تاریخی غداری سے حالیہ افغان جنگ تک کا سفر

تاریخی غداری سے حالیہ افغان جنگ تک کا سفر
سعید احمد ملک
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی تاریخ ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف نصف صدی پر محیط بے مثال میزبانی کی داستانیں ہیں اور دوسری طرف سرحد پار سے برستی گولیوں، بارود کی بو اور وعدہ خلافیوں کی تلخ حقیقت۔ حالیہ سرحدی کشیدگی اور جنگی صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس فتنے کی جڑیں کابل میں نہیں بلکہ نئی دہلی میں پیوست ہیں۔ بھارت نے افغانستان کے کندھے کو استعمال کر کے پاکستان پر وار کرنے کی جو گھنائونی سازش تیار کی ہے، اس میں افغان قیادت اپنے عارضی مفاد، سیاسی بقا اور بھارتی ٹکوں کی خاطر اپنے محسن کو بیچنے پر تل گئی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ افغانستان کی یہ بے وفائی کوئی نیا قصہ نہیں ہے، بلکہ اس کی جڑیں قیامِ پاکستان کے اس دور سے جڑی ہیں جب برصغیر کے مسلمان ایک نئی ریاست کی خوشیاں منا رہے تھے۔ یہ سلسلہ اسی دن شروع ہو گیا تھا جب 14اگست 1947ء کو دنیا کے نقشے پر ابھرنے والی واحد اسلامی ایٹمی قوت، پاکستان، کو اقوامِ متحدہ میں تسلیم کیا جا رہا تھا، تو کابل وہ واحد دارالحکومت تھا جس نے پاکستان کی رکنیت کے خلاف ووٹ دے کر اپنے بغض کا اظہار کیا۔ یہ وہ پہلا موقع تھا جب افغان قیادت نے ثابت کیا کہ وہ ایک آزاد اور مستحکم پاکستان کے بجائے ایک کمزور ریاست دیکھنے کے خواہاں ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ اسے ’’ اسلامی بھائی چارہ‘‘ سمجھ کر نظر انداز کیا اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی پاکستان پر مشکل وقت آیا، کابل کی قیادت نے دشمن کا مہرہ بننا پسند کیا۔
تاریخی پس منظر میں جھانکیں تو 1960ء کی دہائی کا وہ واقعہ نہیں بھولتا جب افغان فوج نے باجوڑ پر حملہ کر کے پاکستان کی سالمیت کو براہ راست چیلنج کیا، لیکن پاکستان کی غیور افواج اور مقامی قبائل نے انہیں وہ عبرتناک شکست دی کہ وہ دہائیوں تک سنبھل نہ سکے۔ 1970ء کی دہائی میں جب سرد جنگ اپنے عروج پر تھی، کابل میں بیٹھے حکمرانوں نے سوویت یونین کی شہ پر ’’ پختونستان”‘‘کا شوشہ چھوڑ کر پاکستان کے خلاف ریشہ دوانیوں کا آغاز کیا۔ لیکن قدرت کا انتقام دیکھیے کہ 1979ء میں وہی سوویت یونین جس کی شہ پر کابل اچھل رہا تھا، خود افغانستان پر قابض ہو گیا اور افغان عوام کے پاس سر چھپانے کی جگہ نہ رہی۔ اس کڑے وقت میں بھی پاکستان نے ماضی کی تلخیاں بھلا دیں اور اپنے دروازے، اپنے شہر اور اپنے دل افغان بھائیوں کے لیے کھول دئیے۔ پاکستان نے 1979ء سے اب تک 40لاکھ سے زائد افغانوں کو پناہ دی، ہم نے اپنی روٹی بانٹی، اپنے شہروں کے انفراسٹرکچر پر ان کا حق تسلیم کیا، انہیں شناختی دستاویزات اور پاسپورٹ تک فراہم کیے تاکہ وہ دنیا بھر میں باعزت روزگار کما سکیں۔ دنیا کی تاریخ میں ایسی میزبانی کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی جہاں ایک ملک نے اپنی پوری نسل کی خوشیاں، امن اور معیشت کسی دوسرے ملک کے پناہ گزینوں کے لیے قربان کر دی ہو۔
