دنیا ایک کشتی کا اکھاڑا

دنیا ایک کشتی کا اکھاڑا
تحریر ، محمد محسن اقبال
قدیم تاریخ کے اوراق میں کشتی محض طاقت کا مقابلہ نہ تھی بلکہ ایک مہذب فن تھا، جس کے اصول مقدس قانون کی حیثیت رکھتے تھے۔ اس کے مقابلے شان و شوکت اور باوقار رسم و رواج کے ساتھ منعقد ہوتے تھے۔ اکھاڑا وہ جگہ تھا جہاں جرات کا سامنا کردار سے ہوتا تھا۔ شکست کھانے والا پہلوان وقار کے ساتھ اپنی ہار تسلیم کرتا، اپنے حریف کی مہارت کا اعتراف کرتا، اور فاتح اپنی کامیابی کا جشن غرور سے نہیں بلکہ روایت کے مطابق مناتا تھا۔ یہ رقابت کا منظر ضرور تھا، مگر اس میں ضبط اور شرافت کی جھلک نمایاں رہتی تھی۔ عزت و وقار اس کھیل کی روح تھے اور مقابلہ اسی وقت ختم ہوتا جب ایک فریق خندہ پیشانی سے شکست قبول کر لیتا۔مگر وقت کے ساتھ یہ باوقار کھیل بے لگام تماشے میں بدل گیا۔ جو مقابلہ کبھی اصولوں کا پابند تھا، وہ آہستہ آہستہ نام نہاد فری اسٹائل کشتی میں ڈھل گیا۔ جب شکست قریب آتی دکھائی دیتی تو ایسے ہتھکنڈے اختیار کیے جاتے جو کھیل کی روح کے سراسر منافی تھے۔ منیجر، کوچ یا کوئی ساتھی اچانک اکھاڑے میں کود پڑتا، اور جو پہلوان فتح کے دہانے پر ہوتا، اسے کرسی یا لوہے کی کسی چیز سے وار کر کے یقینی کامیابی کو شکست میں بدل دیا جاتا۔ تماشائی ایک من گھڑت نتیجے پر تالیاں بجاتے رہتے، جبکہ منصفانہ مقابلے کی روح کینوس پر لہولہان پڑی ہوتی۔ اصول لچکدار ہو گئے، کھیل تماشہ بن گیا، اور طاقت نے انصاف کی جگہ لے لی۔
2007ء میں ٹی وی اسکرینوں پر ایسے ہی مناظر دکھائی دئیے جب ایک ارب پتی کاروباری شخصیت اور کشتی کے شوقین ڈونلڈ ٹرمپ ایک منیجر کے طور پر رنگ میں نظر آئے، جہاں وہ مداخلت اور ڈرامائی الٹ پھیر سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ اس وقت یہ سب محض تفریح معلوم ہوتا تھا۔ مگر تاریخ اکثر تماشے اور حکمرانی کے درمیان لکیر کو دھندلا دیتی ہے۔ وقت نے پلٹا کھایا اور یہی شخصیت امریکہ کے صدر کے منصب پر فائز ہوئی۔ مبصرین نے محسوس کیا کہ شاید وہ سیاست اور اقتدار کو بھی ایک اکھاڑے کے طور پر دیکھتے تھے، ایسا اکھاڑا جہاں اچانک چالیں، عوامی ڈرامہ بازی اور غلبے کی خواہش خاموش سفارت کاری پر حاوی رہتی ہے۔
امن کے نوبل انعام کے حصول کی تمنا میں جنگیں رکوانے اور تاریخی مفاہمتیں کرانے کے دعوے کیے گئے۔ مگر جب یہ خواہش پوری نہ ہوئی یا عالمی اعتراف میسر نہ آیا تو لہجہ سخت ہوتا دکھائی دیا۔ اقتصادی پابندیاں دبا کے ہتھیار بن گئیں، ٹیرف سیاسی اشارے بنے، اور اتحاد مفاداتی ترازو میں تولے جانے لگے۔ اس فضا میں خودمختاری گویا قابلِ سودا بن گئی۔ جب کوئی حکومت ہم آہنگی سے انکار کرتی تو دبا بڑھا دیا جاتا۔
کچھ مواقع پر رہنماں کو ڈرامائی انداز میں اقتدار سے ہٹا دیا گیا۔ بعض کو تو ان کے گھروں سے اٹھا لیا گیا، جیسے اکھاڑے سے کسی پہلوان کو گھسیٹ کر باہر کر دیا جاتا ہے۔ جہاں ترغیب ناکام ہوئی وہاں’’ رجیم چینج‘‘ کی زبان استعمال ہوئی، اور جہاں مزاحمت برقرار رہی وہاں فوجی مداخلت کی گھن گرج سنائی دینے لگی۔ توانائی کے وسائل سے مالا مال خطے ایسے میدان بن گئے جہاں غلبے کی نئی حد بندیاں کھینچی گئیں۔
ایران پر حالیہ حملے کو بہت سے مبصرین اسی حکمتِ عملی کی واضح مثال قرار دیتے ہیں۔ اسی دوران سابق شاہ کے بیٹے رضا پہلوی کی سیاسی منظرنامے میں دوبارہ نمودار ہونے سے نظام کی تبدیلی کی قیاس آرائیاں زور پکڑنے لگیں۔ یہ منظر ماضی کی ان مداخلتوں کی یاد تازہ کرتا ہے جہاں استحکام اور سلامتی کے نام پر گہرے اسٹریٹجک مقاصد چھپے ہوتے تھے۔ تیل کی گزرگاہیں، سمندری راستے اور جغرافیائی اتحاد ان کشمکشوں کی پوشیدہ بنیادیں ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ کارروائی سے قبل غیر ملکی اثاثوں سے اہم افراد اور اثاثوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر لیا جاتا ہے، مگر جو آگ بھڑکتی ہے وہ عام انسانوں کے گھروں کو جلاتی ہے، نہ کہ طاقت کے ایوانوں کو۔