Column

1مارچ، Zero Discrimination Day

1مارچ، Zero Discrimination Day

صفدر علی حیدری

انسانی تاریخ کے اوراق پر اگر نگاہ دوڑائی جائے تو ایک تلخ حقیقت بار بار سامنے آتی ہے: انسان نے انسان کے ساتھ امتیاز برتا ہے۔ کبھی نسل کے نام پر، کبھی رنگ کے نام پر، کبھی مذہب، زبان، جنس، ذات، طبقے یا بیماری کی بنیاد پر۔ امتیاز دراصل ایک ذہنی رویّہ ہے جو معاشرتی ڈھانچوں، قانونی نظاموں اور ثقافتی اقدار میں سرایت کر کے اجتماعی ناانصافی کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اسی پس منظر میں ہر سال یکم مارچ کو Zero Discrimination Dayمنایا جاتا ہے تاکہ دنیا کو یہ یاد دلایا جا سکے کہ مساوات کوئی نعرہ نہیں، بلکہ انسانی وقار کی بنیاد ہے۔
یہ دن بالخصوص UNAIDSکی جانب سے متعارف کرایا گیا، لیکن اس کا دائرہ کار محض ایک بیماری یا ایک طبقے تک محدود نہیں۔ یہ دراصل انسانی برابری کا عالمی منشور ہے، ایک ایسا عہد جو کہتا ہے کہ ہر انسان عزت، احترام اور مواقع کی مساوی رسائی کا حق دار ہے۔
امتیاز (Discrimination)کا مطلب ہے کسی فرد یا گروہ کے ساتھ محض اس کی شناخت کی بنیاد پر غیر مساوی یا غیر منصفانہ سلوک کرنا۔ یہ سلوک کھلے طور پر بھی ہو سکتا ہے اور پوشیدہ انداز میں بھی۔
نسلی امتیاز: کسی خاص نسل یا رنگ کے افراد کو کمتر سمجھنا۔
مذہبی امتیاز: کسی مخصوص مذہب یا فرقے کے ماننے والوں کے ساتھ تعصب برتنا۔
صنفی امتیاز: مرد و عورت یا دیگر صنفی شناخت رکھنے والوں کے ساتھ غیر مساوی سلوک۔
معاشی و طبقاتی امتیاز: غربت یا سماجی حیثیت کی بنیاد پر کم تر سمجھنا۔
صحت یا بیماری کی بنیاد پر امتیاز: خصوصاً HIV؍AIDSکے مریضوں کے ساتھ سماجی تنہائی یا حق تلفی۔ معذوری کی بنیاد پر امتیاز: جسمانی یا ذہنی معذوری رکھنے والوں کو معاشرے سے الگ کر دینا۔
یہ اور اس جیسی تمام صورتیں انسانی وقار کے منافی ہیں اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ دنیا نے نسلی اور سماجی امتیاز کے نتائج بہت بھگتے ہیں۔ جنوبی افریقہ کا نسلی امتیاز پر مبنی نظام (Apartheid)، امریکہ میں سیاہ فاموں کے خلاف امتیازی قوانین، اور مختلف ممالک میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد، یہ سب مثالیں اس بات کی گواہ ہیں کہ امتیاز کس طرح معاشروں کو تقسیم اور کمزور کر دیتا ہے۔
اقوامِ متحدہ نے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے (Universal Declaration of Human Rights)میں واضح کیا کہ تمام انسان آزاد اور برابر پیدا ہوتے ہیں۔ اسی فکر کو عملی شکل دینے کے لیے مختلف عالمی دن مقرر کیے گئے، جن میں Zero Discrimination Dayایک اہم سنگِ میل ہے۔2014ء میں UNAIDSنے اس دن کا آغاز کیا۔ ابتدا میں اس کا محور HIV؍AIDS کے مریضوں کے ساتھ ہونے والے امتیاز کو ختم کرنا تھا، لیکن جلد ہی یہ پیغام وسیع تر انسانی مساوات کا نمائندہ بن گیا۔
اس کے بنیادی مقاصد درج ذیل ہیں:
1۔ امتیازی قوانین اور پالیسیوں کے خاتمے کی آواز بلند کرنا۔
2۔ انسانی وقار کے تحفظ کو یقینی بنانا۔
3۔ تعلیم اور آگاہی کے ذریعے تعصبات کو کم کرنا۔
4۔ کمزور طبقات کو قانونی و سماجی تحفظ فراہم کرنا۔
اگر مذہبی تناظر میں دیکھا جائے تو اسلام نے14سو سال قبل مساوات کا وہ درس دیا جس کی مثال تاریخ میں کم ملتی ہے۔
قرآنِ مجید میں ارشاد ہے: ترجمہ،’’ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے‘‘۔
یہ آیت نسل، رنگ اور قبیلے کی بنیاد پر برتری کو رد کرتی ہے۔ خطبہ حجۃ الوداع میں حضور اکرمؐ نے فرمایا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، سوائے تقویٰ کے۔