اس بے مثال قربانی کا صلہ پاکستان کو ’’ کلاشنکوف اور ہیروئن کلچر‘‘ کی صورت میں ملا۔ جس تھالی میں افغان قیادت نے کھایا، اسی میں سوراخ کرتے ہوئے افغان سر زمین کو پاکستان کے خلاف تخریب کاری کا مرکز بننے دیا گیا۔ نائن الیون کے بعد جب امریکہ افغانستان میں داخل ہوا، تو بھارت نے اس موقع کو غنیمت جانا اور کابل میں اپنے قونصل خانوں کا ایسا جال بچھایا جس کا مقصد صرف اور صرف پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کرنا تھا۔ بھارت نے پچھلی دو دہائیوں میں افغانستان میں اربوں ڈالر کی نام نہاد ’’ تعمیراتی سرمایہ کاری‘‘ صرف اس لیے کی کہ وہاں کے تعلیمی نصاب اور میڈیا کے ذریعے نئی افغان نسل کے ذہنوں میں پاکستان کے خلاف زہر بھرا جا سکے۔ آج جو افغان سرحد پر ہمارے جوانوں کو نشانہ بناتے ہیں یا سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہیں، وہ دراصل اسی بھارتی فنڈڈ بیانیے کی پیداوار ہیں جو ڈالروں کے عوض اپنی غیرت اور اسلامی بھائی چارے کا سودا کر چکے ہیں۔ حالیہ جنگ کی اصل وجہ بھارت کی وہ ’’ پراکسی وار‘‘ ہے جس کا مقصد پاکستان کو معاشی اور دفاعی طور پر کمزور کرنا ہے۔ یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ ٹی ٹی پی (TTP)اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو افغان سر زمین پر محفوظ ٹھکانے میسر ہیں، جنہیں بھارتی خفیہ ایجنسی ’’ را‘‘ براہ راست فنڈنگ، جدید ترین اسلحہ اور انٹیلی جنس معلومات فراہم کرتی ہے۔
اسی نازک صورتحال میں پاک افواج نے جس بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت دیا ہے، اس نے دشمن کے تمام مزموم منصوبوں کو خاک میں ملا دیا ہے۔ حالیہ سرحدی جھڑپوں کے دوران جب افغان فورسز نے بھارتی شہ پر پاکستانی چوکیوں اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تو پاک فوج نے دندان شکن جواب دیتے ہوئے دشمن کی توپوں کو خاموش کر دیا۔ ہماری افواج نے نہ صرف سرحدوں پر سینہ تان کر دفاع کیا بلکہ انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز (IBOs) کے ذریعے سرحد پار بیٹھے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو تہس نہس کر دیا۔ پاک فوج کی جانب سے 2600 کلومیٹر طویل سرحد پر باڑ کی تنصیب ایک ایسا عظیم الشان معرکہ ہے جس نے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ دشوار گزار پہاڑوں اور برفیلی چوٹیوں پر چوکیوں کی تعمیر اور جدید نگرانی کے نظام نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہماری افواج دنیا کی بہترین دفاعی صلاحیت رکھتی ہیں۔ جب بھی سرحد پار سے اشتعال انگیزی کی گئی، پاک فضائیہ اور زمینی افواج کے مشترکہ آپریشنز نے دشمن کو یہ باور کرایا کہ پاکستان کی سالمیت پر آنچ آنے کی صورت میں ردعمل ایسا ہوگا کہ تاریخ اسے بھلا نہ پائے گی۔
معاشی محاذ پر بھی پاکستان کے خلاف ایک منظم جنگ لڑی گءی۔ پاکستان کا سستا آٹا، چینی، گھی اور قیمتی ڈالر مسلسل افغانستان سمگل ہوتے رہے، جس نے پاکستان کی معیشت کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق، سالانہ اربوں ڈالر کی سمگلنگ نے پاکستانی روپے کو گراوٹ کا شکار کیا اور مقامی مارکیٹ میں اشیائے خوردونوش کی قلت پیدا کی۔ جب ریاستِ پاکستان نے اس سمگلنگ کے ناسور کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے اور سرحد پر بین الاقوامی قوانین کے مطابق آمد و رفت کو منظم کرنے کی کوشش کی، تو بھارتی ایجنڈے پر عمل پیرا افغان عناصر نے اسے اپنی انا کا مسئلہ بنا کر سرحدوں پر اشتعال انگیزی شروع کر دی۔ طورخم اور چمن کے سرحدی مقامات پر بلا اشتعال فائرنگ اور پاکستانی تعمیراتی ٹیموں پر حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ کابل کی قیادت اپنے عوام کی بھلائی کے بجائے دہلی کے مزموم مقاصد کی تکمیل چاہتی ہے۔ نمک حرامی کی انتہا تو یہ ہے کہ وہ افغان کھلاڑی اور فنکار جو پاکستان کی اکیڈمیوں میں تربیت پا کر عالمی سطح پر پہنچے، وہ بھی کرکٹ کے میدانوں میں بھارتی پرچم لہراتے اور پاکستان کے خلاف نفرت پھیلاتے نظر آتے ہیں۔ یہ وہ رویہ ہے جس نے پاکستانی عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا 50سالہ احسانات کا یہی صلہ تھا؟