ایران سے آگے، اسٹریٹجک بساط پورے جنوبی ایشیا میں پھیلی ہوئی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم کے اسرائیل کے دورے کے بعد اسرائیل اور بھارت کے درمیان صف بندی کے تناظر میں پاکستان میں خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ جس سے پاکستان کو افغانستان کی غیر مستحکم سرزمین کے ذریعے دبا اور پراکسی کشمکش کے نئے باب کھل سکتے ہیں۔ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق سفارتی ملاقاتوں میں ہونے والی مفاہمتیں وسیع تر اسٹریٹجک تعاون کا پیش خیمہ ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات نہ صرف ایران بلکہ پاکستان کی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس جدید’’ گریٹ گیم‘‘ کے تحت پورا خطہ بارود کی بو سے معطر ہو چکا ہے۔
خلیجی خطہ جوابی کارروائیوں کا میدان بنتا جا رہا ہے۔ امریکی فوجی اڈے ممکنہ ہدف بن چکے ہیں۔ جب ایران ان اڈوں کو نشانہ بناتا ہے تو تصادم کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر ایران اور ان خلیجی ریاستوں کے درمیان براہِ راست ٹکرائو ہوا جہاں غیر ملکی اڈے قائم ہیں تو یہ محدود حملہ ایک علاقائی آگ میں بدل سکتا ہے۔ ایسی صورت میں مسلم ممالک ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہو سکتے ہیں، شہر میدانِ جنگ بن سکتے ہیں، اور نوجوان ایسی لڑائی کا ایندھن بن سکتے ہیں جو ان کی اپنی نہ ہو۔ مسلمان، مسلمانوں کے مقابل کھڑے ہوں گے، جبکہ اس کشمکش کے معمار دور بیٹھ کر منظر دیکھیں گے۔اس ضمن میں تاریخ ایک تلخ مثال پیش کرتی ہے۔ عراق پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا الزام لگا کر حملہ کیا گیا۔ ایک ریاست تباہ کر دی گئی۔ ادارے بکھر گئے، معاشرہ ٹوٹ گیا۔ بعد ازاں دنیا کو بتایا گیا کہ ایسے ہتھیار موجود ہی نہ تھے۔ اس مداخلت کے زخم آج بھی تازہ ہیں۔ ایران کو درپیش صورت حال اسی کہانی کی بازگشت معلوم ہوتی ہے، اور یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ہم نے ماضی سے کچھ سیکھا بھی ہے یا نہیں؟
ہمارے عہد کا المیہ یہ ہے کہ عالمی سیاست ایک بگڑے ہوئے کشتی کے اکھاڑے میں بدلتی جا رہی ہے، جہاں مداخلت منصفانہ مقابلے کی جگہ لے لیتی ہے، اقتصادی دبائو مکالمے کا نعم البدل بن جاتا ہے، اور ڈرامائی انداز حقیقی قیادت پر غالب آ جاتا ہے۔ طاقتور ممالک گویا پوری دنیا کو ایک اسٹیج سمجھتے ہیں جہاں اپنی برتری کا مظاہرہ ضروری ہے۔ اگر یہ روش جاری رہی تو کوئی بھی ملک، خواہ کتنا ہی چھوٹا یا بڑا کیوں نہ ہو، اس بھنور سے محفوظ نہ رہ سکے گا۔مسلم ممالک، جو مشترکہ تاریخ اور ایمان کے رشتے میں بندھے ہیں، ایک اہم موڑ پر کھڑے ہیں۔ تقسیم انہیں کمزور کرتی ہے، جبکہ اتحاد انہیں قوت بخش سکتا ہے۔ بیداری کا مطلب دوسروں سے دشمنی نہیں بلکہ بصیرت، حکمت اور خودمختاری کے تحفظ کا عزم ہے۔ انہیں ایسے مقابلوں کا آلہ کار بننے سے انکار کرنا ہوگا جو ان کے عوام کی فلاح کے لیے نہیں۔دنیا ایک دوراہے پر کھڑی ہے۔ یا تو وہ اسی راستے پر چلے جہاں طاقت کو حق سمجھ لیا گیا ہے اور سیاست تماشہ بن چکی ہے، یا پھر وہ اس قدیم اصول کی طرف لوٹے جہاں ضبط، عدل اور وقار کو فوقیت حاصل تھی۔ زمین کو کشتی کا اکھاڑا نہ بننے دیں جہاں اچانک وار تقدیریں بدل دیں۔ اسے امن کی گود بنائیں، جہاں قومیں تباہی میں نہیں بلکہ ترقی میں ایک دوسرے سے سبقت لے جائیں، اور جہاں فتح کا معیار تسخیر نہیں بلکہ ہم آہنگی ہو۔ کیونکہ آخرکار جبر سے حاصل کیا گیا غلبہ مٹ جاتا ہے، مگر امن کی آرزو ہر انسان کے دل میں ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔





