قومی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں: فیصلہ اب کابل کو کرنا

قومی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں: فیصلہ اب کابل کو کرنا ہے
تحریر : امجد آفتاب
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات جذبات سے زیادہ تاریخ اور جغرافیے کی حقیقتوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ 1979ء میں جب سوویت یونین نے افغانستان پر چڑھائی کی تو پاکستان نے اپنی کمزور معیشت کے باوجود لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی۔ یہ صرف انسانی ہمدردی نہیں بلکہ ایک تاریخی ذمہ داری کا احساس تھا۔ بعد ازاں 2001ء میں امریکہ کی افغانستان میں مداخلت کے بعد بھی پاکستان فرنٹ لائن ریاست کے طور پر کھڑا رہا۔ اس فیصلے کی قیمت دہشت گردی، خودکش حملوں، معاشی نقصان اور ستر ہزار سے زائد جانوں کی قربانی کی صورت میں ادا کی گئی۔
یہ پس منظر اس لیے اہم ہے کیونکہ موجودہ کشیدگی کو ماضی کی روشنی میں ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ آج سب سے بڑا سوال افغان سرزمین کے استعمال کا ہے۔ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی) پاکستان میں مسلسل حملے کر رہی ہے۔ پاکستانی سکیورٹی فورسز کے جوان روزانہ کی بنیاد پر نشانہ بن رہے ہیں۔ یہ صرف سکیورٹی چیلنج نہیں بلکہ ریاستی رٹ کا مسئلہ ہے۔ کوئی بھی خودمختار ملک اس امر کی اجازت نہیں دے سکتا کہ اس کے خلاف منظم مسلح گروہ کسی ہمسایہ ملک کی سرزمین سے کارروائیاں کریں۔
پاکستان نے متعدد سفارتی اور عسکری چینلز کے ذریعے کابل کو واضح پیغام دیا کہ اسے پاکستان اور ٹی ٹی پی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ دوستی اور دہشت گردی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتیں۔ بارڈر مینجمنٹ، سرحدی باڑ، انٹیلی جنس شیئرنگ اور مذاکرات یہ سب اقدامات پاکستان کی جانب سے کیے گئے۔ مگر مسئلہ جوں کا توں ہے۔ افغان عبوری حکومت یہ موقف اختیار کرتی رہی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گی۔ تاہم زمینی حقائق اور بڑھتے ہوئے حملے اس دعوے کو کمزور کرتے ہیں۔ ریاستوں کی درمیان تعلقات بیانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے استوار ہوتے ہیں۔ اس تناظر میں خطے کی بڑی طاقتوں کی صف بندی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت کی افغانستان میں بڑھتی ہوئی سفارتی موجودگی اور ماضی کی خفیہ سرگرمیوں کا ریکارڈ پاکستان کے خدشات کو تقویت دیتا ہے۔ اگر افغان سرزمین پاکستان کے خلاف پراکسی اسٹریٹجی کے لیے استعمال ہو رہی ہے تو یہ علاقائی استحکام کے لیے خطرناک پیش رفت ہوگی۔
پاکستان کی حالیہ جوابی کارروائیاں اسی وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ دکھائی دیتی ہیں، جس کا مقصد واضح سرخ لکیر کھینچنا ہے: قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ پاکستان کے لیے یہ معاملہ صرف سرحدی سلامتی کا نہیں بلکہ اندرونی استحکام، معاشی بحالی اور علاقائی رابطہ کاری کا بھی ہے۔ چین، پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) جیسے منصوبے، وسط ایشیائی ریاستوں تک رسائی اور علاقائی تجارت کا خواب اسی وقت ممکن ہے جب مغربی سرحد پر استحکام ہو۔
سوال یہ نہیں کہ پاکستان کیا چاہتا ہے، پاکستان نے بارہا واضح کیا ہے کہ وہ باعزت اور پائیدار امن کا خواہاں ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کابل کیا چاہتا ہے؟ کیا وہ ایک ذمہ دار ہمسایہ ریاست کے طور پر بین الاقوامی برادری میں مقام بنانا چاہتا ہے یا غیر ریاستی عناصر کے بوجھ تلے اپنی ساکھ مزید کمزور کرے گا؟ ریاستی صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ پاکستانی قوم اپنے جوانوں کی روزانہ شہادت کو معمول کا واقعہ تسلیم نہیں کر سکتی۔ امن یکطرفہ نہیں ہوتا، اعتماد یکطرفہ نہیں بنتا اور قربانیاں بھی یکطرفہ نہیں دی جاتیں۔
اب فیصلہ کابل کے ہاتھ میں ہے۔ اگر افغان حکومت واقعی علاقائی استحکام چاہتی ہے تو اسے عملی اور قابلِ تصدیق اقدامات کرنے ہوں گے۔ بصورتِ دیگر پاکستان اپنے دفاع کا حق استعمال کرنے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔ پاکستان امن کا خواہاں ہے مگر کمزوری کا تاثر دینے کے لیے تیار نہیں۔ گیند اب کابل کے کورٹ میں ہے۔