تاہم، اس تمام تر صورتحال میں ایک روشن پہلو یہ ہے کہ جب بات ملک کی سلامتی اور دفاع کی آتی ہے تو 24کروڑ پاکستانی ایک فولادی دیوار بن جاتے ہیں۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، نظریاتی بحثیں اپنی جگہ، لیکن وطنِ عزیز کے دفاع کے معاملے میں تمام سیاسی جماعتیں، تمام مکاتبِ فکر اور پوری قوم ایک پیج پر کھڑی ہے۔ آج پوری قوم کی زبان پر ایک ہی نعرہ ہے: ’’ سب سے پہلے پاکستان‘‘۔ پاکستانی عوام یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کی بقا ان کی افواج کی مضبوطی میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب سرحدوں پر خطرہ منڈلانے لگتا ہے تو پوری قوم اپنے تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اپنی افواج کے پیچھے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتی ہے۔ قوم کا بچہ بچہ اپنی بہادر افواج کا پشت پناہ ہے اور دشمن کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ ہم ایک ایسی قوم ہیں جسے کوئی تقسیم نہیں کر سکتا۔ ہماری فوج نے ثابت کیا ہے کہ وہ تنہا نہیں، بلکہ اسے اپنی عوام کی مکمل تائید اور محبت حاصل ہے۔ یہ بے مثال قومی یکجہتی ہی وہ ہتھیار ہے جس کے سامنے بھارت اور اس کے مہرے ہمیشہ ناکام ہوں گے۔
پاکستان نے دہائیوں تک ’’ بڑے بھائی‘‘ کا کردار ادا کیا اور ہر زخم سہہ کر بھی خاموشی اختیار کی، لیکن اب ریاست کی پالیسی دو ٹوک ہے کہ ’’ سب سے پہلے پاکستان‘‘۔ اب کسی بھی ایسے غیر قانونی شخص یا گروہ کو پاکستان کی سرزمین پر رہنے کا حق نہیں جو ہماری سلامتی کے لیے خطرہ ہو۔ پاکستان نے لاکھوں غیر قانونی افغان باشندوں کی واپسی کا جو عمل شروع کیا ہے، وہ اس بات کا واضح اعلان ہے کہ اب پاکستان کی روٹی اور امن پر صرف پاکستانیوں کا حق ہے۔ پاک افغان سرحد پر لگی باڑ اب وہ مقدس لکیر ہے جسے پار کرنے یا چھیڑنے کی کوشش کرنے والے کو عبرت کا نشان بنا دیا جائے گا۔ اب بھائی چارے کی بات صرف برابری، احترام اور بین الاقوامی سرحدوں کی پاسداری کی سطح پر ہوگی۔ افغانستان کی موجودہ قیادت کو یہ نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہیے کہ بھارت انہیں صرف ایک "ٹشو پیپر” کی طرح استعمال کر رہا ہے تاکہ خطے میں اپنے تسلط کو برقرار رکھ سکے۔ جس دن بھارت کا تزویراتی مقصد پورا ہو گیا، وہ انہیں اسی طرح تنہا چھوڑ دے گا جیسے ماضی کی سپر پاورز نے چھوڑا تھا۔
حتمی طور پر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ حالیہ پاک افغان کشیدگی دراصل بھارت کی بچھائی ہوئی اس بساط کا حصہ ہے جس میں مہرے افغان ہیں لیکن چالیں دہلی کی ہیں۔ پاکستان نے 50سال میزبانی کی، اپنے وسائل قربان کیے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80ہزار سے زائد جانوں کا نذرانہ پیش کیا، لیکن اگر اب دشمنی کا راستہ چنا گیا ہے اور بھارتی کندھا استعمال کر کے پاکستان کے وقار پر حملہ کیا جا رہا ہے، تو پاکستان بھی اپنے دفاع اور غداروں کو دندان شکن جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ نمک حرامی کی اس داستان کا انجام اب افغانوں کو خود بھگتنا ہوگا، کیونکہ احسانات کی قیمت چکانے کا وقت اب گزر چکا ہے اور اب صرف ملکی مفاد ہی پاکستان کی ترجیح ہے۔ ہماری افواج کی قربانیاں ضائع نہیں جائیں گی اور پوری قوم اپنی فوج کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے، جو دشمنوں کی ہر چال کو کچلنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔
سعید احمد ملک