یہ تعلیمات اس عالمی دن کے پیغام سے مکمل ہم آہنگ ہیں۔
امتیاز صرف قانونی یا معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک گہرا نفسیاتی بحران بھی پیدا کرتا ہے ، جیسے ، احساسِ کمتری، خود اعتمادی میں کمی، ذہنی دبائو اور ڈپریشن، سماجی علیحدگی ۔
جب کوئی فرد مسلسل امتیاز کا سامنا کرتا ہے تو وہ معاشرے سے کٹ جاتا ہے، جس سے نہ صرف اس کی ذاتی صلاحیتیں متاثر ہوتی ہیں بلکہ معاشرہ بھی اس کی خدمات سے محروم رہتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں بھی امتیاز کی مختلف شکلیں موجود ہیں: ذات پات کی بنیاد پر تفریق، خواتین کے ساتھ غیر مساوی سلوک، مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے مسائل، معذور افراد کے لیے ناکافی سہولیات۔
اگرچہ آئینِ پاکستان تمام شہریوں کو مساوی حقوق دیتا ہے، مگر عملی سطح پر ابھی بہت کام درکار ہے۔ امتیاز کے خاتمے کے لیے مضبوط قانون سازی ضروری ہے۔
امتیازی قوانین کا خاتمہ، مساوی مواقع کی فراہمی، شفاف انصاف کا نظام، قانون تبھی موثر ہوتا ہے جب اس پر عمل درآمد ہو اور عوام میں شعور بیدار ہو۔
تعلیم وہ بنیادی ذریعہ ہے جو تعصبات کو توڑ سکتی ہے۔ نصاب میں انسانی حقوق کی شمولیت، برداشت اور تنوع کی تعلیم، سماجی مکالمے کی حوصلہ افزائی، سکول اور جامعات وہ مقامات ہیں، جہاں نئی نسل کے ذہن تشکیل پاتے ہیں۔میڈیا عوامی رائے سازی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر میڈیا ذمہ داری سے کام لے تو معاشرے میں رواداری کو فروغ مل سکتا ہے۔ سوشل میڈیا بھی مثبت یا منفی دونوں اثرات ڈال سکتا ہے، اس لیے ذمہ دارانہ استعمال ضروری ہے۔ نوجوان کسی بھی معاشرے کی قوت ہیں۔ ان کا فرض ہے کہ وہ رضاکارانہ سرگرمیوں میں حصہ لیں۔ امتیاز کے خلاف آواز اٹھائیں۔ آن لائن اور آف لائن مہمات چلائیں۔ یہ سب اقدامات معاشرتی تبدیلی میں معاون ہو سکتے ہیں۔
ZeroDiscrimination Day ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خواتین، اقلیتیں، معذور افراد اور بیمار افراد خصوصی توجہ کے مستحق ہیں۔ مساوات کا مطلب یکسانیت نہیں بلکہ منصفانہ مواقع کی فراہمی ہے۔
دنیا آج بھی مختلف تنازعات، مہاجرت کے بحران، اور معاشی ناہمواریوں کا شکار ہے۔ ایسے حالات میں امتیاز کے خلاف جدوجہد مزید اہم ہو جاتی ہے۔
مستقبل کے لیے ضروری اقدامات:
1۔ عالمی تعاون کو فروغ دینا۔
2۔ انسانی حقوق کے عالمی معاہدوں پر عمل درآمد۔
3۔ مقامی سطح پر سماجی ہم آہنگی کے پروگرام۔
Zero Discrimination Day محض ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک عہد ہے، ایک عہد کہ ہم انسان کو انسان سمجھیں گے، اس کی شناخت کی بنیاد پر اس کے حقوق سلب نہیں کریں گے، اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں گے جہاں برابری صرف کتابوں میں نہیں بلکہ عملی زندگی میں بھی نظر آئے۔
امتیاز کا خاتمہ ایک دن میں ممکن نہیں، مگر ہر سال یکم مارچ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تبدیلی کا سفر جاری رکھنا ہے۔ مساوات کا خواب تبھی حقیقت بنے گا جب ہم اپنے رویّوں، قوانین اور معاشرتی ڈھانچوں میں حقیقی تبدیلی لائیں گے۔ہم جس دین کے ہیرو ہے اس نے تو مائیکرو لیول پر یعنی اپنے بچوں تک میں امتیاز برتنے کو منع فرمایا ہے ۔
سو بحیثیت مسلمان ہمارا اولین فریضہ ہے کہ ہم اپنے گھر معاشرے شہر اور ملک کی سطح پر امتیاز کے خاتمے کے لیے اپنا بھرپور کردار عملی طور پر ادا کریں تاکہ ہمارے معاشرے سے اس لعنت کا خاتمہ ہو سکے
اقبالؒ نے کہا تھا
زاہد نگاہ کم سے کسی رند کو نہ دیکھ
ناجانے اس کریم کو تو ہے کہ وہ پسند

جواب دیں

Back to top button