے۔ ان دفاعی کارروائیوں میں پاکستان کو امریکہ کی جانب سے حقِ خود ارادیت کے تحت باقاعدہ حمایت بھی حاصل رہی ہے، لیکن مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند ہیں۔ ان دو سلگتے ہوئے محاذوں کی موجودگی میں، ایران کے بحران کا سپل اوور یعنی اس کی آگ کا پاکستان کی طرف پھیلنا ایک ایسا ڈرانا خواب ہے جس کا تصور ہی لرزا دینے والا ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای کی وفات کے بعد کا ایران ایک ایسا سیاسی اور سماجی آتش فشاں ہے جس کا لاوا کسی بھی سمت بہہ کر پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ جنوری 2026ء کے حالیہ مظاہروں میں ہونے والی 3100سے 6000تک ہلاکتیں اس امرکا خونچکاں ثبوت ہیں کہ ایرانی معاشرے کے اندر کتنا گہرا غصہ اور لاوا پک رہا ہے۔ اب جب کہ سپریم لیڈر کا سایہ نہیں رہا، اقتدار کی کشمکش کے تین ممکنہ راستے دیکھ جارہے ہیں۔ یا تو اقتدار خاموشی سے کسی سخت گیر رہنما جائے ،جس کی تیاریاں پہلے سے جاری تھیں، اگر بغاوت کی لہر اٹھے تو پھر پاسداران انقلاب ( آئی آر جی سی) براہ راست ملک کا کنٹرول سنبھال کر ایک سخت گیر فوجی آمریت قائم کر لیں تاکہ بیرونی خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔ تیسرا اور سب سے خطرناک راستہ یہ ہے کہ ملک مسلسل مظاہروں، ہڑتالوں اور طاقتور حلقوں کے اندرونی خلفشار کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے، جسے حالیہ غیر ملکی حملے مزید تیز کر سکتے ہیں۔ اس سارے منظر نامے میں کسی اعتدال پسند قیادت، جیسے حسن خمینی، کے ابھرنے کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس عدم استحکام کا براہ راست اور فوری اثر پاکستان پر مرتب ہو رہا ہے۔ خامنہ ای کی موت کے فوراً بعد، ایک ایرانی صحافی کی جانب سے یہ انتباہ سامنے آنا کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں اور اس کے عالمی اتحادوں کے باعث اسرائیل اس جنگ کا دائرہ پاکستان تک پھیلا سکتا ہے، اسلام آباد کے پالیسی سازوں کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔
بھارت جو پہلے ہی مشرقی سرحد پر خنجر تانے کھڑا ہے اور افغانستان جو مغربی سرحد پر ناسور بنا ہوا ہے، ان کے ساتھ مل کر ایک امریکی نواز ایران پاکستان کے گرد ایک ایسا تزویراتی گھیرا تنگ کرے گا جس سے نکلنا محال ہوگا۔ پاکستان کے اندر وہ حلقے جو ایران کے ساتھ مذہبی ہم آہنگی رکھتے ہیں، اس نئی تبدیلی کو شیعہ ایران کے ساتھ غداری سے تعبیر کریں گے جس سے ملک میں شدید فرقہ وارانہ فسادات اور عدم استحکام جنم لے گا۔ خلیجی ریاستیں شاید ایک امریکی نواز ایران کو اپنے لیے سکھ کا سانس سمجھیں، لیکن پاکستان کو مجبوراً چین اور سعودی عرب کے کیمپ میں مکمل طور پر جھکنا پڑے گا، جس سے اس کی اپنی آزادانہ خارجہ پالیسی ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائے گی۔ آج پاکستان جس نازک دوراہے پر کھڑا ہے، وہاں ایک غلط قدم، ایک جذباتی فیصلہ یا ایک غیر محتاط بیان ہماری تاریخ، جغرافیے اور بقا کو دائو پر لگا سکتا ہے۔ وقت کا اولین تقاضا ہے کہ ہم بحیثیت قوم اور ریاست، اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور معاشی طور پر خود انحصاری کی طرف قدم بڑھائیں، کیونکہ کمزور معیشت کے ساتھ لڑی جانے والی سفارت کاری ہمیشہ سمجھوتوں پر ختم ہوتی ہے۔





