Column

آپریشن غضب للحق: 352

آپریشن غضب للحق: 352

طالبان ہلاک، 12جوان شہید

پاک افغان سرحد پر حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر یہ حقیقت واضح کردی ہے کہ ریاستِ پاکستان اپنی خودمختاری، جغرافیائی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتی۔ پاک فوج کے ترجمان احمد شریف چوہدری نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ آپریشن غضب للحق کے دوران سیکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد سے ملحقہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں کیں۔ ان کے مطابق کارروائیوں میں فتنہ الخوارج اور افغان رجیم سے وابستہ مجموعی طور پر 352اہلکار ہلاک جبکہ550سے زائد زخمی ہوئے۔ دشمن کی 130چوکیوں کو مکمل طور پر تباہ کیا گیا اور 26اہم چوکیاں پاکستانی فورسز کے کنٹرول میں آگئیں۔ مزید یہ کہ 171ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں بھی تباہ کی گئیں۔ ترجمان کے مطابق دشمن کی جانب سے 53مقامات پر حملوں کی کوشش کی گئی جنہیں موثر جواب دے کر پسپا کر دیا گیا۔ ایبٹ آباد اور نوشہرہ میں ڈرون حملوں کو بھی ناکام بنایا گیا۔ اس معرکے میں پاک فوج کے 12جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا جبکہ 27اہلکار زخمی ہوئے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے شہداء کی قربانی کو وطن کے دفاع کے لیے عظیم مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپریشن اپنے مقاصد کے حصول تک جاری رہے گا اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ پاک فوج کے ترجمان کی پریس کانفرنس میں پیش کیے گئے حقائق اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ سرحد پار سے منظم حملے محض اتفاقی واقعات نہیں بلکہ ایک مربوط حکمت عملی کا حصہ تھے۔ ایسے میں پاکستان کا جواب دینا نہ صرف حق بلکہ آئینی و اخلاقی ذمے داری بھی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے سرحدی علاقوں میں متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنایا۔ دشمن کی چوکیوں اور عسکری تنصیبات پر موثر کارروائی اس امر کا ثبوت ہے کہ پاکستان دفاعی پوزیشن میں محض تماشائی نہیں رہ سکتا۔ تاہم اس پورے منظرنامے کا اصل نکتہ یہ ہے کہ افغانستان کی سرزمین ایک بار پھر پاکستان مخالف عناصر کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ تحریکِ طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی)، بی ایل اے اور داعش جیسے گروہ خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور اگر انہیں ریاستی سرپرستی یا چشم پوشی حاصل ہو تو صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ پاکستان نے گزشتہ برسوں میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا، سفارتی ذرائع استعمال کیے اور برادر اسلامی ملک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی مگر جب سرحدی چوکیوں پر حملے ہوں، ڈرون دراندازی کی جائے اور شہری آبادی کو نشانہ بنانے کی کوشش ہو تو خاموشی کمزوری سمجھی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’’ آپریشن غضب للحق‘‘ کا آغاز ایک واضح پیغام ہے کہ اب زیرو ٹالرنس کی پالیسی اختیار کی جاچکی ہے۔ سیاسی قیادت کی جانب سے افواجِ پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی بھی قابلِ ذکر ہے۔ آصف علی زرداری اور شہباز شریف سمیت دیگر رہنمائوں نے جس دوٹوک انداز میں قومی سلامتی پر عدمِ سمجھوتے کا اعلان کیا، وہ داخلی استحکام کی علامت ہے۔ قومی اتفاقِ رائے دشمن کے عزائم ناکام بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ جب ریاستی ادارے اور سیاسی قیادت ایک صفحے پر ہوں تو بیرونی دبائو یا پراکسی وار کی گنجائش کم ہو جاتی ہے۔ یہ امر بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ خطے میں بڑی طاقتوں کی پراکسی سیاست نے افغانستان کو طویل عرصے سے عدم استحکام کا شکار رکھا ہے۔ نیٹو افواج کے انخلا کے بعد توقع تھی کہ افغان حکومت اپنی سرزمین کو دہشت گرد گروہوں سے پاک کرے گی اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعاون کو فروغ دے گی۔ لیکن اگر افغان طالبان رجیم پاکستان مخالف عناصر کے خلاف فیصلہ کن اقدام نہیں کرتی تو اسے نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔ ہمسائیگی کا تقاضا ہے کہ سرحد کو امن کی لکیر بنایا جائے، نہ کہ محاذِ جنگ۔ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے، لیکن امن یک طرفہ نہیں ہوتا۔ اگر گولی سرحد پار سے آئے گی تو جواب بھی وہیں دیا جائے گا۔ تاہم اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ سفارتی چینلز مکمل طور پر بند نہ کیے جائیں۔ عسکری کارروائی کا مقصد جنگ کو طول دینا نہیں بلکہ خطرات کا خاتمہ ہے۔ پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب کابل حکومت دہشت گرد گروہوں سے لاتعلقی کا عملی ثبوت دے اور سرحدی نظم و ضبط پر سنجیدگی سے کام کرے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم داخلی اتحاد کو مزید مضبوط کرے، افواجِ پاکستان کے ساتھ کھڑی رہے اور سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی جھوٹی خبروں سے ہوشیار رہے۔ دشمن کی ایک حکمت عملی معلوماتی جنگ بھی ہے، جس کا مقابلہ دانش مندی اور ذمے داری سے کرنا ہوگا۔ ریاستی بیانیے کی مضبوطی اور قومی یکجہتی ہی ہماری اصل طاقت ہے۔ اگر افغانستان واقعی ایک خودمختار اور ذمے دار ریاست بننا چاہتا ہے تو اسے دہشت گرد گروہوں کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے خطے کے امن کا انتخاب کرنا ہوگا۔ پاکستان نے اپنا موقف واضح کر دیا ہے: ہماری اولین ترجیح پاکستان اور اس کے عوام کا تحفظ ہے۔ اس اصول پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، اور جو بھی اس سرحد کو چیلنج کرے گا اسے موثر، فیصلہ کن اور یادگار جواب ملے گا۔

معاشی بہتری، خوش آئند

وزارت خزانہ کی ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ نے معیشت کے کئی اشاریوں میں بہتری کی تصویر پیش کی ہے، تاہم اعداد و شمار کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو خوش آئند پیش رفت کے ساتھ چند سنجیدہ سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔ سب سے نمایاں پہلو بیرون ملک روزگار کے لیے جانے والوں کی شرح میں 19فیصد اضافہ ہے۔ جنوری میں 75ہزار 663افراد نے بیرونی ملازمت کے لیے رجسٹریشن کرائی، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں نمایاں زیادہ ہے۔ یہ اضافہ بظاہر ترسیلات زر میں بہتری کا ذریعہ بن سکتا ہے، مگر اس کے پیچھے مقامی سطح پر روزگار کے محدود مواقع کی کہانی بھی پوشیدہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق مہنگائی میں نمایاں کمی آئی ہے اور رواں ماہ اسے 6سے 7فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ جنوری میں شرح 5.8فیصد ریکارڈ کی گئی۔ پالیسی ریٹ کم ہو کر 10.5فیصد تک آنا، روپے کی قدر کا استحکام اور آئی ٹی برآمدات میں اضافہ یقیناً مثبت اشارے ہیں۔ اسی طرح بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 4.8فیصد بہتری اور ٹیکس ریونیو میں 10.5فیصد اضافہ بھی معاشی نظم و ضبط کی علامت قرار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم تصویر کا دوسرا رخ بھی کم اہم نہیں۔ مالی سال کے پہلے سات ماہ میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری 41فیصد کمی کے ساتھ 98کروڑ ڈالر تک محدود رہی۔ برآمدات میں 5.5فیصد کمی اور درآمدات میں تقریباً 10فیصد اضافہ تجارتی توازن پر دبائو کی نشاندہی کرتا ہے۔ اگرچہ ترسیلات زر 11.3فیصد اضافے سے 23.2ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، مگر کرنٹ اکائونٹ خسارہ ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر جانا بتاتا ہے کہ بیرونی شعبے میں استحکام ابھی نازک ہے۔حکومت کی جانب سے 38ارب روپے کے رمضان ریلیف پیکیج اور زرعی شعبے کو قرضوں میں اضافے جیسے اقدامات وقتی سہارا فراہم کر سکتے ہیں، مگر پائیدار ترقی کے لیے صنعتی تنوع، برآمدات میں مسابقت اور نجی سرمایہ کاری کا فروغ ناگزیر ہے۔ نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں کمی بھی معاشی سرگرمیوں کے لیے مشکل کا باعث بن سکتی ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 48 فیصد بہتری اور نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں اضافہ کاروباری اعتماد کی عکاسی کرتا ہے، لیکن اصل امتحان یہ ہے کہ آیا یہ رجحان طویل مدت تک برقرار رہ پائے گا یا نہیں۔ معاشی استحکام کو محض اعداد و شمار کی بہتری تک محدود رکھنے کے بجائے اسے عام شہری کی زندگی میں حقیقی آسانی میں ڈھالنا ہوگا۔ اس کے لیے مزید اقدامات وقت کی اہم ضرورت محسوس ہوتے ہیں۔ حکومت کوشاں ہے، یقیناً مزید بہتری آئے گی۔

جواب دیں

Back to top button